وَ ہُوَ الَّذِیۡ کَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ عَنۡہُمۡ بِبَطۡنِ مَکَّۃَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ﴿۲۴﴾
اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔
En
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
En
وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا، اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 24) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ …:} جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حدیبیہ میں تھے تو صلح کی بات چیت کے دوران اور صلح ہو جانے کے بعد بھی مشرکین نے کوششیں کیں کہ کسی طرح لڑائی چھڑ جائے اور صلح نہ ہو سکے۔ ان کے متعدد گروہ چھپ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے خلاف کارروائی کے لیے آئے، مگر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے، بلکہ ہر مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ انھیں قتل بھی کیا جا سکتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چھوڑ دیا، کیونکہ سزا دینے کی صورت میں جنگ ناگزیر ہو جاتی جب کہ مسلمانوں کی مصلحت صلح میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے اس احسان کی یاد دہانی کروائی ہے۔ یہاں کفار کی ان کوششوں کے تین واقعات درج کیے جاتے ہیں:
(1) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا تھا، ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا، اس کی مالش کرتا، ان کی خدمت کرتا اور انھی کے ہاں کھانا کھایا کرتا تھا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنا اہل و مال چھوڑ آیا تھا۔ پھر جب ہماری اور اہلِ مکہ کی صلح ہو گئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے تو میں ایک درخت کے نیچے کانٹے وغیرہ صاف کرکے اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ اہلِ مکہ میں سے چار مشرک میرے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بد زبانی کرنے لگے۔ میں ان سے نفرت کی وجہ سے ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا اور وہ اپنا اسلحہ درخت کے ساتھ لٹکا کر لیٹ گئے۔ اسی دوران وادی کے نیچے سے کسی نے آواز دی: ”او مہاجرو! ابن زُنیم کو قتل کر دیا گیا۔“ میں نے اپنی تلوار لی اور ان چاروں پر حملہ کر دیا، وہ سوئے ہوئے تھے، میں نے ان کا اسلحہ لے کر اپنی مٹھی میں اکٹھا کر لیا اور ان سے کہا:”قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! تم میں سے جو بھی سر اٹھائے گا میں اس کا سر اڑا دوں گا جس میں اس کی آنکھیں ہیں۔“ خیر میں انھیں ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور میرا چچا عامر عَبَلات میں سے ”مِکرز“ نامی ایک مشرک کو کھینچتا ہوا لایا۔ یہاں تک کہ ہم نے انھیں ستر (۷۰) مشرکین سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: [دَعُوْهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُوْرِ وَ ثِنَاهُ] ”انھیں چھوڑ دو، تاکہ عہد شکنی کی ابتدا اور دہرائی انھی کے ذمے رہے۔“ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [الفتح: ۲۴] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [مسلم، الجہاد، باب غزوۃ ذي قرد وغیرھا: ۱۸۰۷]
(2) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ مکہ میں سے اسّی (۸۰) مسلح آدمی جبل تنعیم سے اتر کر آئے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی غفلت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، مگر آپ نے انھیں زندہ سلامت گرفتار کر لیا۔ پھر انھیں زندہ ہی رہنے دیا تو اللہ عز و جل نے یہ آیت اتاری: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [الفتح:۲۴]”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [مسلم، الجہاد، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وھو الذی کف أیدیہم عنکم» : ۱۸۰۸]
(3) عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اس درخت کے نیچے موجود تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔ اس کی ٹہنیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سہیل بن عمرو آپ کے سامنے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔“ تو سہیل نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”ہم نہیں جانتے رحمان کیا ہوتا ہے، ہمارے معاملے میں وہی لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ اس نے کہا: ”یہ لکھو: {” بِسْمِكَ اللّٰهُمَّ۔“} پھر انھوں نے لکھا: ”یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ سے صلح کی ہے۔“ تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! اگر آپ اللہ کے رسول ہوں تو ہم نے آپ پر ظلم کیا، ہمارے معاملے میں وہ لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو، یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے صلح کی ہے اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔“ یہ معاملہ ہو رہا تھا کہ تیس مسلح نوجوان نکل کر ہمارے سامنے آ گئے اور ہمارے سامنے آ کر مشتعل ہو گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اندھا کر دیا، ہم نے بڑھ کر انھیں گرفتار کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو یا کسی نے تمھیں امان دی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رہا کر دیا، اس پر اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [الفتح: ۲۴] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔ “ [مسند أحمد:۴ /۸۶،۸۷،ح:۱۶۸۰۵] مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔
➋ یہاں بیت اللہ والے شہر کا نام ”مکہ“ بیان فرمایا ہے، جب کہ سورۂ آلِ عمران (۹۶) میں اس کا نام ”بکہ“ قرار دیا ہے، معلوم ہوا اس شہر کے دونوں نام ہیں۔
➌ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کفار کی سرا سر زیادتی اور تمھارے صبر اور اطاعت کو خوب دیکھ رہا تھا، اس کے باوجود اس نے بہت سی مصلحتوں کے پیشِ نظر ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے۔
(1) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا تھا، ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا، اس کی مالش کرتا، ان کی خدمت کرتا اور انھی کے ہاں کھانا کھایا کرتا تھا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنا اہل و مال چھوڑ آیا تھا۔ پھر جب ہماری اور اہلِ مکہ کی صلح ہو گئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے تو میں ایک درخت کے نیچے کانٹے وغیرہ صاف کرکے اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ اہلِ مکہ میں سے چار مشرک میرے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بد زبانی کرنے لگے۔ میں ان سے نفرت کی وجہ سے ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا اور وہ اپنا اسلحہ درخت کے ساتھ لٹکا کر لیٹ گئے۔ اسی دوران وادی کے نیچے سے کسی نے آواز دی: ”او مہاجرو! ابن زُنیم کو قتل کر دیا گیا۔“ میں نے اپنی تلوار لی اور ان چاروں پر حملہ کر دیا، وہ سوئے ہوئے تھے، میں نے ان کا اسلحہ لے کر اپنی مٹھی میں اکٹھا کر لیا اور ان سے کہا:”قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! تم میں سے جو بھی سر اٹھائے گا میں اس کا سر اڑا دوں گا جس میں اس کی آنکھیں ہیں۔“ خیر میں انھیں ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور میرا چچا عامر عَبَلات میں سے ”مِکرز“ نامی ایک مشرک کو کھینچتا ہوا لایا۔ یہاں تک کہ ہم نے انھیں ستر (۷۰) مشرکین سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: [دَعُوْهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُوْرِ وَ ثِنَاهُ] ”انھیں چھوڑ دو، تاکہ عہد شکنی کی ابتدا اور دہرائی انھی کے ذمے رہے۔“ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [الفتح: ۲۴] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [مسلم، الجہاد، باب غزوۃ ذي قرد وغیرھا: ۱۸۰۷]
(2) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ مکہ میں سے اسّی (۸۰) مسلح آدمی جبل تنعیم سے اتر کر آئے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی غفلت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، مگر آپ نے انھیں زندہ سلامت گرفتار کر لیا۔ پھر انھیں زندہ ہی رہنے دیا تو اللہ عز و جل نے یہ آیت اتاری: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [الفتح:۲۴]”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [مسلم، الجہاد، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وھو الذی کف أیدیہم عنکم» : ۱۸۰۸]
(3) عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اس درخت کے نیچے موجود تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔ اس کی ٹہنیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سہیل بن عمرو آپ کے سامنے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔“ تو سہیل نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”ہم نہیں جانتے رحمان کیا ہوتا ہے، ہمارے معاملے میں وہی لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ اس نے کہا: ”یہ لکھو: {” بِسْمِكَ اللّٰهُمَّ۔“} پھر انھوں نے لکھا: ”یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ سے صلح کی ہے۔“ تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! اگر آپ اللہ کے رسول ہوں تو ہم نے آپ پر ظلم کیا، ہمارے معاملے میں وہ لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو، یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے صلح کی ہے اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔“ یہ معاملہ ہو رہا تھا کہ تیس مسلح نوجوان نکل کر ہمارے سامنے آ گئے اور ہمارے سامنے آ کر مشتعل ہو گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اندھا کر دیا، ہم نے بڑھ کر انھیں گرفتار کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو یا کسی نے تمھیں امان دی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رہا کر دیا، اس پر اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [الفتح: ۲۴] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔ “ [مسند أحمد:۴ /۸۶،۸۷،ح:۱۶۸۰۵] مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔
➋ یہاں بیت اللہ والے شہر کا نام ”مکہ“ بیان فرمایا ہے، جب کہ سورۂ آلِ عمران (۹۶) میں اس کا نام ”بکہ“ قرار دیا ہے، معلوم ہوا اس شہر کے دونوں نام ہیں۔
➌ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کفار کی سرا سر زیادتی اور تمھارے صبر اور اطاعت کو خوب دیکھ رہا تھا، اس کے باوجود اس نے بہت سی مصلحتوں کے پیشِ نظر ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے 80 آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر ان کو موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام کے خلاف کاروائی کریں چناچہ یہ مسلح جتھہ جبل تغیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کر کے تمام آدمیوں کو گرفتار کرلیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کردیا۔ ان کا جرم شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا پھر جنگ ناگزیر ہوجاتی۔ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا (صحیح مسلم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ وہی تو ہے جس نے وادی مکہ میں تم سے ان کے ہاتھ روک [34] دیئے اور ان سے تمہارے جبکہ اس سے پہلے اللہ تمہیں ان پر غالب کر چکا تھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
[34] صلح حدیبیہ کی مزید تفصیلات کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: 1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ صبح کی نماز کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ تنعیم کے پہاڑ سے اترے۔ کافر لوگ یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالیں مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو آزاد کر دیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
2۔
حدیبیہ کے مقام پر آپ کا معجزہ اور پانی کی مشکل کا حل :۔
مسور بن مخرمہ اور مروان دونوں روایت کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ مکہ سے نکلے۔ ابھی راہ میں ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد بن ولید دو سو سواروں کا ہر اول دستہ لئے غمیم تک آ چکا ہے۔ لہٰذا تم داہنی طرف کا رستہ لو“ خالد کو مسلمانوں کی آمد کی اس وقت خبر ہوئی جب اس نے سواروں کی گرد اڑتی دیکھی تو وہ قریش کو ڈرانے کے لئے دوڑا۔ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں سے مکہ کو اترتے ہیں تو آپ کی اونٹنی قصواء اَڑ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء کو اسی اللہ نے روکا ہے جس نے اصحاب الفیل کو روکا تھا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اہل مکہ مجھ سے کوئی ایسی بات چاہیں جس میں اللہ کے حرم کی تعظیم ہو تو میں اسے مان لوں گا۔ چنانچہ آپ وہاں سے مڑ کر گئے اور حدیبیہ کے پرلے کنارے پر ڈیرے ڈال دیئے۔ وہاں ایک گڑھا تھا جس میں پانی بہت کم تھا۔ لوگوں نے آپ سے پیاس کا شکوہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر صحابہ سے کہا کہ اسے گڑھے میں گاڑ دو تیر گاڑتے ہی پانی جوش مارنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہاں سے واپسی تک کسی کو پانی کی کمی کی شکایت نہیں ہوئی۔
صلح کی تفصیل :۔
اس دوران بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے کئی آدمیوں سمیت وہاں پہنچا۔ وہ تہامہ والوں میں سے آپ کا خیرخواہ اور محرم راز تھا۔ وہ کہنے لگا کہ ”کعب بن لوئی اور عامربن لوئی نے حدیبیہ پہنچ کر زیادہ پانی والے چشموں پر ڈیرہ ڈال دیا ہے اور وہ آپ سے لڑنا اور آپ کو مکہ جانے سے روکنا چاہتے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم لڑنے نہیں آئے صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں۔ قریش بھی لڑتے لڑتے تھک چکے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو میں ایک مقررہ مدت تک ان سے صلح کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ وہ دوسروں کے معاملہ میں دخل نہ دیں۔ اگر دوسرے لوگ مجھ پر غالب آ جائیں تو ان کی مراد بر آئی۔ اور اگر میں غالب ہوا پھر اگر وہ چاہیں تو اسلام لے آئیں ورنہ اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان سے دین کے معاملہ میں لڑوں گا۔ یہاں تک میری جان چلی جائے اور اللہ ضرور اپنے دین کو پورا کر کے رہے گا“ بدیل نے کہا:” میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام قریش کو پہنچا دیتا ہوں“۔
بدیل بن ورقاء کا آپﷺ کا پیغام پہنچانا اور اس کا جواب :۔
چنانچہ بدیل قریش کے پاس آئے اور کہنے لگے:”محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات کہی ہے“ اتنی بات کہنے پر ہی کچھ جلد باز بے وقوف کہنے لگے۔ ہمیں کوئی بات سننے کی ضرورت نہیں۔ مگر جو عقل والے تھے وہ کہنے لگے کہ بتاؤ تو سہی وہ کیا کہتے ہیں۔ چنانچہ بدیل نے وہ سب کچھ بیان کر دیا جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔
قریش کے پہلے سفیر عروہ بن مسعود کی رپورٹ :۔
یہ سن کر عروہ بن مسعود ثقفی قریش سے کہنے لگے۔ اگر مجھ پر اعتماد کرتے ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دو۔ قریش نے کہا۔ اچھا جاؤ۔ عروہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی وہی بات کہی جو بدیل کو کہی تھی۔ عروہ کہنے لگا:”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم نے اپنی قوم کو تباہ کر دیا تو یہ اچھی بات نہ ہو گی اور قریش غالب آگئے تو تمہارے یہ ساتھی تمہیں چھوڑ کر چلتے بنیں گے“ اس بات پر ابو بکر صدیقؓ غصہ میں آگئے اور عروہ کو کہا: ”جا جا کر لات کی شرمگاہ چوس۔ کیا ہم آپ کو چھوڑ جائیں گے؟“ عروہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا:”ابو بکر صدیقؓ “ عروہ نے کہا ”اگر تمہارا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کا جواب دیتا“ پھر عروہ باتیں کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی تھام لیتا اور مغیرہ بن شعبہ تلوار کے دستے سے اس کا ہاتھ پیچھے ہٹا دیتے۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بغور ملاحظہ کرنے لگا۔ پھر اپنے ساتھیوں کے پاس جا کر کہنے لگا: ”میں بادشاہوں کے پاس کئی بار جا چکا ہوں۔ روم، ایران اور حبش کے بادشاہوں کے ہاں گیا۔ اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے لوگ اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ان کے اصحاب کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے تھوکا تو کوئی اپنے ہاتھ میں لیتا اور اپنے منہ اور بدن پر مل لیتا ہے۔ وہ کوئی حکم دیتا ہے تو لپک کر اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ وہ وضو کریں تو وضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے قریب ہوتے تھے کہ لڑ مریں گے وہ بات کریں تو اپنی آواز پست کر لیتے ہیں اور از راہ ادب انہیں نظر بھر کر دیکھتے بھی نہیں۔ لہٰذا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کی ہے وہ تمہارے فائدے کی ہے۔ اس کو مان لو“
دوسرے سفیر کی رپورٹ :۔
اب بنی کنانہ کا ایک شخص بولا ”مجھے ان کے پاس جانے دو“ لوگوں نے کہا: ”اچھا جاؤ“ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب جو شخص آرہا ہے۔ یہ بیت اللہ کی قربانی کی عظمت کرنے والوں سے ہے۔ لہٰذا قربانی کے جانور اس کے آگے کر دو“ چنانچہ وہ جانور اس کے سامنے لائے گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر وہ کہہ اٹھا ”سبحان اللہ ایسے لوگوں کو کعبے سے روکنا مناسب نہیں“ وہ واپس چلا گیا اور جا کر کہا:” میں نے اونٹوں کے گلے میں ہار اور ان کے کوہان چرے خود دیکھے ہیں۔ میں تو انہیں بیت اللہ سے روکنا درست نہیں سمجھتا“۔
تیسرا سفیر سہیل بن عمرو اس کے اعتراضات اور صلح کی شرائط :۔
اس کے بعد قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو (سفیر بن کر) آیا۔ اسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تمہارا کام سہل ہو گیا“ سہیل کہنے لگا: اچھا لائیے، ہمارے اور تمہارے درمیان ایک صلح نامہ لکھا جائے۔ آپ نے منشی (سیدنا علیؓ کو بلایا اور فرمایا: ”لکھو ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ سہیل کہنے لگا: عرب کے دستور کے موافق ﴿باسمك اللّٰهم﴾ لکھوائیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب سے فرمایا: اچھا ﴿باسمك اللّٰهم﴾ ہی لکھ دو۔ پھر آپ نے لکھوایا: ”محمد الله كے رسول“ اس پر سہیل نے فوراً اعتراض کر دیا اور کہا ”محمد بن عبد اللہ لکھوایا جائے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا محمد بن عبد اللہ ہی لکھ دو۔ اور لکھو محمد بن عبد اللہ نے اس شرط پر صلح کی کہ تم لوگ انہیں بیت اللہ جانے دو گے ہم وہاں طواف کریں گے“ سہیل نے کہا۔”اگر ہم ابھی تمہیں جانے دیں تو سارے عرب میں چرچا ہو جائے گا کہ ہم دب گئے۔ لہٰذا تم آئندہ سال آؤ۔ (دوسری شرط) سہیل نے یہ لکھوائی۔ اگر ہم میں سے کوئی شخص خواہ وہ مسلمان ہو گیا ہو تمہارے پاس (مدینہ) چلا جائے تو تم اس کو ہمارے پاس لوٹادو گے“ صحابہ کہنے لگے:”سبحان اللہ! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کہ وہ مسلمان ہو کر آئے اور اسے مشرکوں کے حوالے کر دیا جائے؟“
ابو جندل کا قصہ :۔
یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اتنے میں سہیل بن عمرو کا اپنا بیٹا ابو جندل (جو مسلمان ہو چکا تھا) پابہ زنجیر مکہ سے فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس جاپہنچا۔ سہیل کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ پہلا شخص ہے جو شرط کے موافق واپس کرنا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی تو صلح نامہ پورا لکھا بھی نہیں گیا”سہیل کہنے لگا: اچھا تو پھر میں صلح ہی نہیں کرتا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا خاص ابو جندل کی پروانگی دے دو“ سہیل کہنے لگا: ”میں کبھی نہ دوں گا“ آخر ابو جندل کہنے لگے: ”میں مسلمان ہو کر آیا ہوں اور کافروں کے حوالہ کیا جا رہا ہوں۔ دیکھو مجھ پر کیا کیا سختیاں ہوئی ہیں“
سیدنا عمر کی دینی غیرت :۔
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ یہ صورت حال دیکھ کر میں آپ کے کے پاس آیا اور کہا آپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،”کیوں نہیں“ میں نے کہا، ”کیا ہم حق پر اور دشمن ناحق پر نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ میں نے کہا:”تو پھر ہم اپنے دین کو ذلیل کیوں کریں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں اللہ کا رسول اور اس کی نافرمانی نہیں کرتا وہ میری مدد کرے گا“ میں نے کہا: ”آپ نے تو کہا تھا کہ ہم کعبہ کے پاس پہنچ کر طواف کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ اسی سال ہو گا“ اس کے بعد میں نے ابو بکر صدیقؓ کے پاس جا کر وہی سوال کئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے اور انہوں نے بھی بالکل وہی جواب دیئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے تھے۔ اس موقعہ پر مجھ سے جو بے ادبی کی گفتگو ہوئی اس گناہ کو دور کرنے کے لئے میں نے کئی نیک عمل کئے۔ صحابہ پر مایوسی کا عالم اور قربانی کرنے سے گریز جب صلح نامہ پورا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو اور اونٹوں کو نحر کرو اور سر منڈاؤ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین بار کہے مگر صحابہ (اتنے افسردہ دل تھے کہ کسی نے اس پر عمل نہ کیا) یہ صورت حال دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ساری صورت حال بیان کی تو انہوں نے کہا:”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کسی سے کچھ نہ کہئے۔ بلکہ اپنے اونٹ نحر کیجئے اور حجامت بنو الیجئے“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سب صحابہ نے بھی اپنے اونٹ نحر کئے اور ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے۔ ابو بصیر اور ابو جندل کا قصہ آپ واپس مدینہ پہنچ گئے تو مکہ سے ایک شخص ابو بصیر مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا۔ قریش نے اسے واپس لانے کے لئے دو آدمی مدینہ بھیجے اور کہا کہ ”معاہدہ کی رو سے ابو بصیر کو واپس کیجئے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کو ان کے حوالے کر دیا۔ ابو بصیر نے راستہ میں ایک شخص کو تو قتل کر دیا اور دوسرا بھاگ نکلا اور بھاگ کر مدینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی نہ بچوں گا“ اتنے میں ابو بصیر بھی وہاں پہنچ گئے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عہد پورا کرتے ہوئے مجھے واپس کر دیا تھا۔ اب اللہ نے مجھے اس سے نجات دلائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں کی خرابی ہو اگر کوئی تیرا ساتھ دے تو تو لڑائی کو بھڑکانا چاہتا ہے“ یہ سن کر ابو بصیر سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسے لوٹا دیں گے چنانچہ وہ سیدھا نکل کر سمندر کے کنارے پہنچا اور ابو جندل بن سہیل بھی مکہ سے بھاگ کر ابو بصیر کے ساتھ آملا۔ اب قریش کا جو آدمی مسلمان ہو کر مکہ سے نکلتا وہ ابو بصیر کے پاس چلا جاتا یہاں تک ان کی ایک جماعت بن گئی اور قریش کا جو قافلہ شام کو جاتا اسے روک لیتے اور لوٹ مار کرتے۔ آخر قریش نے تنگ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ اور رشتہ ناطہ کی قسمیں دے کر کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بصیر کو اپنے ہاں بلالیں اور آئندہ جو مسلمان آپ کے پاس آئے وہ ہمیں واپس نہ کریں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کو اپنے پاس بلالیا۔ [بخاري۔ كتاب الشروط۔ باب الشروط فى الجهاد والمصالحة]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔