ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 37

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۷﴾
وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، حالانکہ وہ اس سے ہرگز نکلنے والے نہیں اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔ En
(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے
En
یہ چاہیں گے کہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن یہ ہرگز اس میں سے نہ نکل سکیں گے، ان کے لئے تو دوامی عذاب ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37) {يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا:} یہ آیت کفار کے بارے میں ہے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں ان کا صاف ذکر کیا گیا ہے، رہے گناہ گار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ انھیں گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ سورۂ حج کی آیت (۲۲) اس کی ہم معنی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37۔ 1 یہ آیت کافروں کے حق میں ہے، کیونکہ مومنوں کو بالاخر سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ وہ چاہیں گے کہ کسی طرح دوزخ سے نکل جائیں مگر نکل نہ [71] سکیں گے کیونکہ انہیں ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب ہو گا
[71] یہ معاملہ تو کافروں سے ہو گا مگر بہت سے گنہگار مسلمان بھی دوزخ میں جائیں گے جو اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اور گناہوں سے پاک صاف ہو کر مختلف اوقات میں جنت میں داخل ہوتے رہیں گے۔ بلکہ بعض علماء کا خیال ہے کہ کافروں کو بھی کبھی نہ کبھی دوزخ سے نجات مل جائے گی۔ صرف مشرکین ہی وہ لوگ ہوں گے جنہیں کبھی بھی دوزخ سے نجات حاصل نہ ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔