تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ......:} یعنی اگر ایک شخص کو مرنے سے بچا لے گا تو اس کا ثواب اتنا ہے گویا سب کو بچا لیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1)
[بخاری۔ کتاب بدء الخلق باب اذ قال ربک للملئِکۃ۔ نیز کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ باب من دعا الی ضلالۃ مسلم۔ کتاب القسامۃ باب اثم من سنّ القتل]
(2) سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم“ صحابہ نے عرض کیا ”مظلوم کی مدد تو ٹھیک ہے مگر ظالم کی کیسے مدد کریں؟“ فرمایا ”ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو“
[بخاری۔ کتاب المظالم۔ باب اعن اخاک ظالما او مظلوما مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب اذا توجہ المسلمان بسیفھما]
(3) سیدنا جریرؓ فرماتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ”لوگوں کو چپ کراؤ“ (میں نے چپ کرا دیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگو! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا“
[بخاری کتاب العلم۔ باب الانصات للعلماء]
تیسری حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کا قاتل مسلمان نہیں رہتا بلکہ کافر ہو جاتا ہے۔
[65] بینات سے مراد معجزات انبیاء بھی ہو سکتے ہیں۔ جن سے ان انبیاء کی نبوت کی تصدیق بھی مطلوب ہوتی ہے یعنی انبیاء کی تصدیق ہو جانے کے بعد بھی بنی اسرائیل ان کا انکار ہی کرتے رہے۔ ان سے دشمنی بھی رکھی۔ ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے۔ حتیٰ کہ انہیں ناحق قتل ہی کیا اور بینات سے مراد واضح احکام بھی ہیں یعنی ٹھیک ٹھیک احکام دیئے جانے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہی رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہیں نہیں۔“ فرمایا ”سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے“، یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور نہ لڑے۔
مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے۔ سعید بن جبیر رحمة الله فرماتے ہیں ”ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے۔“ [ابن جریر]
عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہو گیا، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی۔“
اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا، جلتے کو بچا لیا، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن و امان پر آمادہ کرنا ہے۔ حسن رحمة الله سے پوچھا گیا کہ ”کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے، ہم بھی ہیں، فرمایا ہاں یقیناً اللہ کی قسم! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ باوقعت نہ تھے، پس ایک شخص کا بے سبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے۔“
{ ایک مرتبہ حمزہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے؟ } جواب دیا بچا لینا، فرمایا: { بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:175/2:ضعیف]
بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ ’ تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا ‘۔
’ اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ‘۔
قرآن کی ایک اور آیت میں ہے «وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ» ۱؎ [2-البقرة:205] ’ جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہو جاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا ‘۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کر لے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آ جانے سے پہلے توبہ کرلے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہو چکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {من أجل ذلك}: الذي ذَكَرْناه في قصَّة ابني آدم وقتل أحدِهما أخاه وسَنِّه القتل لمن بعده وأن القتل عاقبته وخيمة وخسار في الدنيا والآخرة؛ {كتبنا على بني إسرائيل}: أهل الكتب السماويَّة {أنَّه من قَتَلَ نفساً بغير نفس أو فسادٍ في الأرض}؛ أي: بغير حقٍّ {فكأنَّما قتل الناس جميعاً}؛ لأنَّه ليس معه داعٍ يَدْعوه إلى التَّبيين وأنَّه لا يقدِم على القتل إلاَّ بحقٍّ، فلمَّا تجرَّأ على قتل النفس التي لم تستحقَّ القتل؛ علم أنه لا فرقَ عنده بين هذا المقتول وبين غيرِهِ، وإنَّما ذلك بحسب ما تدعوه إليه نفسه الأمَّارة بالسوء، فتجرُّؤه على قتله كأنَّه قتل الناس جميعاً، وكذلك من أحيا نفساً؛ أي: استبقى أحداً فلم يقتله مع دعاء نفسه له إلى قتله، فمنعه خوف الله تعالى من قتلِهِ؛ فهذا كأنه أحيا الناس جميعاً؛ لأنَّ ما معه من الخوف يمنعُهُ من قتل من لا يستحقُّ القتل. ودلَّت الآية على أن القتل يجوز بأحد أمرين: إما أن يقتل نفساً بغير حقٍّ متعمِّداً في ذلك؛ فإنَّه يحلُّ قتله إن كان مكلفاً مكافئاً ليس بوالدٍ للمقتول، وإما أن يكونَ مفسداً في الأرض بإفساده لأديان الناس أو أبدانهم أو أموالهم؛ كالكُفَّار المرتدِّين والمحاربين والدُّعاة إلى البدع الذين لا ينكفُّ شرُّهم إلاَّ بالقتل، وكذلك قطَّاع الطريق ونحوِهم ممَّن يصولُ على الناس لقتلهم أو أخذ أموالهم. {ولقد جاءَتْهُم رُسُلنا بالبيناتِ}: التي لا يبقى معها حجَّةٌ لأحدٍ، {ثم إنَّ كثيراً منهم}؛ أي: من الناس {بعد ذلك}: البيان القاطع للحُجَّة الموجب للاستقامة في الأرض {لمسرفونَ}: في العمل بالمعاصي ومخالفة الرسل الذين جاؤوا بالبيِّنات والحُجَج.