ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 35

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۵﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف قرب تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ En
اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ
En
مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راه میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35) ➊{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ ……:} یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے (کیونکہ اﷲ کے قرب کے حصول کے لیے اب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے سوا کوئی وسیلہ نہیں) اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو (وہ) قبول نہیں۔ (موضح) لفظ { الْوَسِيْلَةَ } یہ { تَوَسَّلْتُ إِلَيْهِ } سے { فَعِيْلَةٌ } کے وزن پر ہے۔ اس کی جمع {وَسَائِلُ } آتی ہے، اس کا لفظی معنی قرب ہے، مراد ہر وہ چیز ہے جس سے اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس آیت میں اﷲ کے تقوے کا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد جہاد کا حکم دیا، معلوم ہوا کہ اﷲ کا تقویٰ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اس کی راہ میں جہاد (سرتوڑ کوشش خصوصاً قتال) ہے۔ اس مقصد کے لیے کسی زندہ شخص سے دعا کروانا بھی جائز ہے، مگر کسی زندہ یا مردہ کا نام لے کر کہنا کہ یا اﷲ! فلاں کے وسیلے یا طفیل ہماری دعا قبول فرما، نہ قرآن سے ثابت ہے نہ صحیح حدیث سے، ہاں اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات کا واسطہ دے کر یا اپنا کوئی خالص عمل پیش کر کے دعا کر سکتا ہے، یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ وسیلہ ایک مقام کا نام بھی ہے، اس میں بھی قرب کا معنی ہی ملحوظ ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو، جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا اﷲ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلے کی دعا کرو، وسیلہ جنت کا وہ مقام ہے جو اﷲ کے بندوں میں سے صرف ایک ہی کو نصیب ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں گا، لہٰذا جس نے میرے لیے وسیلے کی دعا کی تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔ [مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن……: ۳۸۴]اﷲ کا قرب (وسیلہ) اتنی بڑی نعمت ہے کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کے جتنا قریب ہے اس سے مزید قرب کی دعا اور کوشش کرتا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۵۷)۔
➋ {لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ:} یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور وہ اسی خوش فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنے آپ کو اﷲ کا محبوب سمجھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ تم اگرچہ بہتر امت ہو اور تمھارا نبی بھی سب سے افضل ہے، مگر تمھیں چاہیے کہ نیک اعمال کے ذریعے سے اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اﷲ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ آخرت میں فلاح حاصل کر سکو، یعنی یہود کی طرح بد عمل نہ بنو۔ (کبیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 وسیلہ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کے حصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔ ' اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرو ' کا مطلب ہوگا ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوجائے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں ' وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں، اسی طرح جن باتوں سے روکا گیا ہو ان کا ترک بھی قرب الٰہی کا وسیلہ ہے۔ البتہ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کو عطا فرمایا جائے گا۔ اسی لئے آپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لئے یہ دعائے وسیلہ کرے گا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔ (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے حضور باریابی کے لیے [68] ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں [69] جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو
[68] وسیلہ کی تعریف اور اس کی تلاش:۔
جو بھی ذریعہ یا سبب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جائے اسے وسیلہ کہتے ہیں اور وسیلہ کی دو ہی جائز صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنی دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ بنایا جائے اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کے زمانہ میں جب قحط پڑتا تو سیدنا عباسؓ کے وسیلے سے دعا کرتے اور کہتے: یا اللہ پہلے ہم تیرے پاس اپنے پیغمبر کا وسیلہ لایا کرتے تو تو پانی برساتا تھا۔ اب اپنے پیغمبر کے چچا کا وسیلہ لائے ہیں، ہم پر بارش برسا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر بارش ہو جاتی۔
[بخاری کتاب الاستسقاء۔ باب سوال الناس الامام]
اور دوسری صورت اپنے ہی نیک اعمال کو وسیلہ بنانا ہے۔ اور اس کی دلیل وہ طویل حدیث ہے جو بخاری میں بھی متعدد مقامات پر مذکور ہوئی ہے کہ بنی اسرائیل کے تین شخص ایک دفعہ سفر میں جاتے ہوئے طوفان باد و باراں میں گھر گئے تو ایک غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے ایک بڑا پتھر پہاڑ کے اوپر سے لڑھکتا آیا جس نے غار کا منہ بند کر دیا اور اب وہ تینوں اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے۔ انہوں نے سوچا کہ اس وقت صرف اللہ سے دعا ہی کام آ سکتی ہے لہٰذا ہم میں سے ہر شخص اپنے کسی ایسے نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کرے جو اس نے خالصتاً اللہ کی رضا مندی کے لئے کیا ہو۔ چنانچہ پہلے شخص نے اپنے عمل کا واسطہ دے کر دعا کی تو تیسرا حصہ پتھر غار کے منہ سے سرک گیا۔ پھر دوسرے نے دعا کی تو پتھر مزید تیسرا حصہ سرک گیا۔ پھر تیسرے نے اپنے عمل کے وسیلہ سے دعا کی تو سارا پتھر غار کے منہ سے ہٹ گیا اور وہ باہر نکل آئے۔
[بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب من اشتری شیا لغیرہ نیز کتاب الاجارات۔ باب من استاجرا جیرا۔ نیز کتاب ابواب الحرث و المزارعۃ وما جاء فیہ باب اذا زرع بمال قوما بغیر اذنھم]
مگر ہمارے ہاں وسیلہ پکڑنے کا بہت غلط مفہوم رائج ہو چکا ہے۔ [تفصيل كے لئے ديكهئے سورة بني اسرائيل كا حاشيه نمبر 70 اور سورة زمر كا حاشيه نمبر 94]
نیز وسیلہ جنت میں عرش رحمان کے نزدیک ایک مقام کا نام بھی ہے۔ اذان کے بعد جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں ہر مسلمان رسول اللہ کے لیے دعا مانگتا ہے کہ یا اللہ آپ کو وسیلہ عطا فرما۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے لیے وسیلہ کی دعا کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔
[بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الدعاء عندالنداء]
[69] اصل وسیلہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے:۔
یعنی اخروی کامیابی کے لیے بہترین وسیلہ تو جہاد ہے اور یہ بھی دوسری صورت ہی کی ایک قسم ہے جہاد کی سب سے اعلیٰ قسم قتال فی سبیل اللہ ہے تاہم جہاد انسان کی ہر اس کوشش کو بھی کہہ سکتے ہیں جو اسلام کی اشاعت اور اسلامی نظام کے قیام میں ممد و معاون ثابت ہو سکے یا اس راہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے والی ہو خواہ یہ زبان سے ہو، تحریری ہو یا ہاتھ سے کی جائے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
منکرات کے خلاف جہاد:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس نبی کو بھی اس کی امت میں مبعوث فرمایا تو اس کے کچھ حواری اور اصحاب ہوتے جو اس کی سنت پر کاربند اور اس کے حکم پر چلتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آتے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے کرتے نہیں تھے اور ایسے کام کرتے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اب جو کوئی ایسے لوگوں سے ہاتھ سے جہاد کرے، وہ مومن ہے اور جو زبان سے جہاد کرے وہ بھی مومن ہے اور جو دل سے جہاد کرے (برا سمجھے) وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہیں۔“ [مسلم كتاب الايمان]
جہاد کا ہدف سب سے پہلے اپنا نفس ہونا چاہیے پھر اقرباء پھر درجہ بدرجہ دوسرے لوگ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ”تم میں سے کوئی شخص جب کوئی برا کام ہوتے دیکھے تو اسے چاہیے کہ بزور بازو اس میں تبدیلی لائے۔ اور اگر ایسا نہ کر سکے تو پھر زبان سے (تقریر سے یا تحریر سے) اس میں تبدیلی لائے اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو پھر کم از کم دل ہی میں برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔“ [مسلم۔ حواله ايضاً]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔‏‏‏‏ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» ۱؎ [17-الاسراء:57]‏‏‏‏ ’ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ‘۔
ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(‏‏‏‏إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)‏‏‏‏‏‏‏‏» ‏‏‏‏، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الاسراء:79]‏‏‏‏ ’ قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے ‘۔
صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { جو شخص اذان سن کر دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدَتْهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:614]‏‏‏‏
مسلم کی حدیث میں ہے { جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { { جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو }، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: { جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
طبرانی میں ہے { تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لیے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:637:حسن]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح]‏‏‏‏
ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا }۔ ۱؎ [ضعیف جدا]‏‏‏‏
ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [میزان:3118:موقوف ضعیف]‏‏‏‏
تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ’ اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے ‘۔
اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ ’ ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہ اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں ‘۔
جیسے اور جگہ ہے کہ «‏‏‏‏كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ» ۱؎ [22-الحج:22]‏‏‏‏ ’ جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا ‘۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:6538]‏‏‏‏
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ { ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی }۔ اس پر ان کے شاگرد یزید فقیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ «يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:37]‏‏‏‏، یعنی ’ وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں ‘۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے پہلے کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:36]‏‏‏‏، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح مسلم:191]‏‏‏‏
دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79]‏‏‏‏‏‏‏‏، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔‏‏‏‏ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ ۱؎ [ضعیف]‏‏‏‏۔
طلق بن حبیب رحمة الله کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا! اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔‏‏‏‏
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ { جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے }، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [الادب المفرد:818:ضعیف]‏‏‏‏