لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ؕ وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾
بلاشبہ یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے جنھوں نے کہا کہ بے شک اللہ مسیح ہی تو ہے، جو مریم کا بیٹا ہے، کہہ دے پھر کون اللہ سے کسی چیز کا مالک ہے، اگر وہ ارادہ کرے کہ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور زمین میں جو لوگ ہیں سب کو ہلاک کر دے، اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
En
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
یقیناً وه لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والده اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں و زمین اور دونوں کے درمیان کا کل ملک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 17) ➊ {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا ……:} یعنی جنھوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ اور مسیح ایک ہی چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ پرانے زمانے میں یہ صرف نصرانیوں کے ایک فرقے یعقوبیہ کا عقیدہ تھا، مگر اس زمانے میں نصرانیوں کے جو تین فرقے پروٹسٹنٹ، کیتھولک اور آرتھوڈکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب اگرچہ تثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح علیہ السلام کو الٰہ(خدا) ماننا ہے، گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح کے ایک چیز ہونے کے قائل ہیں۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ (المنار) مسلمانوں میں الحمد ﷲ توحید الٰہی پر قائم لوگ کثرت سے موجود ہیں، مگر کئی ایسے گمراہ بھی ہیں جنھوں نے صاف کہہ دیا:
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
یہ بعینہٖ اوپر مذکور شرکیہ عقیدہ ہے، اﷲ تعالیٰ سب مسلمانوں کو توحید الٰہی کا عقیدہ رکھنے کی ہدایت اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
➋ {قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا ……:} یعنی وہ مالک کل اور مختار کل ہے اور سب چیزوں پر اسے قدرت اور برتری حاصل ہے، وہ چاہے تو سب کو آن کی آن میں فنا کر سکتا ہے، اگر مسیح علیہ السلام خدا ہوتے تو کم از کم خود کو اور اپنی والدہ کو تو بچا سکتے تھے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کر لیا اور ان کو بھی مقرر وقت پر فوت کرے گا، وہ موت سے بچ نہیں سکیں گے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (کبیر،قرطبی)
➌ {يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} یعنی وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے، آدم علیہ السلام کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دینا اس کے لیے کیا مشکل تھا، محض باپ کے بغیر پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کسی جگہ انبیاء کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھائیں۔ (موضح)
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
یہ بعینہٖ اوپر مذکور شرکیہ عقیدہ ہے، اﷲ تعالیٰ سب مسلمانوں کو توحید الٰہی کا عقیدہ رکھنے کی ہدایت اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
➋ {قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا ……:} یعنی وہ مالک کل اور مختار کل ہے اور سب چیزوں پر اسے قدرت اور برتری حاصل ہے، وہ چاہے تو سب کو آن کی آن میں فنا کر سکتا ہے، اگر مسیح علیہ السلام خدا ہوتے تو کم از کم خود کو اور اپنی والدہ کو تو بچا سکتے تھے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کر لیا اور ان کو بھی مقرر وقت پر فوت کرے گا، وہ موت سے بچ نہیں سکیں گے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (کبیر،قرطبی)
➌ {يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} یعنی وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے، آدم علیہ السلام کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دینا اس کے لیے کیا مشکل تھا، محض باپ کے بغیر پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کسی جگہ انبیاء کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھائیں۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور ملکیت تامہ کا بیان فرمایا ہے۔ مقصد عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کا رد وابطال ہے۔ حضرت عیسیٰ کے عین اللہ ہونے کے قائل پہلے تو کچھ ہی لوگ تھے یعنی ایک ہی فرقہ۔ یعقوبیہ کا یہ عقیدہ تھا لیکن اب تمام عیسائی الوہیت مسیح کے کسی نہ کسی انداز سے قائل ہیں۔ اس لئے مسیحیت میں اب عقیدہ تثلیث یا اقانیم ثلاثہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بہرحال قرآن نے اس مقام پر تصریح کردی کہ کسی پیغمبر اور رسول کو الٰہی صفات سے متصف قرار دینا کفر صریح ہے۔ اس کفر کا ارتکاب عیسائیوں نے، حضرت مسیح کو اللہ قرار دے کر کیا، اگر کوئی اور گروہ یا فرقہ کسی اور پیغمبر کو بشریت و رسالت کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کرے گا تو وہ بھی اسی کفر کا ارتکاب کرے گا،
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ یقیناً وہ لوگ کافر ہیں جنہوں نے کہا کہ ”مسیح ابن مریم [45] ہی اللہ ہے“ آپ ان سے پوچھئے کہ: ”اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو اور اس کی والدہ [46] کو اور جو کچھ بھی زمین میں ہے ان سب کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ وہ اللہ کو اس کے ارادہ سے روک سکے؟“ اور جو کچھ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان ہے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے [47] اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [48]
[45] نصاریٰ کا قول کہ عیسیٰ ہی عین اللہ ہے اور اس کا رد:۔
یہ کافر لوگ عیسائی یا نصاریٰ ہیں جنہوں نے عیسیٰؑ کی بشریت میں الوہیت کو ضم کرنے کی کوشش کی۔ یہ انداز فکر چونکہ سراسر گمراہی اور شرک پر مبنی تھا۔ اس لیے گمراہی کی کئی راہیں پیدا ہو گئیں۔ ایک فرقے نے الوہیت کے پہلو کو نمایاں کیا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰؑ کے جسم میں حلول کر گیا لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کا عین ہے یا عین اللہ تعالیٰ ہے اور جنہوں نے بشریت کے پہلو کو نمایاں کیا انہوں نے کہا کہ عیسیٰ عین اللہ تو نہیں البتہ ابن اللہ ضرور ہیں۔ اور جنہوں نے درمیانی تیسری گمراہی کی راہ اختیار کی انہوں نے کہا کہ اللہ ایک نہیں بلکہ تین ہیں اور تینوں ہی ازلی ابدی ہیں۔ ایک اللہ دوسرے عیسیٰؑ اور تیسرے روح القدس پھر یہ تین مل کر بھی ایک الہ بنتا ہے۔ پھر مدتوں بعد سیدہ مریم کو بھی الوہیت میں شریک سمجھا جانے لگا (وغیرہ من الخرافات)
[42] عیسائی حضرات عیسیٰؑ اور سیدہ مریمؑ دونوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰؑ اپنے آپ کو (بقول نصاریٰ) صلیب پر چڑھنے سے اور سیدہ مریمؑ یہود کی تہمت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے تو پھر ان کی الوہیت کیسی تھی؟ اور اگر اللہ ان دونوں کو اور ان کے علاوہ جتنے بھی انسان اس زمین پر موجود ہیں سب کو آن کی آن میں نیست و نابود کر دے تو کوئی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے؟ کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اور مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔
[47] یعنی اس نے عیسیٰؑ کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حوا کو ماں کے بغیر اور سیدنا آدمؑ کی وساطت سے پیدا کیا اور سیدنا آدمؑ کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اور چوتھی اور سب سے عام شکل یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر طرح سے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
[42] عیسائی حضرات عیسیٰؑ اور سیدہ مریمؑ دونوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰؑ اپنے آپ کو (بقول نصاریٰ) صلیب پر چڑھنے سے اور سیدہ مریمؑ یہود کی تہمت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے تو پھر ان کی الوہیت کیسی تھی؟ اور اگر اللہ ان دونوں کو اور ان کے علاوہ جتنے بھی انسان اس زمین پر موجود ہیں سب کو آن کی آن میں نیست و نابود کر دے تو کوئی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے؟ کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اور مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔
[47] یعنی اس نے عیسیٰؑ کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حوا کو ماں کے بغیر اور سیدنا آدمؑ کی وساطت سے پیدا کیا اور سیدنا آدمؑ کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اور چوتھی اور سب سے عام شکل یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر طرح سے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
[48] یہود و نصاریٰ کا یہ قول کہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں:۔
یعنی وہ سزا جو انہیں اس دنیا میں ہی مل رہی ہے اگر وہ فی الواقع اللہ کے محبوب ہیں تو یہ سزا اور رسوائی کیوں ہو رہی ہے۔ سابقہ ادوار میں دو دفعہ تمہیں تباہ و برباد کیا گیا اور آج تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا کوئی اپنے محبوب یا پیاروں کو بھی سزا دیتا اور رسوا کرتا ہے؟ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔ دوسرا دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں اس لحاظ سے اللہ کے محبوب ہیں اور اخروی عذاب ہمیں نہیں ہو گا۔ اس دعویٰ کی تردید اللہ نے یوں فرمائی کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنی چاہیے جس سے معلوم ہوا کہ صرف انسان کے اعمال ہی اس کی نجات اخروی کا ذریعہ بن سکتے ہیں حسب و نسب وہاں کچھ کام نہ آ سکے گا۔
قیامت کے دن حسب و نسب کچھ کام نہ آئے گا:۔
چنانچہ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا اس کا نسب اسے آگے نہ کر سکے گا“
[مسلم کتاب الذکر۔ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن]
اور جب سورۃ شعراء کی آیت: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا مثلاً اے عباس بن عبد المطلب! میں تیرے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے صفیہ! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) میں آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال میں سے جو تم چاہو مجھ سے (دنیا میں) طلب کر لو۔ میں تمہارے کسی کام نہ آ سکوں گا۔
[بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ شعراء۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب۔ وانذر عشیر تک الاقربین]
[مسلم کتاب الذکر۔ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن]
اور جب سورۃ شعراء کی آیت: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا مثلاً اے عباس بن عبد المطلب! میں تیرے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے صفیہ! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) میں آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال میں سے جو تم چاہو مجھ سے (دنیا میں) طلب کر لو۔ میں تمہارے کسی کام نہ آ سکوں گا۔
[بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ شعراء۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب۔ وانذر عشیر تک الاقربین]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ وحدہ لا شریک ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کر سکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔
سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں ‘۔
سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں ‘۔
نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں ‘۔
اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل علیہ السلام کو کہا ہے «(أَنْتَ ابْنِي بِكْرِي)» پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔
اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «(إِنِّي ذَاھِبٌ اِلـٰی اَبِیْ وَاَبِیْکُمْ)» اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا۔ پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔
اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل علیہ السلام کو کہا ہے «(أَنْتَ ابْنِي بِكْرِي)» پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔
اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «(إِنِّي ذَاھِبٌ اِلـٰی اَبِیْ وَاَبِیْکُمْ)» اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا۔ پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ ’ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے؟ ‘۔
کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ ”کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی۔“
یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے، ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں نہیں لے جائے گا }۔“ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ ”کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی۔“
یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے، ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں نہیں لے جائے گا }۔“ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ ’ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کر سکتا، وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے“ اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کرے گا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا ‘۔
نعمان بن آصا، بحر بن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11616:ضعیف]
ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلونٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے ’ وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا ‘۔
نعمان بن آصا، بحر بن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11616:ضعیف]
ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلونٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے ’ وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا ‘۔