تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1) ➊ {اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا:} لفظ {” فَتْحًا “} سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ اور اس کے قریب ہونے والی فتوحات ہیں اور یقینا یہ الفاظ فتح مکہ پر بھی صادق آتے ہیں، مگر صحابہ کرام اور محقق اہل علم نے اس کا سبب نزول صلح حدیبیہ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ [بخاري، التفسیر، سورۃ الفتح: ۴۸۳۴] اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور واقعی فتح مکہ فتح تھی مگر ہم حدیبیہ کے دن بیعتِ رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۵۰] زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں چل رہے تھے، رات کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جواب نہ دیا، انھوں نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، انھوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”عمر! تیری ماں تجھے گم پائے، تو نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ سوال کیا، لیکن ہر بار آپ نے جواب نہیں دیا۔“ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، چنانچہ میں اپنی اونٹنی کو حرکت دے کر مسلمانوں سے آگے نکل گیا، اس خوف سے کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے۔ کچھ دیر بعد ہی اچانک سنا تو ایک اعلان کرنے والا میرا نام لے کر بلانے کے لیے اعلان کر رہا تھا، میں واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔ میں نے سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُوْرَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۷۷] ”رات مجھ پر وہ سورت اتری ہے جو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ”بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔“
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۂ فتح نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور انھیں سورۂ فتح پڑھوائی۔ انھوں نے کہا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟] ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَعَمْ] ”ہاں!“ تو ان کا دل خوش ہو گیا اور وہ چلے گئے۔ [مسلم، الجہاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ …: ۱۷۸۵]
➋ حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح تھی، کیونکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بے شمار فوائد حاصل ہوئے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ قریش نے مسلمانوں کا وجود تسلیم کر لیا، جو اس سے پہلے وہ کسی صورت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کی حقیقی قوت کا اندازہ ہو گیا اور یہ کہ وہ کس حد تک مزاحمت کر سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں مخلص ایمان والوں اور منافقین کی پہچان ہو گئی، کیونکہ منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کی جرأت ہی نہیں کر سکے تھے، جیسا کہ آگے {” سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ“} میں آ رہا ہے۔ ایک یہ کہ جزیرۂ عرب میں امن قائم ہو جانے سے کفار اور مسلمانوں کا ایک دوسرے سے میل جول شروع ہو گیا۔ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی بات سنی، ان کے اخلاق دیکھے، آپس میں بحث و مناظرہ ہوا اور دعوت کا دائرہ وسیع ہوا، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو صحابہ آئے تھے، لیکن صرف دو سال بعد فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔
➌ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی تاکید کے ساتھ اس فتح کی اہمیت بیان فرمائی، ایک اس کی عظمت کے اظہار کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف دو دفعہ جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمائی، ایک {” اِنَّا “} اور دوسرا {” فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} اور دوسری یہ کہ {” فَتَحْنَا “} کی تاکید مفعول مطلق {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے ساتھ فرمائی اور تیسری یہ کہ اسے {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} (فتح مبین) قرار دیا، یعنی بے شک ہم نے تیرے لیے فتح دی، ایک کھلی فتح۔
➍ {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ “} میں {” لَكَ “} (تیرے لیے) کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم و تشریف کا اظہار ہو رہا ہے، جس سے امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر پہچاننے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کی تعلیم دینا مقصود ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
بعد میں معلوم ہوا کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی خبر غلط تھی۔
1۔ آئندہ دس سال تک مسلمان اور قریش ایک دوسرے پر چڑھائی نہ کریں گے اور صلح و آشتی سے رہیں گے۔
2۔ قبائل کو عام اجازت ہے کہ وہ جس فریق کے حلیف بننا چاہیں بن سکتے ہیں۔
3۔ اگر مکہ سے کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جائے تو مسلمان اسے واپس کر دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ آجائے تو وہ واپس نہ کیا جائے گا۔
4۔ مسلمان اس دفعہ عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں۔ آئندہ سال وہ تلواریں نیام میں کئے ہوئے آئیں۔ تین دن تک ان کے لئے شہر خالی کر دیا جائے گا اور انہیں مکہ میں رہنے اور عمرہ کرنے کی اجازت ہو گی۔
1۔ جب سے آپ مدینہ گئے تھے آپ کے دشمنوں میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا تھا اور مسلسل چھ سال سے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان دشمنوں میں سب سے بڑے دشمن یہی قریش تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کی طرف سے اطمینان نصیب ہو تاکہ دوسرے دشمنوں سے بطریق احسن نمٹا جا سکے۔ چنانچہ آپ نے یہاں سے واپسی پر سب سے پہلے بنو نضیر کی سرکوبی کی اور خیبر فتح ہوا۔
2۔ انہی ہنگامی حالات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے تبلیغی پروگرام مؤخر ہوتے جا رہے تھے۔ چنانچہ اس صلح کے بعد آپ نے آس پاس کے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔
3۔ اس صلح نے تمام عرب پر یہ بات ثابت کر دی کہ مسلمان فی الحقیقت امن پسند قوم ہے جو جنگ سے حتی الامکان گریز کرتی ہے اور مقابلہ کی قدرت رکھنے کے باوجود صلح و آشتی کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی تاثر کے نتیجہ میں اس صلح کے بعد بعض بڑے بڑے سردار از خود اسلام لے آئے مثلاً خالد بن ولید سیف اللہ اور عمرو بن عاص فاتح مصر وغیرہم۔
4۔ جنگ کی صورت میں مکہ میں موجود مسلمانوں کی تباہی یقینی تھی۔ قرآن کریم نے یہ ایک ایسی وجہ بیان فرمائی جس کا مسلمانوں کو خیال تک نہ آیا تھا۔
عمرہ قضا: پھر اگلے سال انہیں مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب عمرۃ القضاء]
اب ہم یہاں چند احادیث درج کرتے ہیں جن سے اس سورۃ کا شان نزول اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص سیدنا عمرؓ کے اضطراب کا منظر سامنے آتا ہے:
1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ ﴿اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا﴾ سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔
3۔ سیدنا سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ جب آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کی۔ اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے تو لڑ سکتے تھے۔ سیدنا عمرؓ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا ہم حق پر اور یہ (مشرک) باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ سیدنا عمرؓ کہنے لگے: تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں؟ اور ایسے ہی مدینہ کو چلے جائیں۔ جب تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! رسول میں ہوں (تم نہیں) اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا“ چنانچہ سیدنا عمرؓ غصے کی حالت میں لوٹ گئے۔ مگر قرار نہ آیا تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے پاس آ کر کہنے لگے۔ ”کیا ہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں؟“ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! اللہ کے رسول وہ ہیں (تم نہیں) اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا“ اس وقت سورۃ فتح نازل ہوئی۔ [حواله ايضاً]
4۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت دہرا دہرا کر خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔ [حواله ايضاً]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:794]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11]
صحیح بخاری میں ہے { سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ }۱؎ [صحیح بخاری:4150]
{ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» } [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4172]
پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود { آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا الفتحُ المذكور هو صلحُ الحديبيةِ، حين صدَّ المشركون رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - لمَّا جاء معتمراً في قصة طويلة ، صار آخر أمرها أن صالحهم رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - على وَضْع الحرب بينه وبينهم عشر سنين، وعلى أن يعتمرَ من العام المقبل، وعلى أنَّ مَن أراد أن يَدْخُلَ في عهد قريش وحلفهم؛ دَخَلَ، ومن أحبَّ أن يدخُلَ في عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وعقده؛ فعل. وسبب ذلك لما أمَّن الناس بعضهم بعضاً؛ اتَّسعت دائرة الدعوة لدين الله عزَّ وجلَّ، وصار كلُّ مؤمن بأيِّ محلٍّ كان من تلك الأقطار يتمكَّن من ذلك، وأمكن الحريص على الوقوف على حقيقة الإسلام، فدخل الناسُ في تلك المدَّة في دين الله أفواجاً؛ فلذلك سمَّاه الله فتحاً، ووصفه بأنَّه فتحٌ مبينٌ؛ أي: ظاهرٌ جليٌّ، وذلك لأنَّ المقصود في فتح بلدان المشركين إعزازُ دين الله وانتصار المسلمين، وهذا حصل بذلك الفتحُ.