تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ چور کو حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے معاف کیا جا سکتا ہے، بعد میں نہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ایک چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ چادر کے مالک صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اﷲ کے رسول! میرا ارادہ یہ نہیں تھا (کہ اس کا ہاتھ کٹوا دوں) میری چادر اس پر صدقہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں (یہ صدقہ) نہ کیا؟“ [ابن ماجہ، الحدود، باب من سرق من الحرز: ۲۵۹۵ قال الألبانی صحیح] بعض لوگوں نے چوری کی حد باطل کرنے کے لیے بہت سے حیلے ایجاد کیے ہیں، ان میں سے دو حیلے ایسے ہیں جن کی موجودگی میں کسی چور کا ہاتھ کاٹا ہی نہیں جا سکتا۔ ایک یہ کہ عدالت میں جانے کے بعد مال مسروقہ کا مالک چور کو چرائی ہوئی چیز ہبہ کردے، یا اس کے ہاتھ بیچ دے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا حالانکہ یہ صحیح حدیث کے صریح خلاف ہے۔ دوسرا یہ کہ چور پر شہادتوں کے ساتھ چوری کا جرم ثابت ہو جائے تو چور دعویٰ کر دے کہ مال مسروقہ میرا مال ہے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، خواہ وہ اپنی ملکیت کی کوئی دلیل پیش نہ کرے۔ یہ حیلہ لکھنے والے نے اس پر لکھا ہے کہ مخالف کی طرف سے اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اس طرح تو کوئی چور بھی جھوٹا دعویٰ کرنے سے عاجز نہیں، ہر چور ہی مالک ہونے کا دعویٰ کر دے گا اور چوری کی حد سرے سے ختم ہو جائے گی۔ اس کا جواب اس نے یہ دیا ہے کہ یہ بات صرف علماء کو معلوم ہے، چوروں کو معلوم نہیں، اس لیے حد ختم ہونے کی کوئی فکر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حیلوں کی وجہ سے بھی مسلم حکومتوں میں حدود اﷲ ختم ہوئیں جس کے نتیجے میں ظلم و ستم حد سے بڑھے، پھر اغیار مسلمانوں پر مسلط ہو گئے، اس کا علاج دوبارہ حدود اﷲ کا صحیح نفاذ ہے۔
➌ {جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ:} یہ اس کے گناہ کی سزا بھی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عبرت بھی کہ وہ تمام عمر لوگوں کے لیے چوری سے رکنے کا باعث اور یاددہانی بنا رہے گا کہ چور کے متعلق اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے۔ اگر اسے قتل بھی کر دیا جاتا تو یہ عبرت حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب کراھیۃ الشفاعۃ فی الحد، نیز باب توبۃ السارق۔ مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب قطع السارق الشریف]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ چور پر لعنت کرے۔ ایک انڈے کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور ایک رسی کی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔“
[بخاری۔ کتاب الحدود باب لعن السارق اذا لم یسم]
3۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال چرانے پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
[بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب السارق والسارقۃ۔ مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حد السرقہ و نصابہا]
4۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد پر کاٹ دیا جائے“
[بخاری۔ کتاب الحدود۔ باب السارق والسارقۃ]
5۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ لٹکے ہوئے پھل کی چوری کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی شخص بھوکا ہو اور کھا لے مگر ساتھ نہ لے جائے تو اس پر کوئی حد نہیں اور جو شخص دامن بھر کر نکلے تو اس سے دوگنی قیمت وصول کی جائے اور سزا دی جائے۔ اور جو شخص پھلوں کو محفوظ مقام پر پہنچائے جانے کے بعد اس میں چوری کرے اور پھل کی قیمت ڈھال کی قیمت تک پہنچ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے اور اگر قیمت ڈھال سے کم ہو تو دوگنی قیمت لی جائے اور سزا دی جائے۔“
[ابو داؤد۔ کتاب الحدود۔ باب مالایقطع فیہ]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خائن، لٹیرے اور اچکے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں۔“
[ترمذی۔ ابواب الحدود۔ باب ماجاء فی الخائن و المختلس]
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنگ کے دوران (میدان جنگ میں) ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے۔“
[ابو داؤد کتاب الحدود۔ باب السارق یسرق فی الغزو]
اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ میدان جنگ میں سب لوگ مسلح ہوتے ہیں اگر سزا پانے والا طیش میں آکر کوئی غلط حرکت کر بیٹھے تو یہ عین ممکن ہے۔ اس طرح اپنے ہی لشکر میں انتشار پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ لہٰذا صرف چوری کی حد ہی نہیں۔ ہر قابل حد یا قابل تعزیر جرم کی سزا کو موخر کر دیا گیا۔ نیز سیدنا عمر نے قحط کے ایام میں چوری کی سزا یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا موقوف کر دی تھی اور ان کا استدلال اس واقعہ سے تھا کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عباد بن شرجیل نے کسی کھیت سے غلہ لے لیا۔ کھیت کے مالک نے عباد بن شرجیل کو پکڑ لیا۔ اسے مارا اور اس کا کپڑا بھی چھین لیا۔ پھر اسے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا۔ (اگر یہ نادان تھا تو تو نے اس کو تعلیم کیوں نہ دی اور اگر یہ بھوکا تھا تو تو نے اسے کھانے کو کیوں نہ دیا) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بھوکے چور کو کوئی سزا نہیں دلوائی۔ الٹا مالک نے اسے کپڑا بھی واپس کیا اور مار کے بدلے بہت سا غلہ بھی دیا۔
8۔ چور کی چوری جب عدالت میں ثابت ہو جائے تو اس کا ہاتھ ضرور کاٹا جائے گا اور مقدمہ عدالت میں پہنچنے سے پیشتر اگر مالک چور کو معاف کر دے تو یہ جائز ہے مگر عدالت میں پہنچنے کے بعد معاف نہیں کر سکتا۔ چنانچہ سیدنا صفوان بن امیہؓ ایک دفعہ مسجد میں اپنی چادر کا تکیہ بنا کر اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوئے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور آہستہ سے اس نے وہ چادر آپ کے سر کے نیچے سے کھینچ لی۔ اتنے میں صفوان بن امیہؓ کو بھی جاگ آ گئی تو وہ اسے پکڑ کر رسول اللہ کے پاس لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ (اس پر صفوانؓ کو اس آدمی پر ترس آ گیا) اور کہنے لگا، یا رسول اللہ! میں نے اس کا قصور معاف کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابو وہب (یہ صفوان بن امیہؓ کی کنیت ہے) تم نے اسے ہمارے ہاں لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کر دیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔
[نسائی۔ کتاب قطع السارق۔ باب الرجل یتجاوز للسارق]
نیز سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم آپس میں ہی ایک دوسرے کو حدود معاف کر دیا کرو۔ پھر جب مقدمہ مجھ تک پہنچ گیا تو حد واجب ہو جائے گی۔“
[ابو داؤد۔ نسائی بحوالہ مشکوۃ کتاب الحدود۔ فصل ثانی]
9۔ سیدنا ابو سلمہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”چور جب (پہلی بار) چوری کرے، تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دو۔ پھر (دوسری بار) چوری کرے تو اس کا (بایاں) پاؤں کاٹ دو۔ پھر (تیسری بار) چوری کرے تو اس کا (بایاں) ہاتھ کاٹ دو۔ پھر (چوتھی بار) چوری کرے تو اس کا (دایاں) پاؤں کاٹ دو۔“
[شرح السنہ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الحدود۔ قطع السرقتہ۔ دوسری فصل]
[73] یہ ہاتھ کاٹنے کی سزا اس کو چوری کرنے کے بدلہ میں ملی ہے۔ رہا مال مسروقہ۔ تو اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ راجح قول یہی ہے کہ اگر مال مسروقہ چور سے برآمد ہو جائے یا وہ اتنی مالیت کی ادائیگی کر سکتا ہو تو اس سے مال بھی وصول کر کے اصل مالک کو دلوایا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دویک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔
جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل گویا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔
حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔“ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہیئے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6789]
مسلم کی ایک حدیث میں ہے { چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1684]
پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لیے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابوثور داؤد بن علی ظاہری رحمة الله علیہم کا بھی یہی قول ہے۔
ایک روایت میں امام اسحٰق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں }۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ ۱؎ [مسند احمد:80/6:صحیح]
نسائی میں ہے { چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4939،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیره]
پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہیئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لیے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔
بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر رحمة الله علیہم سے یہی مروی ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ { کیسا رذیل اور بے خوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے }۔
مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔
بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ ”اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بے وجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔“ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔
اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہٰذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔
جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں۔“
دارقطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { ایک چور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: { میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی }، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو }۔ جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { توبہ کرو }، انہوں نے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی }۔ ۱؎ [دارقطنی:102/3:ضعیف] رضی اللہ عنہ۔
ابن جریر میں ہے کہ { ایک عورت نے کچھ زیور چرا لیے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی }۔ اس پر آیت «فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:39] نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11922:ضعیف]
مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ { اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:2/177:ضعیف]
یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔
سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی }۔ (رضی اللہ عنہما) ۱؎ [صحیح بخاری:3732]
مسلم میں ہے { ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا } ۱؎ [صحیح مسلم:1688]
اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ ۱؎ [سنن نسائی:4893، قال الشيخ الألباني:صحیح] کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
السارق: هو مَن أخذ مال غيره المحترم خفية بغير رضاه، وهو من كبائر الذنوب الموجبة لترتُّب العقوبة الشنيعة، وهو قطع اليد اليمنى؛ كما هو في قراءة بعض الصحابة، وحدُّ اليد عند الإطلاق من الكوع؛ فإذا سَرَقَ؛ قُطِعَتْ يدُهُ من الكوع وحُسِمَتْ في زيت لتنسدَّ العروق فيقف الدم. ولكنَّ السنَّة قيَّدت عموم هذه الآية من عدة أوجه: منها الحرز؛ فإنه لا بدَّ أن تكون السرقة من حرز، وحرز كل مال ما يُحفظ به عادة؛ فلو سَرَقَ من غير حرزٍ؛ فلا قطع عليه. ومنها: أنه لا بدَّ أن يكون المسروق نصاباً، وهو ربع دينار أو ثلاثة دراهم أو ما يساوي أحدهما؛ فلو سرق دون ذلك؛ فلا قطع عليه، ولعل هذا يؤخذ من لفظ السرقة ومعناها؛ فإنَّ لفظ السرقة أخذ الشيء على وجهٍ لا يمكن الاحترازُ منه، وذلك أن يكون المال محرزاً؛ فلو كان غير مُحْرَزٍ؛ لم يكن ذلك سرقة شرعية.
ومن الحكمة أيضاً أن لا تُقطع اليد في الشيء النَّزْر التافه، فلما كان لا بدَّ من التقدير؛ كان التقدير الشرعيُّ مخصِّصاً للكتاب. والحكمة في قطع اليد في السرقة: أنَّ ذلك حفظٌ للأموال واحتياطٌ لها وليقطع العضو الذي صدرت منه الجنايةُ. فإنْ عاد السارقُ؛ قُطعت رجله اليسرى، فإن عاد؛ فقيلَ: تُقطع يده اليسرى ثم رجله اليمنى. وقيلَ: يُحبس حتى يموت.
وقوله: {جزاءً بما كسبا}؛ أي: ذلك القطع جزاء للسارق بما سرقه من أموال الناس {نكالاً من الله}؛ أي: تنكيلاً وترهيباً للسارق ولغيرِهِ؛ ليرتدعَ السُّرَّاق إذا علموا أنهم سيُقْطَعون إذا سرقوا. {والله عزيزٌ حكيم}؛ أي: عزَّ وحَكَم فقطع السارقَ.