ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 17

لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ ؕ وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبۡہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۱۷﴾
نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ بیمار پر کوئی تنگی اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے گا وہ اسے ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور جو پھر جائے گا وہ اسے سزا دے گا، دردناک سزا۔ En
نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے پیچھے رہ جائے) اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور جو روگردانی کرے گا اسے برے دکھ کی سزا دے گا
En
اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں اور جو منھ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ { لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ …:} ان تینوں میں سے اندھے اور لنگڑے کا عذر دائمی ہے اور بیمار کا عارضی، جو بیماری ختم ہونے پر ختم ہو جاتا ہے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب کے بعد فرمایا کہ نابینا، لنگڑا اور بیمار اگر جہاد کے لیے نہ نکلیں تو ان پر کوئی حرج نہیں۔
➋ { وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} جو شخص واقعی عذر کی وجہ سے جہاد کے لیے نہ نکل سکے مگر خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا مطیع اور خیر خواہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ ایسے لوگ پیچھے رہنے کے باوجود جہاد میں شریک ہی سمجھے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۹۱): «‏‏‏‏مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ» ‏‏‏‏ کی تفسیر میں مذکور حدیث۔
➌ { وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} بقاعی نے اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ واؤ عطف کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے: { أَيْ فَمَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الضُّعَفَاءِ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ} یعنی پھر اندھے، لنگڑے اور مریض میں سے جو شخص پیچھے رہ جائے اس پر کوئی حرج نہیں اور جو پیچھے نہ رہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے عذر کے باوجود نکل پڑے تو اللہ تعالیٰ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور جو عذر کی وجہ سے نہیں بلکہ اطاعت سے جی چراتے ہوئے جہاد سے منہ پھیرے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب الیم دے گا۔ جہاد کے لیے نہ نکلنے کے بعض مقبول عذر اس سے پہلے سورۂ توبہ (۹۱، ۹۲) میں بیان ہو چکے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 بصارت سے محرومی اور لنگڑے پن کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذوری۔ یہ دونوں عذر لازمی ہیں۔ ان اصحاب عذر یا ان جیسے دیگر معذورین کو جہاد سے مستثنٰی کردیا گیا ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں وہ عارضی عذر ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ کوئی اندھا یا لنگڑا یا بیمار [22] اگر جہاد میں شامل نہ ہو تو اس پر کوئی تنگی نہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لے، اللہ اسے ایسے باغوں [23] میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گے اور جو سرتابی کرے اللہ اسے دردناک عذاب دے گا۔
[22] جہاد فرض عین نہیں :۔
اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافق تو محض حیلے بہانے کرتے ہیں۔ اصل معذور لوگ جنہیں جہاد سے رخصت ہے وہ ہیں جو جسمانی طور پر تندرست نہ ہوں۔ مثلاً اندھے، لنگڑے، اپاہج، بیمار، نابالغ، بچے اور ضعیف و ناتواں بوڑھے بزرگ مجنون اور فاتر العقل قسم کے لوگ۔ علاوہ ازیں کچھ اور عذر بھی شریعت کی نگاہ میں مقبول ہیں۔ مثلاً غلام یا ایسا تندرست جو تنگدستی کی وجہ سے سامان جنگ بھی مہیا نہ کر سکتا ہو۔ یا مثلاً ایسا شخص جس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو اور وہ اپنے بیٹے کی خدمت کا محتاج ہو۔ واضح رہے کہ اگر والدین مسلمان ہوں تو کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر جہاد میں شامل نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر والدین کافر ہوں تو پھر ان سے اجازت کی ضرورت نہیں۔
[23] اگرچہ یہ آیت اور اس کا حکم اللہ اور اس کے رسول کے سب فرمانبرداروں کو شامل ہے۔ تاہم ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ معذور لوگ بھی اگر ہمت کر کے کسی طرح جہاد میں شرکت کر سکیں تو ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ اور جو شخص امام وقت کے اعلان شمولیت اور کسی شرعی عذر کے نہ ہونے کے باوجود جہاد میں حصہ نہیں لیتا اسے اللہ تعالیٰ سخت سزا دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔
بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔‏‏‏‏ } ۱؎ [صحیح بخاری:2928]‏‏‏‏
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ { تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں }۔
پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔
پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔