تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ:} یعنی جبریل علیہ السلام کو تمھاری مدد کے لیے مقرر کر دیا تھا۔ پہلا احسان یہ ذکر فرمایا۔
➌ {وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ:} یہاں {” تَخْلُقُ “} کا لفظ صرف ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا: [أَحْيُوْا مَا خَلَقْتُمْ] [بخاری، اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ: ۵۹۵۱] ”جو تم نے خلق کیا ہے اسے زندہ کرو۔“ پیدا کرنے اور زندگی دینے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۴۹)۔
➍ {كَهَيْـَٔةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ:} اس آیت میں {” بِاِذْنِيْ “} (میرے حکم سے) کا لفظ چار مرتبہ آیا ہے، جس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو عیسیٰ(علیہ السلام) یہ معجزات نہیں دکھا سکتے تھے اور یہی حال ہر نبی کے معجزات کا ہے، وہ نہ عالم الغیب ہوتے ہیں، نہ انھیں ہر کام کا اختیار ہوتا ہے، جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا جائے یا جس کام کا اختیار دیا جائے صرف وہی ان کے علم اور اختیار میں ہوتا ہے۔
➎ {وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ …:} یہودیوں نے جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے شر سے محفوظ رکھا اور اپنی طرف اٹھا لیا اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران(۵۵) اور سورۂ نساء(۱۵۸) یہ بھی احسان فرمایا۔
➏ {اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ:} عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے منکروں نے ان کے معجزات کو کھلا جادو قرار دیا۔ بدبخت اتنا نہ سمجھ سکے کہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفایاب اور مردے کو زندہ کرنا کسی جادوگر کے لیے ممکن نہیں، چاہے وہ جادو میں کتنا ہی کمال کیوں نہ رکھتا ہو اور یوں بھی جادو کرنا اور کرانا فاسق و بدکار قسم کے لوگوں کا کام ہے، حالانکہ وہ خود دیکھ رہے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام انھیں ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کا حکم دیتے تھے۔ یہود کی اس حرکت کی بنیاد حسد تھی اور سچ ہے کہ {” كُلُّ ذِيْ نِعْمَةٍ مَحْسُوْدٌ “} ہر صاحب نعمت پر لوگ حسد کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[159] سوال و جواب سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے احسانات کا تذکرہ کیا ہے یہ احسانات قرآن کریم میں جا بجا مذکور ہیں۔ ان میں اکثر اس مقام پر یک جا کر کے ذکر کیے گئے ہیں۔ اور وہ حسب ذیل ہیں۔
(1)
(2) آپ کی والدہ مریم پر اللہ کا یہ احسان تھا کہ آپ کو یہودیوں کی تہمت سے بری قرار دیا۔
(3) عیسیٰ (علیہ السلام) بالکل چھوٹی عمر میں، جبکہ بچہ بولنا سیکھتا بھی نہیں، اس طرح کلام کرتے تھے جیسے ایک پختہ عقل والا آدمی گفتگو کرتا ہے۔
(4) آپ بارہ سال کی عمر میں تورات کی عبارتیں زبانی یوں فر فر سنا دیا کرتے تھے کہ یہود کے بڑے بڑے علماء اور فریسی یہ صورت حال دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ پھر تیس سال کی عمر میں آپ کو نبوت عطا ہوئی، اور آپ پر انجیل نازل ہوتی رہی۔
(5)
(6) نیز اسی نفخہ جبریلیہ کے اثر یا روح القدس کی تائید سے مادر زاد اندھے کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ اللہ کے حکم سے بینا بن جاتا تھا اور اس کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہو کر دیکھنے لگتی تھیں۔
(7) اگر آپ کسی برص والے یعنی کوڑھی کے بدن پر ہاتھ پھیرتے تو وہ اللہ کے حکم سے بالکل تندرست ہوجاتا تھا۔
(8) آپ کسی قبر میں پڑے ہوئے مردے کو زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونے کو کہتے تو وہ اللہ کے حکم سے قبر سے نکل کر کھڑا ہوجاتا تھا۔
(9) اتنے ڈھیروں معجزات کے باوجود بنی اسرائیل نے آپ کو جھٹلا دیا اور کہنے لگے کہ تم جادوگر ہو اور تمہارے یہ کارنامے سب کچھ جادو ہی کا کرشمہ ہیں لہذا وہ تمہارے درپے آزار ہوگئے اور تمہیں صلیب پر چڑھانے کی کوشش کی مگر اللہ نے انہیں ان سے بچا کر اپنے پاس اٹھا لیا تھا۔
(10) جب بنی اسرائیل کے سب لوگ ان کے دشمن بن گئے اور کوئی ایمان نہ لایا تو حواریوں کو اللہ نے الہام کیا تھا کہ مجھ پر اور آپ پر ایمان لا کر آپ کی ہر طرح سے مدد اور تعاون پر کمر بستہ ہوجائیں۔
غرض اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو احسانات کیے تھے وہ اس لیے جتلائے جا رہے ہیں کہ ان میں اشارتاً یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر وہ اللہ یا اللہ کے بیٹے ہوتے تو انہیں ان احسانات کی کیا حاجت تھی؟ نیز سیدنا عیسیٰ کی ولادت سے لے کر ان کو اپنے ہاں اٹھانے تک کے تمام واقعات ایسے ہیں جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبدیت پر دلالت کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت کی طرف لوگوں کو بلایا۔
ابو ہذیل فرماتے ہیں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کسی مردے کے زندہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے پہلی میں سورۃ تبارک «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» [67-الملک] اور دوسری میں سورۃ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ» [32-السجدہ] پڑھتے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھتے اور اس کے سات نام لیتے جو یہ ہیں «يَا قَدِيمُ، يَا خَفِيُّ، يَا دَائِمُ، يَا فَرْدُ، يَا وَتْرُ، يَا أَحَدُ، يَا صَمَدُ» پھر آپ علیہ السلام کو کوئی سختی پہنچتی تو اللہ تعالیٰ کے سات نام اور لیتے «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ» ، «یا اللہُ» ، «یا رَّحْمَـٰن» ، «یا رَّحِيم» ، «یا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ» ، «یا نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَرَبّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ یارَبّ» ۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1241/4] یہ اثر بڑا زبردست اور عظمت والا ہے۔
’ اور میرے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم دلائل و براہیں لے کر اپنی امت کے پاس آئے اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے اسے جادو بتایا اور درپے آزار ہوئے تو ان کے شر سے میں نے تمہیں بچا لیا، انہوں نے قتل کرنا چاہا، سولی دینا چاہی، لیکن میں ہمیشہ تیرا کفیل و حفیظ رہا ‘۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ احسان آپ علیہ السلام کے آسمان پر چڑھا لینے کے بعد کے ہیں یا یہ کہ یہ خطاب آپ علیہ السلام سے بروز قیامت ہوگا اور ماضی کے صیغہ سے اس کا بیان اس کے پختہ اور یقینی ہونے کے سبب ہے۔ یہ غیبی اسرار میں سے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیا۔
یہاں بھی لفظ وحی کا اطلاق ویسا ہی ہے جیسا ام موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور شہد کی مکھی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے الہام رب پر عمل کیا، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تیری زبانی ان تک اپنی وحی پہنچائی اور انہیں قبولیت کی توفیق دی، تو انہوں نے مان لیا اور کہہ دیا کہ ہم تو مسلمین یعنی تابع فرمان اور فرماں بردار ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إذ قالَ الله يا عيسى ابنَ مريم اذْكُرْ نعمتي عليك وعلى والِدَتِكَ}؛ أي: اذْكُرْها بقلبِك ولسانِك، وقُم بواجِبِها شكراً لربِّك، حيثُ أنعم عليك نِعَماً ما أنعم بها على غيرك، {إذ أيَّدتُك بروح القُدُس}؛ أي: إذ قوَّيْتك بالرُّوح والوحي الذي طهَّرَكَ وزكَّاك وصار لك قوة على القيام بأمر الله والدعوةِ إلى سبيله. وقيل: إنَّ المراد بروح القُدُس جبريلُ عليه السلام، وأنَّ الله أعانه به وبملازمتِهِ له وتثبيتِهِ في المواطن المُشِقَّة، {تكلِّمُ الناس في المهد وكهلاً}: المراد بالتَّكليم هنا غير التكليم المعهود الذي هو مجرد الكلام، وإنما المراد بذلك التكليم الذي ينتفع به المتكلِّم والمخاطب، وهو الدعوة إلى الله، ولعيسى عليه السلام من ذلك ما لإخوانه من أولي العزم من المرسلين من التكليم في حال الكهولة بالرسالة والدعوة إلى الخير والنهي عن الشرِّ، وامتازَ عنهم بأنَّه كلَّم الناس في المهد، فقال: {إنِّي عبدُ اللهِ آتانِيَ الكِتابَ وجَعَلني نبياً، وَجَعَلَني مباركاً أين ما كنتُ وأوصاني بالصَّلاة والزَّكاةِ ما دمتُ حيًّا ... } الآية.
{وإذْ علَّمْتُك الكتابَ والحكمةَ}؛ فالكتابُ: يشمل الكتب السابقة، وخصوصاً التوراة؛ فإنه من أعلم أنبياء بني إسرائيل بعد موسى بها، ويشمل الإنجيل الذي أنزله الله عليه. والحكمة: هي معرفة أسرار الشرع وفوائده وحكمه وحسن الدعوة والتعليم ومراعاة ما ينبغي على الوجه الذي ينبغي. {وإذ تَخْلُقُ من الطينِ كهيئة الطَّيْرِ}؛ أي: طيراً مصوّراً لا روح فيه، {فتَنفُخُ} فيه فيكون {طيراً} بإذنِ اللهِ {وتُبْرِئُ الأكمهَ}: الذي لا بَصَرَ له ولا عينَ، {والأبرصَ بإذني وإذْ تُخْرِجُ الموتى بإذني}: فهذه آيات بيناتٌ ومعجزاتٌ باهرات يعجَزُ عنها الأطباء وغيرُهم أيَّد الله بها عيسى وقوَّى بها دعوته. {وإذ كففتُ بني إسرائيل عنك إذ جئتَهم بالبيناتِ فقال الذين كفروا منهم} ـ لما جاءهم الحقُّ مؤيَّداً بالبيناتِ الموجبة للإيمان به ـ: {إن هذا إلا سحرٌ مبينٌ}: وهمُّوا بعيسى أن يقتُلوه وسَعَوا في ذلك فكفَّ الله أيديَهم عنه، وحفظه منهم، وعصمه.
فهذه مننٌ امتنَّ الله بها على عبده ورسوله عيسى ابن مريم ودعاه إلى شكرها والقيام بها، فقام بها عليه الصلاة (والسلام) ، أتمَّ القيام، وصَبَرَ كما صَبَرَ إخوانهُ من أولي العزم.