بے شک وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دل اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔
En
جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقویٰ کے لئے آزما لئے ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے
بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وه لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا ﺛواب ہے
En
(آیت 3){ اِنَّالَّذِيْنَيَغُضُّوْنَاَصْوَاتَهُمْ …:} اس میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کا خیال رکھتے ہوئے آپ کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے تھے، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق گزرا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے تقویٰ کا امتحان کر کے دیکھ لیا کہ وہ پرہیز گاری کے امتحان میں پوری طرح کامیاب ہیں، جیسے سونے کو آگ میں ڈال کر دیکھا جاتا ہے اور وہ خالص نکلتا ہے، تو کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس کے خالص ہونے کی آزمائش کر لی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز پست نہیں رکھتا اس کا دل تقویٰ سے خالی ہے، پھر جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سننے کے بعد اس کے خلاف آواز اٹھائے وہ تقویٰ اور ایمان سے کس قدر دور ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 اس میں ان لوگوں کی تعریف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلالت کا خیال رکھتے ہوئے اپنی آوازیں پست رکھتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے حضور اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ [4] لیا ہے۔ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔
[4] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ نبی کا ادب و احترام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو پہلے تقویٰ کی بنا پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا امتحان دے چکے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی کا ادب و احترام کرنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں تقویٰ موجود ہے اور ان کے اس عمل سے اللہ ان کے تقویٰ کو مزید بڑھاتا چلا جائے گا۔ اس آیت اور مذکور بالا حدیث سے صحابہ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم مدح من غضَّ صوته عند رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بأنَّ الله امتحن قلوبَهم للتقوى؛ أي: ابتلاها واختبرها، فظهرت نتيجةُ ذلك بأن صَلَحَت قلوبهم للتقوى. ثم وَعَدَهم المغفرةَ لذنوبهم، المتضمِّنة لزوال الشرِّ والمكروه، وحصول الأجر العظيم، الذي لا يعلم وصفه إلاَّ الله تعالى، وفيه حصولُ كل محبوب. وفي هذا دليلٌ على أن الله يمتحنُ القلوبَ بالأمر والنهي والمحن؛ فمَن لازمَ أمر الله واتَّبع رضاه وسارعَ إلى ذلك وقدَّمه على هواه؛ تمحَّض وتمحَّص للتقوى، وصار قلبُه صالحاً لها، ومَن لم يكن كذلك؛ علم أنه لا يصلح للتقوى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔