تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور وہ اسی خوش فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنے آپ کو اﷲ کا محبوب سمجھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ تم اگرچہ بہتر امت ہو اور تمھارا نبی بھی سب سے افضل ہے، مگر تمھیں چاہیے کہ نیک اعمال کے ذریعے سے اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اﷲ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ آخرت میں فلاح حاصل کر سکو، یعنی یہود کی طرح بد عمل نہ بنو۔ (کبیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری کتاب الاستسقاء۔ باب سوال الناس الامام]
اور دوسری صورت اپنے ہی نیک اعمال کو وسیلہ بنانا ہے۔ اور اس کی دلیل وہ طویل حدیث ہے جو بخاری میں بھی متعدد مقامات پر مذکور ہوئی ہے کہ بنی اسرائیل کے تین شخص ایک دفعہ سفر میں جاتے ہوئے طوفان باد و باراں میں گھر گئے تو ایک غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے ایک بڑا پتھر پہاڑ کے اوپر سے لڑھکتا آیا جس نے غار کا منہ بند کر دیا اور اب وہ تینوں اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے۔ انہوں نے سوچا کہ اس وقت صرف اللہ سے دعا ہی کام آ سکتی ہے لہٰذا ہم میں سے ہر شخص اپنے کسی ایسے نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کرے جو اس نے خالصتاً اللہ کی رضا مندی کے لئے کیا ہو۔ چنانچہ پہلے شخص نے اپنے عمل کا واسطہ دے کر دعا کی تو تیسرا حصہ پتھر غار کے منہ سے سرک گیا۔ پھر دوسرے نے دعا کی تو پتھر مزید تیسرا حصہ سرک گیا۔ پھر تیسرے نے اپنے عمل کے وسیلہ سے دعا کی تو سارا پتھر غار کے منہ سے ہٹ گیا اور وہ باہر نکل آئے۔
[بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب من اشتری شیا لغیرہ نیز کتاب الاجارات۔ باب من استاجرا جیرا۔ نیز کتاب ابواب الحرث و المزارعۃ وما جاء فیہ باب اذا زرع بمال قوما بغیر اذنھم]
مگر ہمارے ہاں وسیلہ پکڑنے کا بہت غلط مفہوم رائج ہو چکا ہے۔ [تفصيل كے لئے ديكهئے سورة بني اسرائيل كا حاشيه نمبر 70 اور سورة زمر كا حاشيه نمبر 94]
نیز وسیلہ جنت میں عرش رحمان کے نزدیک ایک مقام کا نام بھی ہے۔ اذان کے بعد جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں ہر مسلمان رسول اللہ کے لیے دعا مانگتا ہے کہ یا اللہ آپ کو وسیلہ عطا فرما۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے لیے وسیلہ کی دعا کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔
[بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الدعاء عندالنداء]
جہاد کا ہدف سب سے پہلے اپنا نفس ہونا چاہیے پھر اقرباء پھر درجہ بدرجہ دوسرے لوگ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ”تم میں سے کوئی شخص جب کوئی برا کام ہوتے دیکھے تو اسے چاہیے کہ بزور بازو اس میں تبدیلی لائے۔ اور اگر ایسا نہ کر سکے تو پھر زبان سے (تقریر سے یا تحریر سے) اس میں تبدیلی لائے اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو پھر کم از کم دل ہی میں برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔“ [مسلم۔ حواله ايضاً]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔“ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» ۱؎ [17-الاسراء:57] ’ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ‘۔
ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)» ، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الاسراء:79] ’ قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے ‘۔
مسلم کی حدیث میں ہے { جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384]
مسند احمد میں ہے { { جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو }، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: { جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح]
ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا }۔ ۱؎ [ضعیف جدا]
ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ ”جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔“ ۱؎ [میزان:3118:موقوف ضعیف]
تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ’ اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے کہ «كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ» ۱؎ [22-الحج:22] ’ جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا ‘۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:6538]
دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ ”قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا ”پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79]، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔“ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ ۱؎ [ضعیف]۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ { جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے }، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔“ ۱؎ [الادب المفرد:818:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا أمر من الله لعباده المؤمنين بما يقتضيه الإيمان من تقوى الله والحذر من سخطه وغضبه، وذلك بأن يجتهدَ العبد ويبذلَ غاية ما يمكنه من المقدور في اجتناب ما يَسخطه الله من معاصي القلب واللسان والجوارح الظاهرة والباطنة، ويستعين بالله على تركها لينجو بذلك من سخط الله وعذابه. {وابتغوا إليه الوسيلة}؛ أي: القُرْبَ منه والحظوة لديه والحبَّ له، وذلك بأداء فرائضه القلبية كالحبِّ له وفيه، والخوف والرجاء والإنابة والتوكل، والبدنيَّة كالزكاة والحج، والمركَّبة من ذلك كالصلاة ونحوها من أنواع القراءة والذِّكر، ومن أنواع الإحسان إلى الخَلْق بالمال والعلم والجاه والبدن والنُّصح لعباد الله؛ فكلُّ هذه الأعمال تُقرِّبُ إلى الله، ولا يزال العبدُ يتقرَّب بها إلى الله حتَّى يحبَّه؛ فإذا أحبَّه؛ كان سمعَه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، ويستجيبُ الله له الدعاء.
ثم خصَّ تبارك وتعالى من العبادات المقرِّبة إليه الجهاد في سبيله، وهو بذل الجهد في قتال الكافرين بالمال والنفس والرأي واللسان والسعي في نصر دين الله بكلِّ ما يقدِرُ عليه العبد؛ لأنَّ هذا النوع من أجلِّ الطاعات وأفضل القُرُبات، ولأنَّ من قام به؛ فهو على القيام بغيرِهِ أحرى وأولى، {لعلَّكم تفلحونَ}: إذا اتَّقيتم الله بترك المعاصي، وابتغيتُم الوسيلة إلى الله بفعل الطاعات، وجاهدتُم في سبيله ابتغاء مرضاته. والفلاحُ هو الفوز والظَّفَرُ بكلِّ مطلوب مرغوب والنجاة من كل مرهوب؛ فحقيقتُهُ السعادة الأبديَّة والنعيم المقيم.