تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) یہاں پہلی دفعہ شہداء کا جو ذکر آیا ہے وہ وصی کے معنوں میں آیا ہے یعنی وہ لوگ جن کو میت اپنا ترکہ حوالہ کر کے انہیں وصیت کرے۔
(2) غیر مسلموں کو صرف اس صورت میں وصی بنایا جاسکتا ہے جب مسلم وصی دستیاب نہ ہو رہے ہوں جیسے سفر میں اکثر ایسی ضرورت پیش آجاتی ہے۔
(3) آئندہ کے لیے یہ قانون مقرر کردیا گیا کہ اگر وصی کے بیانات میں کچھ شک پڑجائے تو اس کے بعد ان سے اہل تر گواہوں کی شہادت کی بنا پر اوصیاء کی گواہی کو کالعدم بھی قرار دیا جاسکتا ہے لہذا انہیں چاہیے کہ گواہی ٹھیک ٹھیک دیا کریں تاکہ بعد میں رسوائی نہ ہو۔
(4) صحیح تر بات یہ ہے کہ وہ اپنی رسوائی سے ڈرتے ہوئے سچ بولنے کی بجائے اگر اللہ سے ڈر کر سچی گواہی دیں تو یہی بات زیادہ مناسب ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«أَوْلَيَانِ» کی دوسری قرأت «اَوّلَانِ» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم۔
یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابومریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کر دیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لیے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔
تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تونے لے لیے ہیں وہ بھی واپس کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ { اس سے قسم لی جائے }۔ اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن العاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3059،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کر دیا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو مان لیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3065،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، تمیم بن داری رضی اللہ عنہ کا اسلام سنہ ٩ ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔
اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کر دیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہو جائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہو جائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔
پھر بیان ہوتا ہے کہ ’ اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آ جائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله تعالى في بيان حكمة تلك الشهادة وتأكيدها وردِّها على أولياء الميِّت حين تظهر من الشاهدين الخيانة: {ذلك أدنى}؛ أي: أقرب {أن يأتوا بالشَّهادة على وجهها}: حين تؤكَّد عليهما تلك التأكيدات {أو يخافوا أن تُرَدَّ أيمانٌ بعد أيْمانِهِم}؛ أي: أن لا تُقبل أيمانُهم ثم تردَّ على أولياء الميت {والله لا يهدي القومَ الفاسقين}: أي: الذين وَصْفُهم الفسقُ؛ فلا يريدون الهدى والقصد إلى الصراط المستقيم.
وحاصل هذا أنَّ الميِّت إذا حضره الموت في سفر ونحوه مما هو مَظِنَّة قلة الشهود المعتبرين: أنه ينبغي أن يوصِيَ شاهدَيْن مسلمَيْن عدلين؛ فإن لم يجد إلا شاهدين كافرين؛ جاز أن يوصي إليهما، ولكن لأجل كفرهما؛ فإن الأولياء إذا ارتابوا بهما؛ فإنهم يحلِّفونهما بعد الصلاة أنَّهما ما خانا ولا كذبا ولا غيَّرا ولا بدَّلا، فيبرآن بذلك من حقٍّ يتوجَّه إليهما؛ فإن لم يصدِّقوهما ووجدوا قرينةً تدلُّ على كذب الشاهدين؛ فإن شاء أولياءُ الميِّت؛ فليقم منهم اثنان، فيقسِمان بالله لشهادَتُهُما أحقُّ من شهادة الشاهدين الأولين، وأنَّهما خانا وكذَبا، فيستحقون منهما ما يدَّعون.
وهذه الآيات الكريمة نزلت في قصة تميم الداريِّ وعديِّ بن بداء المشهورة ، حين أوصى لهما العدويُّ. والله أعلم.
ويُستدلُّ بالآيات الكريمات على عدة أحكام:
منها: أن الوصية مشروعةً، وأنه ينبغي لمن حَضَرَه الموت أن يوصي.
ومنها: أنها معتبرةٌ ولو كان الإنسان وَصَلَ إلى مقدِّمات الموت وعلامته ما دام عقله ثابتاً.
ومنها: أن شهادة الوصية لا بدَّ فيها من اثنين عدلين.
ومنها: أن شهادة الكافرين في هذه الوصية ونحوها مقبولةٌ لوجود الضَّرورة. وهذا مذهب الإمام أحمد. وزعم كثير من أهل العلم أن هذا الحكم منسوخ، وهذه دعوى لا دليل عليها.
ومنها: أنه ربَّما استُفيد من تلميح الحكم ومعناه، أنَّ شهادة الكفار عند عدم غيرهم حتى في غير هذه المسألة مقبولةٌ؛ كما ذهب إلى ذلك شيخ الإسلام ابن تيمية.
ومنها: جواز سفر المسلم مع الكافر إذا لم يكن محذورٌ.
ومنها: جواز السفر للتجارة.
ومنها: أن الشاهدين إذا ارتيب منهما، ولم تبدُ قرينةٌ تدلُّ على خيانتهما، وأراد الأولياء أن يؤكِّدوا عليهم اليمين، ويحبِسوهما من بعد الصلاة، فيقسمان بصفة ما ذكر الله تعالى.
ومنها: أنه إذا لم تحصل تهمةٌ ولا ريبٌ؛ لم يكن حاجةٌ إلى حبسهما وتأكيد اليمين عليهما.
ومنها: تعظيم أمر الشهادة؛ حيث أضافها تعالى إلى نفسه، وأنه يجب الاعتناء بها والقيام بها بالقسط.
ومنها: أنَّه يجوز امتحان الشاهدين عند الرِّيبة منهما وتفريقهما لينظرعن شهادتهما.
ومنها: أنه إذا وُجدت القرائن الدَّالة على كذب الوصيين في هذه المسألة؛ قام اثنان من أولياء الميت، فأقسما بالله أن أيماننا أصدق من أيمانهما ولقد خانا وكذبا، ثم يُدفع إليهما ما ادَّعياه، وتكون القرينة مع أيمانهما قائمة مقام البيِّنة.