ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِیۡمَانًا مَّعَ اِیۡمَانِہِمۡ ؕ وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ۙ﴿۴﴾
وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی، تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں زیادہ ہو جائیں اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے۔ اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
En
وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں، اور آسمانوں اور زمین کے ﴿کل﴾ لشکر اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 4) ➊ {هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ: ” السَّكِيْنَةَ “} سے مراد وہ سکون و اطمینان اور ثباتِ قلب ہے جس کا اتارنا اللہ تعالیٰ نے مدینہ سے نکلنے سے لے کر اس فتح مبین کے حصول تک مومنوں کے دلوں پر مسلسل جاری رکھا اور جو اس فتح کا اہم سبب بنا، ورنہ اگر مسلمان مدینہ سے عمرہ کے لیے نکلتے وقت منافقین کی طرح سوچنے لگتے کہ یہ تو صریحاً موت کے منہ میں جانا ہے، یا راستے میں جب اطلاع ملی کہ قریش لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں تو ہمت ہار جاتے، یا حدیبیہ میں پہنچنے پر جس طرح کفار نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا اور چھاپے اور شب خون مار مار کر انھیں اشتعال دلانے کی کوشش کی، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پھیلی، ان میں سے کسی موقع پر اگر مسلمان اپنے آپ پر قابو نہ رکھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر قائم نہ رہتے تو یہ فتح مبین کبھی حاصل نہ ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت ہی تھی جس نے ہر موقع پر انھیں اطاعت پر ثابت قدم رکھا۔ پھر جب صلح کی وہ شرائط ان کے سامنے آئیں جو مسلمانوں کو سخت ناپسند اور ان کے خیال میں ان کی ذلت کا باعث تھیں، خصوصاً ابوجندل رضی اللہ عنہ مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے مجمع عام میں آ کھڑے ہوئے، اس موقع پر اس سکینت ہی کی برکت تھی کہ سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر سرِتسلیم خم کر دیا۔
➋ { لِيَزْدَادُوْۤا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ:} یعنی ایمان انھیں پہلے بھی حاصل تھا مگر ان تمام آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کی وجہ سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا چلاگیا اور جب اس ثابت قدمی کے خوش گوار نتائج سامنے آئے تو ان کا ایمان مزید بڑھ گیا۔ یہ آیت بھی ان بہت سی آیات و احادیث میں سے ایک ہے جو ایمان میں زیادتی اور کمی کی دلیل ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے متعدد آیات و احادیث کے ساتھ اس مسئلے کو مدلل ذکر فرمایا ہے۔ روح المعانی میں ہے: ”بخاری نے فرمایا، میں بہت سے شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء سے ملا، میں نے ان میں سے ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو اس بات سے اختلاف کرتا ہو کہ ایمان قول اور عمل ہے اور اس میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے اور انھوں نے اس کی عقلی اور نقلی دلیلیں بیان کی ہیں۔ عقلی دلیل تو یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت میں تفاوت نہ ہو تو امت کے عام آدمیوں کا ایمان، جو فسق و فجور میں منہمک رہتے ہیں، انبیاء کے ایمان کے برابر ہو گا اور یہ لازم باطل ہے، سو ملزوم بھی ایسا ہی ہے اور نقلی دلیل یہ کہ اس مفہوم کی آیات و احادیث بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک یہ آیت ہے جو زیر تفسیر ہے۔“ (ملخصاً) یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان میں زیادتی کا مطلب اعمال کے لحاظ سے زیادتی ہی نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اس کے یقین میں بھی زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ کبھی یقین کا یہ حال ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جان، مال اور ہر چیز اللہ کی راہ میں لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے اور کبھی اس یقین میں ایسی کمی ہوتی ہے کہ اسلام قبول کرتے وقت ایمان کا جو سرمایہ اسے حاصل ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ تعجب اور افسوس ہے ان بڑے بڑے شیوخ الحدیث پر جو اتنی صریح آیات و احادیث کے باوجود یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے، ان کے علم کا کمال یہی ہے کہ وہ تاویل کے ذریعے سے ثابت کر دیتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا ایمان برابر ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے دھڑے کے کسی بزرگ نے کہہ دیا ہے کہ ایمان میں نہ زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔
➌ { وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی آپ کو ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود یہ فتح مبین آپ کی جد و جہد یا ذاتی کمال کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی بدولت حاصل ہوئی، کیونکہ وہی آسمانوں کے اور زمین کے بے شمار لشکروں کا مالک ہے، جس کی چاہتا ہے جس لشکر کے ساتھ چاہتا ہے مدد کر دیتا ہے۔ آسمانوں کے لشکروں کی مثال بدر میں نازل ہونے والے فرشتے، احزاب میں آنے والی آندھی اور بدر میں اترنے والی بارش ہیں اور زمین کے لشکروں کی مثال فتح مکہ کے موقع پر آنے والے دس ہزار مجاہدین کا عظیم الشان لشکر ہے۔ {” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ مانتا ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے علاوہ بھی کسی کے پاس کوئی لشکر ہے، کیونکہ اس کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔
➍ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے لشکروں کا اکیلا مالک ہے اور لشکر بھی ایسے کہ ان میں سے کسی لشکر کا ایک فرد اگر اللہ کا حکم ہو تو تمام کفار کو نیست و نابود کر دے، مگر اس نے یہ فتح مبین اور نصر عزیز صلح کی صورت میں عطا فرمائی، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ اس کے علم میں یہ بات تھی اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اب کفار کو تلوار کی مار کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے اور ان کی دعوت سننے کا موقع دیا جائے، تاکہ کافر مسلمان ہو جائیں اور دشمن دوست بن جائیں۔ واضح رہے، یہاں {” عَلِيْمًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، جبکہ آگے جہاںکفار و منافقین کے لیے عذاب اور لعنت کا ذکر فرمایا ہے وہاں {” عَزِيْزًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، کیونکہ عذاب و غضب کے ذکر کے مناسب صفت علم کے بجائے صفت عزیز ہے۔
➋ { لِيَزْدَادُوْۤا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ:} یعنی ایمان انھیں پہلے بھی حاصل تھا مگر ان تمام آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کی وجہ سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا چلاگیا اور جب اس ثابت قدمی کے خوش گوار نتائج سامنے آئے تو ان کا ایمان مزید بڑھ گیا۔ یہ آیت بھی ان بہت سی آیات و احادیث میں سے ایک ہے جو ایمان میں زیادتی اور کمی کی دلیل ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے متعدد آیات و احادیث کے ساتھ اس مسئلے کو مدلل ذکر فرمایا ہے۔ روح المعانی میں ہے: ”بخاری نے فرمایا، میں بہت سے شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء سے ملا، میں نے ان میں سے ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو اس بات سے اختلاف کرتا ہو کہ ایمان قول اور عمل ہے اور اس میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے اور انھوں نے اس کی عقلی اور نقلی دلیلیں بیان کی ہیں۔ عقلی دلیل تو یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت میں تفاوت نہ ہو تو امت کے عام آدمیوں کا ایمان، جو فسق و فجور میں منہمک رہتے ہیں، انبیاء کے ایمان کے برابر ہو گا اور یہ لازم باطل ہے، سو ملزوم بھی ایسا ہی ہے اور نقلی دلیل یہ کہ اس مفہوم کی آیات و احادیث بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک یہ آیت ہے جو زیر تفسیر ہے۔“ (ملخصاً) یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان میں زیادتی کا مطلب اعمال کے لحاظ سے زیادتی ہی نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اس کے یقین میں بھی زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ کبھی یقین کا یہ حال ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جان، مال اور ہر چیز اللہ کی راہ میں لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے اور کبھی اس یقین میں ایسی کمی ہوتی ہے کہ اسلام قبول کرتے وقت ایمان کا جو سرمایہ اسے حاصل ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ تعجب اور افسوس ہے ان بڑے بڑے شیوخ الحدیث پر جو اتنی صریح آیات و احادیث کے باوجود یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے، ان کے علم کا کمال یہی ہے کہ وہ تاویل کے ذریعے سے ثابت کر دیتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا ایمان برابر ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے دھڑے کے کسی بزرگ نے کہہ دیا ہے کہ ایمان میں نہ زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔
➌ { وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی آپ کو ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود یہ فتح مبین آپ کی جد و جہد یا ذاتی کمال کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی بدولت حاصل ہوئی، کیونکہ وہی آسمانوں کے اور زمین کے بے شمار لشکروں کا مالک ہے، جس کی چاہتا ہے جس لشکر کے ساتھ چاہتا ہے مدد کر دیتا ہے۔ آسمانوں کے لشکروں کی مثال بدر میں نازل ہونے والے فرشتے، احزاب میں آنے والی آندھی اور بدر میں اترنے والی بارش ہیں اور زمین کے لشکروں کی مثال فتح مکہ کے موقع پر آنے والے دس ہزار مجاہدین کا عظیم الشان لشکر ہے۔ {” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ مانتا ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے علاوہ بھی کسی کے پاس کوئی لشکر ہے، کیونکہ اس کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔
➍ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے لشکروں کا اکیلا مالک ہے اور لشکر بھی ایسے کہ ان میں سے کسی لشکر کا ایک فرد اگر اللہ کا حکم ہو تو تمام کفار کو نیست و نابود کر دے، مگر اس نے یہ فتح مبین اور نصر عزیز صلح کی صورت میں عطا فرمائی، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ اس کے علم میں یہ بات تھی اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اب کفار کو تلوار کی مار کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے اور ان کی دعوت سننے کا موقع دیا جائے، تاکہ کافر مسلمان ہو جائیں اور دشمن دوست بن جائیں۔ واضح رہے، یہاں {” عَلِيْمًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، جبکہ آگے جہاںکفار و منافقین کے لیے عذاب اور لعنت کا ذکر فرمایا ہے وہاں {” عَزِيْزًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، کیونکہ عذاب و غضب کے ذکر کے مناسب صفت علم کے بجائے صفت عزیز ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی اس اضطراب کے بعد جو مسلمانوں کو شرائط صلح کی وجہ سے لاحق ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی جس سے ان کے دلوں کو اطمینان سکون اور ایمان مزید حاصل ہوا یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ 4۔ 2 یعنی اگر اللہ چاہے تو اپنے کسی لشکر (مثلًا فرشتوں) سے کفار کو ہلاک کروا دے، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ایسا نہیں کیا اور اس کے بجائے مومنوں کو قتال و جہاد کا حکم دیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں اطمینان ڈال [4] دیا تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ مزید اطمینان کا اضافہ کر لیں اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
[4] صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کے جذبات کی دو انتہائیں :۔
حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں میں دو متضاد کیفیتیں پیدا ہوئیں اور دونوں ہی اپنی انتہا کو پہنچیں اور دونوں ہی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نتیجہ تھیں۔ پہلے خون پر بیعت لی گئی جس سے مسلمانوں میں جنگ کے لئے اس قدر اشتعال پیدا ہو گیا کہ وہ کافروں کے مقابلہ میں سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس کے بعد مسلمان دراصل صلح کے حق میں ہی نہ تھے چہ جائیکہ نہایت توہین آمیز شرائط پر صلح کے لئے آمادہ ہوں۔ ان باتوں پر سیدنا ابو جندلؓ کا واقعہ مزید اشتعال دلانے والا تھا جس سے سب مسلمانوں کے دل بھر آئے تھے اور اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ تو یہ چاہتے تھے کہ اسی وقت کافروں کی تکا بوٹی کر دیں۔ اور اس وقت انہیں یہ قدرت بھی حاصل تھی۔ مگر جب انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈا کیا۔ تو یکدم ان کے جذبات ٹھنڈے ہو گئے۔ ہر مسلمان جب دوسرے سے یہ پوچھتا کہ آج ایسی توہین آمیز شرائط پر صلح کیوں کی جا رہی ہے تو ہر ایک یہی جواب دے دیتا اللہ و رسولہ اعلم سیدنا عمرؓ کی طبیعت کفار کے حق میں سب سے زیادہ جوشیلی تھی۔ انہوں نے کچھ اضطراب کا مظاہرہ ضرور کیا جیسا کہ مذکور دو احادیث سے واضح ہے۔ مگر وہ بھی نافرمانی کی حد کو نہ پہنچا اور سیدنا عمر کو اس بات کا عمر بھر افسوس بھی رہا۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سکون نازل کیا گیا وہ اللہ کی طرف سے تھا۔ ورنہ عین ممکن تھا کہ حالات کچھ اور رخ اختیار کر جاتے۔ اگر کافروں کو کچلنا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے پاس مدد کے اور بھی کئی طریقے اور اسباب موجود تھے۔ البتہ ان دونوں انتہاؤں میں مسلمانوں کی آزمائش ہو گئی کہ وہ کس حد تک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تابع رہتے ہیں۔ پھر جب وہ اس آزمائش میں پورے اترے تو یہی بات ان کے ایمان میں مزید اضافہ کا سبب بن گئی اور اللہ نے اپنے رسول پر بھی احسان فرمایا اور مسلمانوں پر بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔
پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔
پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔