ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 25

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ اِلَّا نَفۡسِیۡ وَ اَخِیۡ فَافۡرُقۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾
اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔ En
موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے
En
موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے الٰہی! مجھے تو بجز اپنے اور میرے بھائی کے کسی اور پر کوئی اختیار نہیں، پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں جدائی کردے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَ اَخِيْ ……:} اس پر موسیٰ علیہ السلام ایسے بد دل ہوئے کہ انھوں نے دعا کی کہ پروردگارا! میرے اختیار میں میری جان اور اپنے بھائی کے سوا کچھ نہیں، تو ہمیں ان لوگوں سے علیحدہ کر دے، ایسا نہ ہو کہ تیرا عذاب آئے اور ان کے ساتھ ہم بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں۔ (کبیر، ابن کثیر) معلوم ہوا کہ جب کوئی قوم سرکشی اور نافرمانی پر تل جائے تو بڑے بڑے جلیل القدر انبیاء اور مصلحین کی بھی وہاں کچھ پیش نہیں جاتی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 اس میں نافرمان قوم کے مقابلے میں اپنی بےبسی کا اظہار بھی ہے اور برات کا اعلان بھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ موسیٰ نے کہا: ”اے میرے پروردگار! میرا اختیار تو صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائی پر ہے لہذا ہمارے [56] اور نافرمان لوگوں کے درمیان جدائی ڈال دے
[56] موسیٰؑ اپنی قوم سے یہ جواب سن کر سخت مایوس اور غمگین ہو گئے اور اللہ کے حضور دعا کی کہ ایسی قوم سے تو میں اکیلا ہی بھلا۔ جیسے تو حکم دے میں خود حاضر ہوں یا پھر میرا بھائی ہارون۔ جو خود نبی تھے اور مصر میں فرعون اور فرعونیوں کے سامنے ہر دکھ سکھ میں شریک رہے تھے، جو میرے کہنے میں ہے۔ اگر ایسی نافرمان قوم میری بات نہیں مانتی تو اب میں کیا کر سکتا ہوں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔