ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 5

لِّیُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ یُکَفِّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ۙ﴿۵﴾
تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے اور ان سے ان کی برائیاں دور کرے اور یہ ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
(یہ) اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔ اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے
En
تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناه دور کر دے، اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ {لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ …:} سب سے واضح اور صحیح بات یہی ہے کہ { لِيُدْخِلَ } کا لام { هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ } کے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی، تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادہ ہو جائیں (اور) تاکہ اس سکینت اور ایمان کی زیادتی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان باغوں میں داخل کرے جن کے تلے نہریں چلتی ہیں۔
➋ { وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} مومن عورتوں کا ذکر خاص طور پر یہاں اس لیے فرمایا کہ جہاد کا اجر صرف مردوں کے ساتھ خاص نہ سمجھ لیا جائے، کیونکہ مومن عورتیں بھی جہاد میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں، خاوندوں، بیٹوں، باپوں اور دوسرے عزیزوں کے جہاد پر نکلنے میں رکاوٹ نہیں بنتیں، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، ان کی عدم موجودگی میں تنہائی اور دوسری پریشانیوں پر صبر کرتی ہیں اور ان کی شہادت کی صورت میں بیوہ ہونے اور بچوں کے یتیم ہونے پر صبر کرتی ہیں۔ ان میں سے کئی لشکر کے ساتھ جا کر کھانا پکانے، کپڑے دھونے، صفائی کرنے کی اور دوسری خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ لڑائی کی صورت میں مجاہدوں کو پانی پلانے، زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کی تیمار داری کا اہتمام کرتی ہیں۔ (ابن عاشور)
➋ { جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ …:} جنتوں میں داخل کرنے سے مراد یہاں خاص داخلہ ہے جو مجاہدین کے ساتھ خاص ہے، وہ داخلہ نہیں جو محض ایمان اور عمل صالح کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے ساتھ ہی فرمایا: «‏‏‏‏وَ يُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ» ‏‏‏‏ اور تاکہ وہ ان سے ان کی برائیاں دور کرے۔(ابن عاشور) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ فِی الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللّٰهُ لِلْمُجَاهِدِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَاسْأَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ أُرَاهُ قَالَ وَ فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللّٰہ: ۲۷۹۰] جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار فرمائے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا افضل اور جنت کا اعلیٰ حصہ ہے۔ (یحییٰ بن صالح نے کہا) میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ سنا لیغفرلک اللہ تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک ہو ہمارے لیے کیا ہے جس پر اللہ نے آیت لیدخل المومنین نازل فرما دی (صحیح بخاری باب غزوہ الحدیبیۃ)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ تاکہ مومن مردوں [5] اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کی برائیاں دور کر دے۔ اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔
[5] جذبات میں سکون اللہ کی طرف سے :۔
اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں آیت نمبر 2 کے تحت درج شدہ حدیث ملاحظہ فرما لیجئے۔ یعنی حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں نے جو کمال صبر اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چون و چرا اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مسلمانوں کو بھی بہت اجر ملے گا اور ان مسلمان عورتوں کو بھی جنہوں نے کسی نہ کسی صورت میں اس غزوہ میں حصہ لیا تھا۔ کیونکہ مجاہدین کو بہ طیب خاطر روانہ کرنے، بعد میں گھر کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری میں عورتوں کا جتنا حصہ ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ بالخصوص ان حالات میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی ایک کثیر تعداد کو ساتھ لے جا رہے ہوں اور مدینہ کے ارد گرد دشمن ہی دشمن موجود ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔
پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185]‏‏‏‏ ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔