ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 54

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫ یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ عنقریب ایسے لوگ لائے گا کہ وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے
En
اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو ﻻئے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وه بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وه نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راه میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواه بھی نہ کریں گے، یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت واﻻ اور زبردست علم واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ:} اﷲ تعالیٰ جو ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ جانتا ہے، اسے پہلے ہی سے معلوم تھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بہت سے عرب قبائل اسلام سے مرتد ہو جائیں گے، اس لیے اس نے آئندہ سے متعلق یہ آیت پہلے ہی نازل فرما دی۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو تین مقامات مکہ، مدینہ اور بحرین کے علاوہ تمام علاقوں سے عرب قبائل کے مرتد ہونے کی خبریں آنے لگیں۔ وہ کہنے لگے کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ اس وقت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان مرتدین سے جہاد کیا۔ اس فتنۂ ارتداد کا خاتمہ جن لوگوں کے ہاتھوں ہونا تھا اﷲ تعالیٰ نے ان کی پانچ صفات بیان کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی انصار و مہاجرین اور یمن سے آنے والے مجاہدین میں یہ پانچوں خوبیاں موجود تھیں۔ کتنے بے نصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے لوگوں سے بغض رکھتے ہیں جن کے متعلق اﷲ تعالیٰ کی گواہی ہے:(1) اﷲ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اﷲ سے محبت کرتے ہیں۔ (2) مومنوں پر بہت نرم ہیں۔ (3) کافروں پر بہت سخت ہیں۔ (4) اﷲ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ (5) اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ ان خوش نصیب لوگوں کے سردار اور خلیفہ ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر عرب دین سے پھرے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یمن سے مسلمان بلائے، ان سے جہاد کروایا کہ تمام عرب مسلمان ہوئے، یہ ان کے حق میں بشارت ہے۔ (موضح)
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس (ابو موسیٰ) کی قوم ہے۔ (ابن ابی حاتم، ابن جریر) ھدایۃ المستنیر کے مصنف نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔ الغرض ابو بکر رضی اللہ عنہ، ان کے ساتھی مہاجرین و انصار اور اہل یمن میں یہ خوبیاں موجود تھیں۔
صاحب الکشاف نے لکھا ہے کہ مرتد ہونے والوں کے بارہ (۱۲) فرقے تھے، ان میں سے تین فرقے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مرتد ہو گئے تھے: (1) بنو مدلج جن کا رئیس اسود عنسی تھا، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسے فیروز دیلمی نے قتل کیا۔ (کشاف کے محشی نے لکھا ہے کہ اسود عنسی بنو مدلج سے نہیں بلکہ بنو عنس سے تھا) (2) مسیلمہ کذاب کی قوم بنو حنیفہ، جس سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اور وہ حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ (3) بنو اسد جن کا رئیس طلیحہ بن خویلد تھا، ان کی سر کوبی کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ یہ شخص آخر میں مسلمان ہو گیا تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق فرمایا، جس کا واقعہ نبی کریم کی وفات کے فوراً بعد ہوا۔ اس فتنہ مرتد کے خاتمے کا شرف حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے رفقاء کو حاصل ہوا۔ 54۔ 2 مرتدین کے مقابلے میں جس قوم کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا ان کی چار نمایاں صفات بیان کی جا رہی ہیں، 1۔ اللہ سے محبت کرنا اور اس کا محبوب ہونا 2۔ اہل ایمان کے لئے نرم اور کفار پر سخت ہونا 3۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، 4۔ اور اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان صفات اور خوبیوں کا مظہر اتم تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا وآخرت کی سعادتوں سے مشرف فرمایا اور دنیا میں ہی اپنی رضامندی کی سند سے نواز دیا۔ 54۔ 3 یہ ان اہل ایمان کی چوتھی صفت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں داری میں انہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ ہوگی۔ یہ بڑی اہم صفت ہے۔ معاشرے میں جن برائیوں کا چلن عام ہوجائے ان کے خلاف نیکی پر استقامت اور اللہ کے حکموں کی اطاعت اس صفت کے بغیر ممکن نہیں۔ ورنہ کتنے ہی لوگ ہیں جو برائی، معصیت الٰہی اور معاشرتی خرابیوں سے اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں لیکن ملامت گروں کا مقابلہ کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے۔ اسی لئے آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن کو مذکورہ صفات حاصل ہوجائیں تو یہ اللہ کا ان پر خاص فضل ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اے ایمان والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) عنقریب اللہ ایسے لوگ لے آئے گا جن سے اللہ محبت رکھتا ہو اور وہ اللہ سے محبت [96] رکھتے ہوں، مومنوں کے حق میں نرم دل اور کافروں کے حق میں سخت ہوں، اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ [97] نہ ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے [98] دے دے۔ وہ بہت فراخی والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[96] مرتدین کے متعلق پیشین گوئی:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اکثر قبائل عرب نے یہ سمجھا کہ اسلام کو جتنی کامیابیاں اور کامرانیاں نصیب ہوئیں۔ اس کا باعث صرف رسول اللہ کی ذات تھی جن پر وحی کے ذریعہ ہر وقت مسلمانوں کے لیے حالات کے مطابق ہدایات نازل ہوتی رہتی تھیں۔ اب چونکہ آپ انتقال کر چکے ہیں۔ لہٰذا اب پھر کفر کو غلبہ نصیب ہو گا۔ اس خیال سے عرب کے بہت سے قبائل اسلام سے مرتد ہو گئے اور بعض کہنے لگے کہ اب زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اسلام کی دوسری پابندیاں سہنے کا کیا فائدہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد مسلمانوں کو انتہائی نازک اور ہنگامی حالات سے دو چار ہونا پڑا۔ ایک تو مسلمانوں کو آپ کی وفات کا سخت صدمہ تھا دوسرے اسی حالت میں بہت سے قبائل مرتد ہو گئے تھے جن سے جہاد لازمی تھا۔ تیسرے بعض قبیلوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے سرے سے انکار کر دیا تھا حالانکہ اس وقت جہاد کے لیے بہت زیادہ اخراجات کی ضرورت تھی۔ پھر لشکر اسامہ کی روانگی کا مسئلہ بھی تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ترتیب دے چکے تھے۔ شامی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اس لشکر کی روانگی بھی ضروری تھی گویا مسلمان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح سے خطرات سے دوچار تھے اور سب سے بڑی مشکل یہ کہ فنڈز بھی موجود نہ تھے ان فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ تھا جس کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے لہٰذا اس کا ذکر ہم ذرا تفصیل سے کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں چند جاہ طلب مدعیان نبوت اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ جن میں سر فہرست مسیلمہ ہے جو یمنی قبیلہ بنو حنیفہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس قبیلہ کا ایک وفد 9ھ کو مدینہ آیا۔ اس وفد میں مسیلمہ سمیت سترہ آدمی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے۔ مگر مسیلمہ جو اس وفد کا سردار تھا، اپنے کبر و نخوت کی وجہ سے کچھ دور دور ہی رہا۔ وہ کہتا تھا کہ اگر محمدؐ اپنے بعد مجھے نبوت دینے کا وعدہ کریں تو میں ان کی پیروی کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت بن قیس خطیب انصار کو ساتھ لے کر مسیلمہ کے سر پر جا کھڑے ہوئے۔ مسیلمہ نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم حکومت کے معاملہ میں آپ کو آزاد چھوڑ دیں تو اپنے بعد اسے آپ ہمارے لیے طے فرما دیجئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ”اگر تم مجھ سے اس معاملہ میں یہ چھڑی بھی مانگو تو میں نہیں دینے کا اور یاد رکھو تم اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں جاسکتے اور تم نے پیٹھ پھیری تو اللہ تعالیٰ تمہیں توڑ کے رکھ دے گا۔ اور اللہ کی قسم! میں تو تجھے وہی آدمی سمجھتا ہوں جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھانے کا معاملہ قیس بن ثابتؓ کے سپرد کر کے خود واپس چلے آئے۔
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب وفد بنی حنیفۃ و حدیث ثمامۃ بن اثال]
سب سے پہلے مرتدین مسیلمہ کذاب اور اس کی امت:۔
واپس جا کر مسیلمہ اس معاملہ پر غور کرتا رہا۔ بالآخر اس نے خود نبوت کا دعویٰ کر دیا اور کہا کہ مجھے کاروبار نبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک کیا گیا ہے اس نے اپنی قوم کے لیے زنا اور شراب کو حلال کر دیا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت بھی دیتا رہا یعنی اس نے بھی ظلی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان مراعات سے قوم میں اس کی خوب قدر و منزلت ہوئی اور اسے یمامہ کا رحمان کہا جانے لگا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا کہ ”مجھے آپ کے ساتھ اس کام میں شریک کر دیا گیا ہے آدھی حکومت ہمارے لیے ہے اور آدھی قریش کے لیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب لکھا کہ ”زمین اللہ کے لیے ہے جسے چاہتا ہے اسے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام متقین کے لیے ہے۔“ پھر مسیلمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دو قاصد ابن نواحہ اور ابن اثال بھی بھیجے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔“ وہ کہنے لگے ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ اگر قاصد کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔“
[مسند احمد۔ بحوالہ مشکوٰۃ ج 2 ص 347]
یہی مسیلمہ اور اس کو ماننے والوں کی سب سے پہلی مرتدین کی جماعت تھی۔ چنانچہ ربیع الاول 11ھ کے آغاز میں ان لوگوں پر فوج کشی کی گئی۔ بنو حنیفہ بڑے جنگجو اور دلیر لوگ تھے وہ بڑی بے جگری سے لڑے اور بڑے گھمسان کا رن پڑا۔ اگرچہ اس جنگ میں، جو جنگ یمامہ کے نام سے مشہور ہوئی، مسلمانوں کے بھی بہت سے قاری شہید ہوئے اور کافی جانی نقصان ہوا تاہم میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ مسیلمہ کذاب خود وحشی بن حرب کے ہاتھوں اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ یہ وہی وحشی بن حرب ہے جس نے جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ کو حربے سے شہید کیا تھا۔ اس جنگ میں اس نے کفارہ کے طور پر اسی حربہ سے مسیلمہ کو قتل کیا۔
[بخاری کتاب المغازی۔ باب غزوہ احد]
دوسرا مدعی نبوت اسود عنسی:۔
دوسرا مدعی نبوت اسود عنسی تھا۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن ہیں اس بات سے مجھے فکر لاحق ہو گئی۔ پھر خواب میں ہی مجھے کہا گیا کہ ان پر پھونک مارو۔ میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ اس کی تعبیر یہی ہے کہ میرے بعد دو جھوٹے نبی نکلیں گے ان میں سے ایک اسود عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ کذاب یمامہ والا۔
[بخاری۔ کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام]
اسود عنسی قبیلہ بنو مدلج کا سردار تھا اسے ذوالحمار بھی کہتے ہیں۔ جادوگر تھا۔ اس نے اطراف یمن پر قبضہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال کو نکال دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبلؓ اور یمن کے رئیسوں کو اس کی سرکوبی کے لیے لکھا۔ آخر یہ شخص فیروز دیلمی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے قتل کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت دے دی تھی۔ اگرچہ یمن سے یہ خبر دو ماہ بعد آئی تھی۔ تیسرا مرتد قبیلہ بنو اسد تھے جن کے سردار طلیحہ بن خویلد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس پر بھی لشکر کشی کی گئی اور وہ شکست کھا کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔ بعدہ اس نے پھر سچے دل سے اسلام کو اختیار کر لیا۔ یہ تین قبائل تو وہ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں ارتداد اختیار کیا تھا اور ان کی بروقت سرکوبی بھی کر دی گئی تھی۔
عہد صدیقی میں مرتد ہونے والے قبائل:۔
سات قبیلے ایسے تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ارتداد اختیار کیا تھا:
(1) فزارہ عیینہ ابن حصن کی قوم (2) غطفان قرۃ بن سلمہ قشیری کی قوم (3) بنو سلیم۔ فجارہ بن عبدیالیل کی قوم (4) بنو یربوع مالک بن نویرہ کی قوم (5) بنو تمیم کے بعض لوگ جو سجاح بنت منذر کے مرید ہو گئے اس عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مسیلمہ سے نکاح کر لیا تھا (6) کندہ اشعث بن قیس کی قوم اور (7) بحرین میں بنو بکر بن وائل، حطم بن زید کی قوم۔
لشکر اسامہ کی روانگی:۔
گویا وفات نبوی کے بعد ہنگامی طور پر مسلمانوں کے لیے تشویش ناک حالات پیدا ہو گئے تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ان حالات میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے سب سے پہلے لشکر اسامہ کی روانگی سے متعلق مشورہ کیا تو ایسے نازک حالات میں ساری شوریٰ لشکر اسامہ کی فوری روانگی کے خلاف تھی لیکن سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے ساری شوریٰ کے علی الرغم اپنا دو ٹوک فیصلہ ان الفاظ میں فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو بکر صدیقؓ کی جان ہے اگر مجھے یہ یقین ہو کہ درندے آکر مجھے اچک لے جائیں گے تو بھی میں اسامہ کا لشکر ضرور بھیجوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اور اگر اس بستی میں میں اکیلا ہی رہ جاؤں تب بھی میں یہ لشکر ضرور بھیجوں گا۔“ [طبري ج 3 ص 225]
مانعین زکوٰۃ سے جہاد:۔
چنانچہ یہ لشکر بھیجا گیا جو چالیس دن کے بعد ظفر یاب ہو کر واپس آگیا۔ اب مانعین زکوٰۃ کے متعلق سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے مہاجرین و انصار کو بلا کر تمام صورت حال ان کے سامنے بیان کر کے ان سے مشورہ طلب کیا تو آپ کی تقریر سے مجمع پر سکتہ طاری ہو گیا۔ طویل خاموشی کے بعد سیدنا عمرؓ نے کہا: ”اے خلیفہ رسول! میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت نماز ادا کرنے کو ہی غنیمت سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام کو قوت دے گا تو پھر ان سے نمٹ لیں گے اس وقت تو ہم میں تمام عرب و عجم کے مقابلہ کی سکت نہیں۔“ اس کے بعد ابو بکر صدیقؓ عثمانؓ کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے بھی سیدنا عمر کی رائے کی تائید کی پھر سیدنا علی نے بھی اسی کی تائید کر دی۔ پھر اس کے بعد تمام انصار و مہاجرین اسی رائے کی تائید میں یک زبان ہو گئے۔ آپ نے سیدنا عمر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ تم کفر کی حالت میں تو بہت جری اور دلیر تھے اب اسلام میں آکر کمزوری دکھاتے ہو؟ پھر پوری شوریٰ سے خطاب کیا کہ اللہ کی قسم! میں برابر امر الٰہی پر قائم رہوں گا اور اس کی راہ میں جہاد کروں گا۔ جب تک یہ لوگ پوری کی پوری زکوٰۃ ادا نہ کریں جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں کیا اس واقعہ کو امام بخاری نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب آپ کی وفات ہو گئی اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ خلیفہ بن گئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے تو سیدنا عمرؓ نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ «لا اله الا الله» نہ کہیں۔ پھر جس نے یہ شہادت دے دی اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے بچا لیے الا یہ کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس سے اس کے مال یا جان کا نقصان ہو اور اس کے باطن کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“ اس کے جواب میں ابو بکر صدیقؓ نے کہا ”اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا اس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے (جیسے نماز جسم کا) اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیں گے جو آپ کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے ضرور لڑوں گا۔“ تب سیدنا عمرؓ نے کہا ”اللہ کی قسم۔ اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابو بکر صدیقؓ کے دل میں جو لڑائی کا ارادہ ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کے دل میں ڈالا ہے اور میں پہچان گیا کہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی رائے درست ہے۔“
[بخاری۔ کتاب استتابۃ المعاندین و المرتدین]
چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ خود جہاد کو روانہ ہونے پر تیار ہو گئے۔ سیدنا علیؓ نے انہیں یہ رائے دی کہ آپ کا مدینہ میں موجود رہنا جہاد پر روانہ ہونے سے زیادہ ضروری ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانعین زکوٰۃ اور مرتدین دونوں کی سرکوبی کے لیے سیدنا خالد بن ولیدؓ کو سپہ سالار بنا کر روانہ کیا اور اس وقت تک جہاد کا کام جاری رکھا جب تک کہ مرتدین اور مانعین زکوٰۃ کو راہ راست پر نہیں لے آئے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس وقت کے مسلمانوں سے تہدید کے طور پر فرماتا ہے کہ اللہ کے دین کی سربلندی کا انحصار تم پر ہی نہیں۔ اگر تم میں سے کوئی مرتد ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو آگے لے آئے گا جن میں یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں اور آپ کی وفات کے بعد جو بے شمار قبائل مرتد ہو گئے تھے ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کون سے لوگ لایا تھا اور ان کا سردار کون تھا جس کے ہاتھ پر یہ وعدہ پورا ہوا؟ اور جو لوگ تاریخ اسلام سے تھوڑے بہت بھی واقف ہیں وہ بے ساختہ کہہ دیں گے کہ ان مرتدوں کے مقابلہ میں صحابہ کرامؓ انصار و مہاجرین اور اہل یمن کے لوگ اٹھے تھے۔ جنہوں نے ان سب مرتد لوگوں کی سرکوبی کی تھی اور ان کے سردار اور خلیفہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ تھے۔ اب اس آیت سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی تصدیق ہوتی ہے اسی طرح سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی خلافت بھی برحق ثابت ہوتی ہے۔
شیعہ حضرات کا نظریہ ارتداد اور اس کا رد:۔
یہ تو تھی فتنہ ارتداد کی تاریخی حیثیت۔ اب شیعہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ در اصل مرتدین کی سرکوبی کرنے والے گروہ کے سردار اور اس وعدہ کی تکمیل کے مہتمم سیدنا علیؓ تھے اور لوگوں کا سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانا اور ان کا حق تلف کر کے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو خلیفہ بنا دینا اور سیدہ فاطمہ کو حق باغ فدک نہ دینا ہی اصل ارتداد ہے۔ چونکہ ان لوگوں نے سیدنا علیؓ کے بجائے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو خلیفہ بنایا۔ لہٰذا وہ سب مرتد ہو گئے۔ اگر شیعہ حضرات کے اس نظریہ ارتداد کو درست تسلیم کیا جائے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صحابہ کرامؓ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو خلیفہ بنانے کی وجہ سے مرتد ہو گئے تھے تو کیا سیدنا علی نے ان کی سر کو بی کی تھی؟ نیز وہ کونسی قوم تھی جن کے ذریعہ اللہ نے ان مرتدوں کی سرکوبی کر کے اپنے وعدہ کو پورا کیا تھا؟ نیز یہ کہ کیا اللہ کا یہ وعدہ پورا ہوا بھی تھا یا نہیں؟ یہ سوال ان حضرات کے اس نظریہ کی بھرپور تردید کرتے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ہوا یہ تھا کہ سیدنا علیؓ ہمیشہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ کی مجلس شوریٰ کے معزز رکن اور ان کے کاموں میں ان کے معاون و مددگار رہے۔ اور مرتدین پر چڑھائی کرنے میں ان کے ساتھ بدل و جان شریک رہے۔ رہا شیعہ حضرات کا یہ احتمال کہ سیدنا علیؓ دل سے شریک نہ تھے تو ایک تو یہ بات:
﴿وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍ
کے خلاف ہے۔ دوسرے اگر سیدنا علیؓ خود بھی ارتداد کا یہی مطلب سمجھتے تھے تو کم از کم یہ تو کر سکتے تھے کہ خود ان کا ساتھ نہ دیتے اور ان کی مدد نہ کرتے۔ تیسرے یہ کہ ان کا آپس میں باہمی رشتوں کا لین دین بھی تاریخ سے ثابت ہے۔ یہ سب باتیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ ارتداد سے مراد وہ نہیں جو شیعہ حضرات کہتے ہیں اور نہ ہی سیدنا علی نے اسے ارتداد قرار دیا ہے۔
[97] مومنوں کے حق میں نرم دل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوت مسلمانوں کو دبانے، ستانے یا نقصان پہچانے میں صرف نہیں ہوتی بلکہ وہ آپس میں نرم خو، رحم دل اور ایک دوسرے کے ہمدرد ہوتے ہیں اور کافر پر سخت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان کی پختگی، دیانتداری میں خلوص اور اصول کی مضبوطی سیرت و کردار اور ایمانی فراست مخالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان ثابت ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کافروں سے بدمزاجی اور درشتی سے پیش آتے ہیں یا انہیں گالیاں دیتے ہیں یا جب انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے چہرہ پر غصہ اور نفرت کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ مومنوں کا دامن ایسے اخلاق رذیلہ سے پاک ہوتا ہے اور ایسے مومنوں کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ مخالفین کے طعن و تشنیع، ان کے اعتراضات اور ان کی پھبتیوں کی مطلق پروا نہیں کرتے اور جادہ حق پر پورے عزم و استقلال کے ساتھ گامزن رہتے ہیں۔
[98] ارتداد کے فتنہ کو کچلنے والے:۔
یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ فضل صحابہ کرامؓ کی اس جماعت تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ جب بھی کہیں ارتداد کا فتنہ کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے مرتدین کی سرکوبی کے لیے ایسے جاں نثار اور اسلام کے وفادار مسلمان کھڑے کر دیتا ہے جو مرتدین سے علم اور قوت دونوں لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں اور اس فتنہ کا زور توڑ کے رکھ دیتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے بے شمار فتنے پیدا ہوئے اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان فتنوں کی سرکوبی کے لیے اپنے بندے پیدا کرتا رہا اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ اور ایسے لوگوں میں بھی مندرجہ بالا صفات کسی نہ کسی درجہ میں ضرور پائی جاتی ہیں۔ اور یہ ارتداد کے فتنے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک سیاسی دوسرے تحریری۔ دونوں کا سر کچلنے کے لیے اللہ تعالیٰ مناسب لوگوں کو پیدا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ اور ان کے لیے بشارت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوت اسلام اور مرتدین ٭٭
اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏‏‏‏ ۱؎ [47-محمد:38]‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» ۱؎ [4-النساء:133]‏‏‏‏ اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» ۱؎ [14-إبراهيم:19]‏‏‏‏، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔
ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔‏‏‏‏ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔‏‏‏‏
ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا { وہ اس کی قوم ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح]‏‏‏‏
اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:29]‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔
سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے { میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاددہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا؟ } میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا: { اگرچہ کوڑا بھی ہو }۔ یعنی اگر وہ گر پڑے تو خود سواری سے اتر کر لے لینا }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/5:ضعیف]‏‏‏‏
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے } }۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ ۱؎ [مسند احمد:87/3:ضعیف]‏‏‏‏
فرماتے ہیں { خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ’ میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا ‘ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ’ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ ‘ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا } [ابن ماجہ]‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ایک اور صحیح حدیث میں ہے { { مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: { ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر فرمایا ’ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ‘۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں ‘۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہو گیا ہے کہ یہ «وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» سے حال واقع یعنی ’ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘۔
یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، ۱؎ [ضعیف]‏‏‏‏
«وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12219]‏‏‏‏
ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ ‏‏‏‏[58-المجادلة:21-22]‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے ‘۔
پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔