تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ……:} یہ نذر یا قربانی کس لیے پیش کی گئی اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں، البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتدا میں آدم اور حوا علیہما السلام کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتے تھے، دوسرے حمل سے پھر لڑکا لڑکی ہوتے، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بہن بھائی سے کر دیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بد صورت تھی، جبکہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی، اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا، لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کے بجائے اپنی ہی بہن کے ساتھ، جو خوب صورت تھی، نکاح کرے۔ آدم علیہ السلام نے اسے سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا۔ بالآخر آدم علیہ السلام نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جس کی قربانی قبول ہو جائے گی قابیل کی بہن کا نکاح اس سے کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی، یعنی آسمان سے آگ آئی اور اسے کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی، لیکن جیسا کہ بتایا گیا ہے یہ بات ثابت نہیں ہے۔
➌ اوپرکی آیات میں یہ بیان فرمایا تھا کہ مخالفین ہر طرح سے مسلمانوں پر مصائب و شدائد لانا چاہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا «اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ» [المائدۃ: ۱۱] ”جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمھاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں۔“ مگر اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کی حفاظت فرما رہا ہے۔ اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے کچھ واقعات بیان فرمائے، جن سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ جس شخص کو بھی اﷲ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا ہے، لوگ اس سے ہمیشہ حسد و بغض سے پیش آتے رہے ہیں، چنانچہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت بھی ان کی سر کشی اور بغض و حسد پر مبنی ہے، لہٰذا ان پر افسوس اور غم نہ کیجیے۔ اب یہاں آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا، جو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، کیونکہ ایک بھائی کا دوسرے کو قتل کرنا حسد کی بنا پر تھا۔ الغرض ان تمام واقعات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے اور ہو سکتا ہے کہ بتانا مقصود ہو کہ یہود اپنے گمان میں اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کہتے ہیں: «نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ» [المائدۃ: ۱۸] اور انبیاء کی اولاد ہونے پر ان کو فخر ہے، مگر کفر اور حسد و عناد کے ساتھ یہ نسبی شرف ان کے لیے مفید نہیں ہو سکتا، آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ اس پر شاہد ہے۔ (کبیر، قرطبی) اس سے مقصد حسد سے بچنے کی تاکید ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں آدمی بنی اسرائیل سے تھے۔ یہود کا حسد بیان کرنے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے بطور مثال یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ اس کی دلیل اس قصے کے آخر میں آنے والی آیت ہے: «مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ» [المائدۃ: ۳۲] یعنی اس قصے ہی کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا…… (کبیر۔ قرطبی)
مگر صحیح بخاری اور مسلم کی ایک حدیث کی وجہ سے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی ظلم سے قتل کیا جاتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا کام شروع کیا۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیا، باب خلق آدم صلوات اﷲ علیہ و ذریتہ: ۳۳۳۵۔ مسلم: ۱۶۷۷]
➍ {اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ:} یعنی تم بھی اگر اﷲ کی نافرمانی سے بچتے اور اﷲ سے ڈرتے تو تمھاری قربانی بھی قبول ہو جاتی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[59] چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔ ہابیل ویسے بھی نیک سیرت انسان تھا اور اس لڑکی سے نکاح کا حق بھی اسی کا بنتا تھا۔ نیز اس نے قربانی میں جو اشیاء پیش کی تھیں وہ سب اچھی قسم کی تھیں اور خالصتاً رضائے الٰہی کی نیت سے پیش کی تھیں لہٰذا اسی کی قربانی کو اللہ کے حضور شرف قبولیت بخشا گیا اس کے مقابلہ میں قابیل بے انصاف اور اچھے کردار کا مالک نہ تھا اور قربانی میں بھی ناقص اور ردی قسم کی اشیاء رکھی تھیں۔ لہٰذا اس کی قربانی کی چیزیں جوں کی توں پڑی رہیں گویا اس قربانی کی کسوٹی نے بھی ہابیل ہی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو ‘۔
ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔
اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ’ زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ ‘ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ’ مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ ‘۔
حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔
اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔
بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔
نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { { جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:31]
سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ { میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا }۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: { صبر کرو }۔ پھر فرمایا: { جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ } میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ { اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے }۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: { تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ }۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: { پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔
بزار میں ایک حدیث ہے کہ { بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے }۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے ‘، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔
ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335]
مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔
یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔
اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3335]
حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔
اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف]
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔
حدیث شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»
(یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قُصَّ على الناس وأخبرهم بالقضية التي جرت على ابني آدم بالحقِّ تلاوة يَعْتَبِر بها المعتبرون صدقاً لا كذباً وجِدًّا لا لعباً. والظاهر أن ابني آدم هما ابناه لصلبه؛ كما يدلُّ عليه ظاهر الآية والسياق، وهو قول جمهور المفسرين؛ أي: اتل عليهم نبأهما في حال تقريبهما للقربان الذي أدَّاهما إلى الحال المذكورة، {إذ قَرَّبا قُرباناً}؛ أي: أخرج كلٌّ منهما شيئاً من مالِهِ لقصد التقرُّب إلى الله، {فَتُقُبِّلَ من أحدِهما ولم يُتَقَبَّلْ من الآخر}: بأن علم ذلك بخبرٍ من السماء أو بالعادة السابقة في الأمم أنَّ علامة تقبُّل الله للقربان أن تنزِلَ نارٌ من السماء فتحرقه. {قال} الابنُ الذي لم يتقبَّل منه للآخر حسداً وبغياً: {لأقْتُلَنَّكَ} فقال له الآخر مترقِّقاً له في ذلك: {إنَّما يتقبَّلُ الله من المتَّقين}؛ فأيُّ ذنبٍ لي وجناية توجبُ لك أن تقتلني إلا أني اتَّقيت الله تعالى الذي تقواه واجبةٌ عليَّ وعليك وعلى كلِّ أحد. وأصحُّ الأقوال في تفسير {المتَّقين} هنا؛ أي: المتقين لله في ذلك العمل؛ بأن يكونَ عملُهم خالصاً لوجه الله، متَّبعين فيه لسنَّة رسول الله - صلى الله عليه وسلم -.