ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 2

لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾
تاکہ اللہ تیرے لیے بخش دے تیرا کوئی گناہ جو پہلے ہوا اور جو پیچھے ہوا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کرے اور تجھے سیدھے راستے پر چلائے۔ En
تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے
En
تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے اور تجھے سیدھی راه چلائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ { لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ: لِيَغْفِرَ } کا لام لامِ عاقبت ہے، یعنی ہم نے آپ کو یہ فتح مبین عطا فرمائی تاکہ آپ کو اس کے نتیجے میں چار عظیم نعمتیں حاصل ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما رہے ہیں کہ آپ نے اپنی رسالت کا حق ادا کیا، میرا پیغام پہنچایا، جان مار کر محنت کی، اپنی زبان اور تلوار کے ساتھ جہاد کیا، مسلمانوں کی ایک مخلص ترین جماعت تیار کی، سختی کے موقع پر سختی اور نرمی کے موقع پر نرمی کی اور مختصر سے عرصے میں وہ کامیابی حاصل کی جو طویل مدتوں میں کوئی حاصل نہ کر سکا، حتیٰ کہ وہ کام پورا کر دکھایا جو ہم نے آپ کے ذمے لگایا تھا۔ اب آپ اپنی محنت کا پھل اٹھائیں گے، جس سے دنیا اور آخرت میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، چنانچہ ہم نے آپ کے لیے واضح فتح عطا کی، جس کے نتیجے میں پہلی نعمت آپ کو یہ ملی کہ نبوت سے پہلے اور بعد کے گناہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخش دیے۔
➋ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ کیا نبی سے بھی گناہ کا صدور ہو سکتا ہے؟ بعض حضرات نے انبیائے کرام علیھم السلام سے گناہ صادر ہونے کو ناممکن قرار دیا ہے،کیونکہ ان کے نزدیک نبی سے گناہ کا صادر ہونا اس کی شان کے خلاف ہے، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لفظ {ذَنْبٌ} استعمال کیا ہے، جس کا معروف و مشہور معنی گناہ ہے۔ اس لیے فارسی اور اردو تقریباً تمام مترجمین نے یہاں {ذَنْبٌ} کا معنی گناہ کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ آپ کی طرف لفظ گناہ کی نسبت سے آپ کی شان میں کمی کا اظہار ہوتا ہے، تو جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انبیاء کے گناہوں کو اپنے گناہوں کی طرح سمجھ لیتے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو جتنا عظیم اور بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے اسے ملحوظ رکھتے ہوئے وہ اپنی معمولی کوتاہیوں اور لغزشوں کو گناہ قرار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی انھیں {ذنوب} کہہ کر ان سے استغفار کا حکم دیتا ہے، اسی لیے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں استغفار کرتے ہیں جس سے ان کا مرتبہ پہلے سے بھی بلند ہو جاتا ہے۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام سے خطا کے ساتھ قبطی قتل ہو گیا تو انھوں نے دعا کی: «رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ» ‏‏‏‏ [القصص: ۱۶] اے میرے ر ب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، سو تو مجھے بخش دے، تو اللہ نے اسے بخش دیا۔ آدم علیہ السلام منع کرنے کے باوجود بھول کر اس پودے میں سے کھا بیٹھے تو کہا: «‏‏‏‏رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۲۳] اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس استغفار کے نتیجے میں انھیں {مجتبيٰ} بنا لیا، فرمایا: «‏‏‏‏ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى» [طٰہٰ: ۱۲۲] پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔ یونس علیہ السلام بغیر اجازت قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تو مچھلی کے پیٹ سے اللہ تعالیٰ کو پکارا: «لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۸۷] تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔ اس استغفار کے نتیجے میں انھیں وہ مقام حاصل ہوا جو خطا نہ ہونے اور استغفار نہ کرنے کی صورت میں کبھی حاصل نہ ہوتا، فرمایا: «‏‏‏‏فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ» ‏‏‏‏ [القلم: ۵۰] پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کردیا۔
بنی آدم کا فرشتوں سے یہی فرق ہے کہ فرشتوں سے نہ خطا ہوتی ہے، نہ انھیں استغفار کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ وہ استغفار سے حاصل ہونے والا بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ انبیائے کرام علیھم السلام ہماری طرح کبیرہ گناہوں کا ارتکاب یا دیدہ و دانستہ نافرمانی نہیں کرتے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے فرماں بردار بندے ہوتے ہیں، البتہ ان سے بشری تقاضوں کے پیشِ نظر کوئی معمولی کوتاہی یا اجتہادی خطا ہو جاتی ہے۔ انبیاء کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس خطا یا کوتاہی پر قائم نہیں رہنے دیتا، بلکہ وحی کے ذریعے سے فوراً اصلاح فرما دیتا ہے، انبیاء کے معصوم ہونے کا یہی مطلب ہے۔ کسی امتی کو، خواہ وہ کتنے بلند منصب پر فائز ہو یہ امتیاز حاصل نہیں کہ اس کی خطا کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے اصلاح کی جائے۔ انبیاء سے سرزد ہونے والی یہ معمولی کوتاہیاں یا اجتہادی خطائیں بھی ان کے مقام کے پیشِ نظر خود انھیں اتنی بڑی نظر آتی ہیں کہ وہ بار بار اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذنوب سے مغفرت مانگنے کا حکم دیا، جس پر عمل کرتے ہوئے آپ بے حد استغفار کرتے تھے۔ دیکھیے سورۂ محمد کی آیت (۱۹) کی تفسیر۔ استغفار کی وہ مختلف دعائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی جناب میں کیا کرتے تھے ان تمام دعاؤں میں لفظ ذنب استعمال ہوا ہے۔ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا معاملہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذنوب کا اقرار کر کے استغفار کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے اور پچھلے ذنوب کی مغفرت کی خوش خبری دے رہے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بھی اس بات کا حوالہ دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے آپ کے پہلے اور پچھلے ذنوب معاف فرما دیے ہیں، جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: [أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْمُ مِنَ اللَّيْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هٰذَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ أَفَلاَ أُحِبُّ أَنْ أَكُوْنَ عَبْدًا شَكُوْرًا؟] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لیغفر لک اللہ ما تقدم…» : ۴۸۳۷] نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے تو عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس طرح کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ بخش دیے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟
یہی وجہ ہے کہ پہلے تقریباً سبھی ترجمہ کرنے والوں نے ذنب کا معنی گناہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ کرنے والے قرآن مجید کے یہ سب خدام کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے ناآشنا تھے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہ گار ٹھہرتے ہیں۔ آپ ان حضرات سے پوچھیں کہ آپ ذنب کا ترجمہ کرکے بتایے، ان میں سے ایک صاحب نے { لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ } کا ترجمہ کیا ہے: تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف فرما دے۔ ایک اور صاحب نے ترجمہ کیا ہے: تاکہ اللہ تعالیٰ تمھاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے۔ اپنے خیال میں ان حضرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گناہ گار ہونے سے تو بچا لیا مگر انھیں خطا کار اور کوتاہی کا مرتکب ہونے سے تو نہ بچا سکے، بتائیے آپ نے کون سا معرکہ سر کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک آدھ معمولی گناہ و خطا سے آدمی نہ گناہ گار کے لقب کا حق دار بنتا ہے اور نہ ہی اسے خطا کار یا کوتاہ کار کہہ سکتے ہیں۔
بعض حضرات نے یہاں ذنب کا معنی الزام کیا ہے اور ترجمہ کیا ہے: تاکہ اللہ تعالیٰ آپ پر لگائے گئے پہلے پچھلے تمام الزامات دور کر دے۔ ان حضرات سے کوئی پوچھے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جن کاموں پر باز پرس فرمائی اور ساتھ ہی انھیں معاف کر دینے کی بشارت بھی دے دی، کیا وہ سب الزامات تھے جو اللہ تعالیٰ نے غلط قرار دے کر دور فرما دیے؟ مثلاً فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ‏‏‏‏ [التحریم: ۱] اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۴۳] اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی، یہاں تک کہ تیرے لیے وہ لوگ صاف ظاہر ہو جاتے جنھوں نے سچ کہا اور تو جھوٹوں کو جان لیتا۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [الأنفال: ۶۷] کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ تَخْشَى النَّاسَ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ» [الأحزاب: ۳۷] اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تو اس سے ڈرے۔
اصل بات یہ ہے کہ ایسے حضرات غلو کی وجہ سے ہر اس شخص کو گستاخِ رسول قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں جو ان کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائی صفات کا مالک قرار نہ دے، آپ کو عالم الغیب نہ مانے، مختارِ کل تسلیم نہ کرے، یا یہ نہ مانے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطا ہو سکتی ہی نہیں۔ ان میں سے بعض حضرات نے اس مقام پر ذنب کا معنی تو گناہ ہی کیا ہے، مگر اس آیت کے ترجمے میں تحریفِ قرآن کے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا اس امت کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا تو ان کانام و نشان مٹا دیا جاتا۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے { لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ } کا ترجمہ کیا ہے: تاکہ اللہ تمھارے سبب سے گناہ بخشے تمھارے اگلوں کے اور تمھارے پچھلوں کے۔ ایک اور صاحب نے ترجمہ کیا ہے: تاکہ آپ کی خاطر اللہ آپ کی امت (کے ان تمام افراد) کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے (جنھوں نے آپ کے حکم پر جہاد کیے اور قربانیاں دیں)۔ ان لوگوں کی تحریف پر جرأت دیکھیے، لفظ { ذَنْۢبِكَ } کا معنی تیرے گناہ کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا، مگر یہ لوگ اس کا ترجمہ تیری امت کے اگلے پچھلے گناہ کر رہے ہیں اور حبِ رسول کے اتنے بڑے اجارہ دار بنے ہوئے ہیں کہ جو ان کی طرح تحریف نہ کرے، یا ان کی تحریف پر شاباش نہ کہے وہ ان کی نظر میں حبِ رسول سے آشنا ہی نہیں۔ ان لوگوں کے ترجمے کے مطابق تو تمام امتیوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں، اب اگر کوئی قتل یا زنا یا چوری کرتا ہے تو اس پر حد کیسی؟ اسے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی مل چکی ہے۔ یہ سب نتیجہ اسی غلو کا ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: [لاَ تُطْرُوْنيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهُ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏واذکر فی الکتاب مریم…» ‏‏‏‏: ۳۴۴۵] مجھے حد سے مت بڑھاؤ جس طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، کیونکہ میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، سو تم اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔
➌ اس مقام پر اکثر مفسرین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لفظ ذنب کی توجیہ کرتے ہوئے ایک جملہ مسلّم قول کے طور پر ذکر فرمایا ہے: { حَسَنَاتُ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِيْنَ } نیک لوگوں کی نیکیاں مقرب لوگوں کی برائیاں ہوتی ہیں۔ یہ جملہ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہر گز نہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ بات کہنے والا کون ہے، مگر اکثر مفسر اور مصنف اسے اندھا دھند بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ نیکی بدی کیسے بن سکتی ہے اور نہ یہ خیال فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے مطابق ابرار و مقربین کی یہ تقسیم سرے سے غلط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون مقرب ہو گا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلی رات اٹھ کر جن آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے ان میں مذکور دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے: «‏‏‏‏وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ» [آل عمران: ۱۹۳] اور ہمیں ابرار کے ساتھ فوت کر۔ پھر وہ کون سے ابرار ہیں جن کی نیکیاں مقربین کی بدیاں ہیں؟
➍ {وَ يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ:} یہ دوسری نعمت ہے جو صلح حدیبیہ کے نتیجے میں حاصل ہونے کی خوش خبری دی گئی۔ اس سے مراد وہ بہت سی نعمتیں عطا کرنا ہے جو اس سے پہلے آپ کو عطا نہیں کی گئی تھیں، مثلاً قریش، اہلِ مکہ اور دوسرے لوگوں کا فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا، تمام دشمنوں اور مخالفوں کا زیر ہو جانا، پورے ملک عرب کا آپ کے زیر نگیں ہو جانا اور دین کی تکمیل وغیرہ، جن کا اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد پورا کر دیا گیا اور اعلان ہو گیا: «‏‏‏‏اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا» ‏‏‏‏ [المائدۃ: ۳] آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔
➎ {وَ يَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا:} یہ تیسری نعمت کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام پر عمل، ان کی تبلیغ و جہاد، سلطنت کے معاملات اور فتح و کامرانی کے حصول کے بارے میں آپ کو بالکل سیدھے راستے پر چلائے گا۔ اگرچہ یہ سب کچھ پہلے بھی آپ کو حاصل تھا، مگر اس کے بعد جس وسعت کے ساتھ حاصل ہوا وہ پہلے حاصل نہ تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ فاتحہ کی آیت: «‏‏‏‏اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 اس سے مراد ترک اولی والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فہم واجتہاد سے کیے لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا جیسے عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورة عبس کا نزول ہوا یہ معاملات وامور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں لیکن آپ کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کو تاہیاں شمار کرلیا گیا جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے لیغفر میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور حسنات و بلندی درجات میں بھی۔ 2۔ 2 اس دین کو غالب کر کے جس کی تم دعوت دیتے ہو، یا فتح و غلبہ عطا کر کے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ مغفرت اور ہدایت پر یہی تمام نعمت ہے (فتح القدیر) 2۔ 3 یعنی اس پر استقلال نصیب فرمائے۔ ہدایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجات سے نوازے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف کر دے [2] اور آپ پر اپنی نعمت پوری کر دے اور آپ کو سیدھی راہ پر چلائے
[2] ﴿ذَنْبٌ ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کا انجام برا ہو (مفردات القرآن) اور بمعنی ہر وہ کام جس کے نتیجہ میں مذمت ہو فقہ اللغۃ اور اس لفظ کا اطلاق اس قدر عام ہے کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے لے کر بڑے بڑے گناہوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ سب سے بڑا گناہ قتل ناحق ہوتا ہے۔ اس کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔ سیدنا موسیٰؑ اللہ تعالیٰ سے فرماتے ہیں: ﴿وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ [14:26] اور میرے اوپر ان کا ایک گناہ (خون ناحق) ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار ہی نہ ڈالیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ [43:9] اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ان منافقوں کو کیوں (جہاد سے رخصت کی) اجازت دی؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ معافی کسی گناہ یا غلطی کے کام پر ہی ہوتی ہے۔ اور اس آیت میں ذنب سے مراد تدبیری امور میں بعض اجتہادی غلطیاں ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں۔ اور اگلے پچھلے گناہ معاف کر دینے کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ آپ دیدہ دانستہ کوئی گناہ کر ہی نہیں سکتے۔ اس آیت کی آپ کو جو خوشی ہوئی اور اس کا آپ نے جو تاثر قبول کیا وہ مندرجہ ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس مدینہ جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ایک آیت ﴿لِيَغْفِرَلَكَ ایسی اتری ہے جو مجھے زمین کی ساری دولت سے پیاری ہے۔ صحابہ کہنے لگے: یا رسول اللہ مبارک ہو، مبارک ہو! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو وضاحت فرما دی مگر ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ فَوْزًا عَظِيْمًا [ترمذي۔ ابواب التفسير]
صلح حدیبیہ کے بعد آپ کی عبادت میں اضافہ :۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کو کوئی حکم دیتے تو ایسے کاموں کا دیتے جنہیں وہ (بآسانی) کر سکتے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم عرض کرتے، ہم آپ جیسے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اللہ نے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیئے ہیں۔ اس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آجاتے اور غصہ کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر نمودار ہو جاتے اور فرماتے: ”(سن لو) تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہوں“ [بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب قول النبی انا اعلمکم باللّٰہ]
3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو (تہجد کی نماز میں) اتنا زیادہ قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں تڑخ جاتے (اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا:”یا رسول اللہ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اللہ تعالیٰ نے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنو ں؟“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم (آخر عمر میں) فربہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرتے۔ جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر کچھ قرأت فرماتے۔ پھر رکوع کرتے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تفسیر سورۃ فتح ٭٭
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ { فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4281]‏‏‏‏
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔
پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:794]‏‏‏‏
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں ہے { سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ }۱؎ [صحیح بخاری:4150]‏‏‏‏
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» } ۱؎ [48-الفتح:1]‏‏‏‏ تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4177]‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے
{ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2]‏‏‏‏ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» } [48-الفتح:5]‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4172]‏‏‏‏
{ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
{ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1]‏‏‏‏ اتری ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:4836]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2820]‏‏‏‏
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو { آپ نے فرمایا: اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731]‏‏‏‏
پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود { آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]‏‏‏‏
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔