ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 108

ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجۡہِہَاۤ اَوۡ یَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَیۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾٪
یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو اس کے طریقے پر ادا کریں، یا اس سے ڈریں کہ (ان کی) قسمیں ان (قرابت داروں) کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور اللہ سے ڈرو اور سنو اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
En
یہ قریب ذریعہ ہے اس امر کا کہ وه لوگ واقعہ کو ٹھیک طور پر ﻇاہر کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ ان سے قسمیں لینے کے بعد قسمیں الٹی پڑ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سنو! اور اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 107 میں تا آیت 109 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 یہ اس فائدے کا ذکر ہے جو اس حکم میں پنہاں ہے، جس کا ذکر یہاں کیا گیا وہ یہ کہ یہ طریقہ اختیار کرنے میں اوصیا صحیح صحیح گواہی دیں گے کیونکہ انہیں خطرہ ہوگا کہ اگر ہم نے خیانت یا دروغ گوئی یا تبدیلی کا ارتکاب کیا تو یہ کاروائیاں خود ہم پر الٹ سکتی ہیں۔ اس واقعہ کی شان نزول میں بدیل بن ابی مریم کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شام تجارت کی غرض سے گئے، وہاں بیمار اور قریب المرگ ہوگئے، ان کے پاس سامان ایک چاندی کا پیالہ تھا جو انہوں نے دو عیسائیوں کے سپرد کر کے اپنے رشتہ داروں تک پہنچانے کی وصیت کردی اور فوت ہوگئے، یہ دونوں وصی جب واپس آئے تو پیالہ تو انہوں نے بیچ کر پیسے آپس میں تقسیم کرلئے اور باقی سامان ورثا کو پہنچا دیا۔ سامان میں ایک رقعہ بھی تھا جس میں سامان کی فہرست تھی جس کی رو سے چاندی کا پیالہ گم تھا، ان سے کہا گیا تو انہوں نے جھوٹی قسم کھالی لیکن بعد میں پتہ چل گیا کہ وہ پیالہ انہوں نے فلاں صراف کو بیچا ہے۔ چناچہ انہوں نے ان غیر مسلموں کے مقابلے میں قسمیں کھا کر ان سے پیالے کی رقم وصول کی۔ یہ روایت تو سندا ضعیف ہے۔ (ترمذی 359 به تحقیق أحمد شاکر) تاہم ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس سے بھی مختصراً یہ مروی ہے، جسے علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے (صحیح ترندی)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

108۔ اس طریقہ سے [156] زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیا کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ کہیں ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے ان کی تردید نہ ہوجائے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام دھیان سے سنو اور اللہ نافرمان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا
[156] ان آیات میں چند باتیں قابل ذکر ہیں جو یہ ہیں۔
(1) یہاں پہلی دفعہ شہداء کا جو ذکر آیا ہے وہ وصی کے معنوں میں آیا ہے یعنی وہ لوگ جن کو میت اپنا ترکہ حوالہ کر کے انہیں وصیت کرے۔
(2) غیر مسلموں کو صرف اس صورت میں وصی بنایا جاسکتا ہے جب مسلم وصی دستیاب نہ ہو رہے ہوں جیسے سفر میں اکثر ایسی ضرورت پیش آجاتی ہے۔
(3) آئندہ کے لیے یہ قانون مقرر کردیا گیا کہ اگر وصی کے بیانات میں کچھ شک پڑجائے تو اس کے بعد ان سے اہل تر گواہوں کی شہادت کی بنا پر اوصیاء کی گواہی کو کالعدم بھی قرار دیا جاسکتا ہے لہذا انہیں چاہیے کہ گواہی ٹھیک ٹھیک دیا کریں تاکہ بعد میں رسوائی نہ ہو۔
(4) صحیح تر بات یہ ہے کہ وہ اپنی رسوائی سے ڈرتے ہوئے سچ بولنے کی بجائے اگر اللہ سے ڈر کر سچی گواہی دیں تو یہی بات زیادہ مناسب ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔
«أَوْلَيَانِ» کی دوسری قرأت «‏‏‏‏اَوّلَانِ» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم۔
یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابومریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کر دیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لیے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔
تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تونے لے لیے ہیں وہ بھی واپس کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ { اس سے قسم لی جائے }۔ اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن العاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3059،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکے میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2780]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کر دیا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو مان لیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3065،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، تمیم بن داری رضی اللہ عنہ کا اسلام سنہ ٩ ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔
سدی رحمة الله فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہو جائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کر دیا جائے۔
اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کر دیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہو جائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہو جائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آ جائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اس طریق سے بہت قریب ہے۔ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنْ یَّ٘اْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْ٘فٰسِقِیْنَ اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔
ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔
اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔
یہ آیات کریمہ تمیم داری رضی اللہ عنہ اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059) (ص۔ی) ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔
(۱) وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔
(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں۔
(۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔
(۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں۔
(۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔
(۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔
(۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔
(۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔
(۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔
(۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔
(۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
(۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله تعالى في بيان حكمة تلك الشهادة وتأكيدها وردِّها على أولياء الميِّت حين تظهر من الشاهدين الخيانة: {ذلك أدنى}؛ أي: أقرب {أن يأتوا بالشَّهادة على وجهها}: حين تؤكَّد عليهما تلك التأكيدات {أو يخافوا أن تُرَدَّ أيمانٌ بعد أيْمانِهِم}؛ أي: أن لا تُقبل أيمانُهم ثم تردَّ على أولياء الميت {والله لا يهدي القومَ الفاسقين}: أي: الذين وَصْفُهم الفسقُ؛ فلا يريدون الهدى والقصد إلى الصراط المستقيم.

وحاصل هذا أنَّ الميِّت إذا حضره الموت في سفر ونحوه مما هو مَظِنَّة قلة الشهود المعتبرين: أنه ينبغي أن يوصِيَ شاهدَيْن مسلمَيْن عدلين؛ فإن لم يجد إلا شاهدين كافرين؛ جاز أن يوصي إليهما، ولكن لأجل كفرهما؛ فإن الأولياء إذا ارتابوا بهما؛ فإنهم يحلِّفونهما بعد الصلاة أنَّهما ما خانا ولا كذبا ولا غيَّرا ولا بدَّلا، فيبرآن بذلك من حقٍّ يتوجَّه إليهما؛ فإن لم يصدِّقوهما ووجدوا قرينةً تدلُّ على كذب الشاهدين؛ فإن شاء أولياءُ الميِّت؛ فليقم منهم اثنان، فيقسِمان بالله لشهادَتُهُما أحقُّ من شهادة الشاهدين الأولين، وأنَّهما خانا وكذَبا، فيستحقون منهما ما يدَّعون.

وهذه الآيات الكريمة نزلت في قصة تميم الداريِّ وعديِّ بن بداء المشهورة ، حين أوصى لهما العدويُّ. والله أعلم.

ويُستدلُّ بالآيات الكريمات على عدة أحكام:

منها: أن الوصية مشروعةً، وأنه ينبغي لمن حَضَرَه الموت أن يوصي.

ومنها: أنها معتبرةٌ ولو كان الإنسان وَصَلَ إلى مقدِّمات الموت وعلامته ما دام عقله ثابتاً.

ومنها: أن شهادة الوصية لا بدَّ فيها من اثنين عدلين.

ومنها: أن شهادة الكافرين في هذه الوصية ونحوها مقبولةٌ لوجود الضَّرورة. وهذا مذهب الإمام أحمد. وزعم كثير من أهل العلم أن هذا الحكم منسوخ، وهذه دعوى لا دليل عليها.

ومنها: أنه ربَّما استُفيد من تلميح الحكم ومعناه، أنَّ شهادة الكفار عند عدم غيرهم حتى في غير هذه المسألة مقبولةٌ؛ كما ذهب إلى ذلك شيخ الإسلام ابن تيمية.

ومنها: جواز سفر المسلم مع الكافر إذا لم يكن محذورٌ.

ومنها: جواز السفر للتجارة.

ومنها: أن الشاهدين إذا ارتيب منهما، ولم تبدُ قرينةٌ تدلُّ على خيانتهما، وأراد الأولياء أن يؤكِّدوا عليهم اليمين، ويحبِسوهما من بعد الصلاة، فيقسمان بصفة ما ذكر الله تعالى.

ومنها: أنه إذا لم تحصل تهمةٌ ولا ريبٌ؛ لم يكن حاجةٌ إلى حبسهما وتأكيد اليمين عليهما.

ومنها: تعظيم أمر الشهادة؛ حيث أضافها تعالى إلى نفسه، وأنه يجب الاعتناء بها والقيام بها بالقسط.

ومنها: أنَّه يجوز امتحان الشاهدين عند الرِّيبة منهما وتفريقهما لينظرعن شهادتهما.

ومنها: أنه إذا وُجدت القرائن الدَّالة على كذب الوصيين في هذه المسألة؛ قام اثنان من أولياء الميت، فأقسما بالله أن أيماننا أصدق من أيمانهما ولقد خانا وكذبا، ثم يُدفع إليهما ما ادَّعياه، وتكون القرينة مع أيمانهما قائمة مقام البيِّنة.