ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 24

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَہَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِیۡہَا فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴿۲۴﴾
انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک ہم ہرگز اس میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں، سو تو اور تیرا رب جائو، پس دونوں لڑو، بے شک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ En
وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے
En
قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! جب تک وه وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑ بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) {قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا ……:} ان دو آدمیوں نے کہا تھا کہ تم لوگ ان پر حملے کے لیے بس دروازے میں داخل ہو جاؤ، یعنی اﷲ کے وعدے اور بشارت کے مطابق تمھارے داخلے کی دیر ہے، دشمن بھاگ جائے گا لیکن انھوں نے حد سے بڑھا ہوا گستاخانہ جملہ کہا: جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ اس کے برعکس بدر کے موقع پر جنگ کے اچانک سامنے آنے کے باوجود اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال عزم و ہمت اور شجاعت و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: «فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ» ہم تو عرض کرتے ہیں کہ آپ چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر ایسے محسوس ہوا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب پریشانی دور ہو گئی۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «فاذهب أنت وربك فقاتلا» : ۴۶۰۹]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل نے بدترین بزدلی، سوء ادبی اور سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو اور تیرا رب جا کر لڑے۔ اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد و قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھرپور عزم کا اظہار کیا اور پھر یہ کہا کہ ' یارسول اللہ! ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰ نے موسیٰ ؑ کو کہا تھا ' (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ قوم کے لوگ کہنے لگے: جب تک وہ جبار لوگ وہاں موجود ہیں، ہم تو کبھی بھی [55] داخل نہ ہوں گے۔ لہذا تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور ان سے جنگ کرو۔ ہم تو یہیں بیٹھتے ہیں
[55] بنی اسرائیل کا موسیٰؑ کو جہاد کرنے سے جواب:۔
لیکن یہ قوم جو مدت دراز سے فرعونیوں کی غلامی میں زندگی بسر کر رہی تھی اور اللہ کی بجائے بچھڑے کی پرستش کر رہی تھی اس قدر پست ہمت اور بزدل بن چکی تھی کہ موسیٰؑ کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جاتے ہم وہاں کبھی نہ جائیں گے اور نہ ہی اپنے آپ کو دیدہ دانستہ ہلاکت میں ڈالنے کو تیار ہیں اگر تمہیں جہاد پر اتنا ہی اصرار ہے تو جاؤ تم اور تمہارا رب جا کر ان سے مقابلہ کرو ہم تو یہاں سے آگے نہیں جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَ٘نْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم ينجع فيهم هذا الكلام، ولا نفع فيهم الملام، فقالوا قول الأذلين: {يا موسى إنَّا لن نَدْخُلَها أبدا ما داموا فيها فاذهبْ أنت وربُّك فقاتلا إنا ها هنا قاعدون}: فما أشنع هذا الكلام منهم، ومواجهتهم لنبيهم فيه في هذا المقام الحرج الضيق، الذي قد دعت الحاجة والضرورة إلى نصرة نبيِّهم وإعزاز أنفسهم! وبهذا وأمثاله يظهر التفاوت بين سائر الأمم وأمة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -؛ حيث قال الصحابةُ لرسول الله - صلى الله عليه وسلم - حين شاوَرَهم في القتال يوم بدرٍ، مع أنه لم يحتِّم عليهم: يا رسول الله! لو خضت بنا هذا البحر؛ لخضناه معك، ولو بلغت بنا بَرْك الغَمَاد ؛ ما تخلَّف عنك أحدٌ، ولا نقول كما قال قومُ موسى لموسى: {اذهبْ أنتَ وربُّك فقاتِلا إنَّا هاهنا قاعدون}، ولكن اذهب أنت وربك فقاتلا إنَّا معكُما مقاتِلون من بين يديك ومن خلفك وعن يمينك وعن يسارك.