(آیت 18){ اِنَّاللّٰهَيَعْلَمُغَيْبَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ …:} اس سے پہلے یہ ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام چیزیں جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ یہ نہ سمجھنا کہ وہ آسمان و زمین کی انھی اشیاء کو جانتا ہے جو ظاہر ہیں، بلکہ وہ ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو نگاہوں سے غائب ہیں، خواہ پہلے گزر چکی ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گی اور تم جو کچھ کر رہے ہو یا آئندہ کرو گے اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھنے والا ہے۔ نظم الدرر میں ہے، قشیری نے کہا: ”جو شخص یہاں ٹھہر کر تھوڑا سا غور و فکر کرے گا اس کا عیش مکدّر ہو جائے گا، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اس کے غیب میں کیا لکھا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور ایمان کی نعمت اس کے پاس موت تک رہے گی یا نہیں۔ پھر دعویٰ کس بات کا اور احسان کیسا؟ یہی معنی اس شعر میں ادا ہوا ہے: {أَبْكِيْوَهَلْتَدْرِيْنَمَايُبْكِيْنِيْ أَبْكِيْحَذَرًاأَنْتُفَارِقِيْنِيْ وَتَقْطَعِيْحَبْلِيْوَتَهْجُرِيْنِيْ} ”میں روتا ہوں اور کیا تو جانتی ہے کہ مجھے کیا چیز رلاتی ہے؟ میں اس ڈر سے روتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا نہ ہو جائے، مجھ سے قطع تعلق نہ کر لے اور مجھے چھوڑ نہ دے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ اللہ آسمانوں اور زمین کی سب پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّاللّٰهَیَعْلَمُغَیْبَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَمَاتَسْقُطُمِنْوَّرَقَةٍاِلَّایَعْلَمُهَاوَلَاحَبَّةٍفِیْظُلُمٰؔتِالْاَرْضِوَلَارَطْبٍوَّلَایَ٘ابِسٍاِلَّافِیْكِتٰبٍمُّبِیْنٍ﴾ (الانعام:6؍59) ”کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔“
﴿ وَاللّٰهُبَصِیْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ﴾”اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔“ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ اللهَ يعلمُ غَيْبَ السَّمواتِ والأرضِ}؛ أي: الأمور الخفية فيهما، التي تخفى على الخلق؛ كالذي في لُجَج البحار، ومَهامِهِ القِفار، وما جنَّهُ الليلُ أو واراهُ النهارُ؛ يعلمُ قطرات الأمطار، وحبات الرمال، ومكنونات الصدور، وخبايا الأمور، {وما تَسْقُطُ مِن ورقةٍ إلاَّ يَعْلَمُها ولا حبَّةٍ في ظُلُماتِ الأرضِ ولا رَطْبٍ ولا يابس إلاَّ في كتابٍ مبينٍ}. {واللهُ بصيرٌ بما تعملون}: يُحصي عليكم أعمالَكم ويُوَفيكُم إيَّاها، ويجازيكم عليها بما تقتضيه رحمته الواسعة وحكمته البالغة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔