تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ……:} اس میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی تین نعمتوں کا ذکر خصوصیت سے کیا ہے، ایک یہ کہ ان میں جلیل القدر انبیاء مبعوث فرمائے، جیسے اسحاق، یعقوب، یوسف اور موسیٰ علیہم السلام۔ دوسری یہ کہ ان سب (بنی اسرائیل) کو بادشاہ بنا دیا، یعنی ان کو فرعون سے آزادی دی اور اپنی حکومت عطا فرمائی۔ معلوم ہوا کہ آزاد اور حاکم قوم کا ہر فرد ہی بادشاہ اور محکوم قوم کا ہر فرد غلام ہوتا ہے۔ تیسری یہ کہ انھیں توحید کا علم بردار بنایا، جبکہ دوسری تمام قومیں شرک میں مبتلا تھیں۔ اس تیسری نعمت میں وہ معجزات بھی شامل ہیں جو بنی اسرائیل کی مدد کے لیے وجود میں آئے، مثلاً سمندر کا پھٹنا، بادل کا سایہ، پتھر سے چشمے کا پھوٹنا، من و سلویٰ وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا }۔ ۱؎ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے { جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے { جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» ۱؎ [45-الجاثية:16] ’ ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی ‘۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ۱؎ [3-آل عمران:110]، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» ۱؎ [2-البقرۃ:143]۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» ۱؎ [11-هود:43] ’ آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں ‘۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ { بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ } اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ ۱؎ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں }، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ’ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے ‘، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔
فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔
بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ’ بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں ‘ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔
نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔
پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما امتنَّ الله على موسى وقومه بنجاتهم من فرعون وقومه وأسرِهم واستعبادِهم؛ ذهبوا قاصدين لأوطانِهِم ومساكنِهِم، وهي بيت المقدس وما حواليه، وقارَبوا وصولَ بيت المقدس، وكان الله قد فَرَضَ عليهم جهادَ عدوِّهم لِيُخْرِجوه من ديارهم، فوعَظَهم موسى عليه السلام وذكَّرهم ليقدموا على الجهادِ، فقال: {اذْكُروا نعمةَ الله عليكم}: بقلوبِكم وألسنتِكم؛ فإنَّ ذِكْرَها داعٍ إلى محبَّته تعالى ومنشطٌ على العبادة، {إذ جَعَلَ فيكم أنبياءَ}: يدعونكم إلى الهدى ويحذِّرونكم من الرَّدى، ويحثُّونكم على سعادتكم الأبديَّة، ويعلِّمونكم ما لم تكونوا تعلمون، {وجعلكم ملوكاً}: تملِكون أمركم بحيث إنّه زال عنكم استعبادُ عدوِّكم لكم فكنتُم تملِكون أمركم، وتتمكَّنون من إقامة دينكم، {وآتاكم}: من النِّعم الدينيَّة والدنيويَّة {ما لم يؤتِ أحداً من العالمينَ}: فإنَّهم في ذلك الزمان خيرة الخلق وأكرمهم على الله، وقد أنعم عليهم بنعم ما كانت لغيرهم، فذكَّرهم بالنعم الدينيَّة والدنيويَّة الداعي ذلك لإيمانهم وثباته، وثباتهم على الجهاد وإقدامهم عليه.