تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ:} جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین کے برعکس غزوۂ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے اعراب کے متعلق فرمایا کہ آئندہ تمھیں سخت لڑائی والے لوگوں سے جنگ کے لیے بلایا جائے گا۔ {” سَتُدْعَوْنَ “} (عنقریب تمھیں بلایا جائے گا) کا لفظ عام ہے، تاکہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کا جنگ کے لیے دعوت دینا بھی شامل ہو جائے۔ ان سخت لڑائی والے لوگوں کے بارے میں مفسرین کے چار اقوال ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ثقیف و ہوازن ہیں جن کے ساتھ جنگِ حنین ہوئی۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں جن سے جنگ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں سب لوگوں کو ساتھ جانے کی دعوت دی اور بعد میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کے زمانے میں بھی ان سے جنگ ہوئی۔ تیسرا یہ کہ اس سے مراد بنو حنیفہ کے مرتدین ہیں جن سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اور چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اہلِ فارس ہیں جن کے ساتھ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنھما کے زمانے میں جنگ ہوئی۔ امام طبری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اعراب کے ان مخلفین کے متعلق فرمایا کہ انھیں سخت لڑائی والے اور بہادر لوگوں سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی اور کسی عقلی یا نقلی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس سے مراد خاص ہوازن ہیں یا بنو حنیفہ یا فارس یا روم۔ ہو سکتا ہے ان سے مراد ان میں سے بعض ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور لوگ ہوں۔ اور اس قول سے زیادہ کوئی قول صحیح نہیں ہو سکتا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انھیں ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلایا جائے گا، سو اسی پر اکتفا ہونا چاہیے۔“
➌ { تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ:} یعنی تم ان سے لڑو گے یا وہ لڑائی کے نتیجے میں یا لڑائی کے بغیر ہی تابع فرمان ہو جائیں گے، یا جزیہ دینا قبول کر لیں گے۔ بعض مفسرین نے {” اَوْ يُسْلِمُوْنَ “} کا معنی کیا ہے ”یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔“ ان کے مطابق اس آیت میں ان لوگوں سے جنگ کی پیش گوئی ہے جن سے جزیہ لینے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ان کے لیے دو ہی راستے تھے کہ یا مسلمان ہو جائیں یا جنگ کے لیے تیار رہیں۔ یہود و نصاریٰ سے بالاتفاق جزیہ لینا درست ہے، ہجر کے مجوس سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جزیہ لینا ثابت ہے۔ البتہ مشرکین عرب کے متعلق سورۂ توبہ(۵) میں یہ حکم اترا کہ ان سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، ان میں سے کسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ نہیں لیا۔ ان مفسرین کے قول کے مطابق اس آیت سے مراد ثقیف و ہوازن ہو سکتے ہیں جو جنگ حنین میں قتل ہو گئے یا گرفتار ہونے کے بعد سب کے سب مسلمان ہو گئے، یا بنو حنیفہ کے مرتدین ہیں جن سے اس وقت تک جنگ کی گئی جب تک وہ دوبارہ مسلمان نہیں ہو گئے۔ البتہ پہلے قول کے مطابق {” تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ “} (تم ان سے لڑو گے یا وہ تابع فرمان ہو جائیں گے) سے مراد ہوازن، روم و فارس، مرتدین اور وہ تمام کفار ہو سکتے ہیں جن سے مسلمان آئندہ جنگ کرنے والے تھے اور یہ قول زیادہ جامع ہے۔
➍ {فَاِنْ تُطِيْعُوْا يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا:} یعنی اگر تم ان جنگجو لوگوں سے لڑنے کے حکم کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بہت اچھا بدلا دے گا، دنیا میں فتح و نصرت اور عزت و غنیمت سے نوازے گا اور آخرت میں جنت عطا کرے گا۔
➎ {وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا:} اور اگر اطاعت سے پھر جاؤ گے، جیسا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر پھر گئے تھے تو تمھیں درد ناک سزا دے گا کہ دنیا میں ذلت کی زندگی بسر کرو گے اور آخرت میں جہنم میں جاؤ گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
چنانچہ یہ یہودی خوف زدہ ہو کر شہر کی طرف بھاگے اور قلعہ ناعم میں جا پناہ لی۔ ناعم میں یہود کا صرف سامان رسد وغیرہ تھا کوئی بڑی فوجی قوت نہ تھی۔ لہٰذا مسلمانوں نے اسے آسانی سے فتح کر لیا۔ اس کے بعد دوسرے چھوٹے قلعے بھی آسانی کے ساتھ تسخیر ہو گئے۔ لیکن سب سے مضبوط اور سب سے اہم سلام بن ابی الحقیق کا قلعہ قموص تھا جس میں یہود کا سردار اور مشہور جری پہلوان مرحب بھی موجود تھا۔ قموص پر ہر روز حملے ہوتے رہے لیکن یہ سر ہونے میں نہ آتا تھا۔ اسی طرح بیس دن گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ خیبر فتح کرا دے گا۔ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے کبھی کسی منصب یا عہدے کی آرزو پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن اس رات میرے دل میں بھی یہ خواہش مچل رہی تھی کہ کاش صبح میرا نام پکارا جائے۔ [مسلم۔ كتاب الفضائل۔ باب فضائل على ابن ابي طالب]
﴿قد علمتْ خيبر اني مرحَب﴾
﴿شَاك السَّلاحِ بَطَلٌ مجرَّبٌ﴾
﴿اِذَا الحُروبُ اَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ﴾
”سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار بند ہوں اور اس وقت آزمودہ کار پہلوان ثابت ہوتا ہوں۔ جب لڑائیاں شعلے اڑانے لگتی ہیں“ اس کے جواب میں سیدنا علیؓ نے بھی تین مصرعے کا شعر پڑھا:
﴿انا الذى سمَّتُنِي اُمّي حيدرَه﴾
﴿كَلَيْثِ غاباتٍ كريه المَنْظَرَه﴾
﴿اُو فيهِم بالصَّاع كيل السُّنْدَرَه﴾
”میں وہ ہوں جس کا میری ماں نے شیر نام رکھا تھا۔ میں جنگلوں کے شیر کی طرح جس کو دیکھوں سب ڈر جاتے ہیں۔ اور میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا کرتا ہوں“ پھر سیدنا علی نے مرحب کے سر پر ایک ایسی کاری ضرب لگائی جس سے اس کا کام تمام ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر فتح دی۔ [مسلم۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب غزوۃ ذی قرد وخیبر]
مرحب کے بعد اس کا بھائی یاسر میدان میں اترا تو سیدنا زبیر نے اسے ڈھیر کر دیا۔ اس پر یہودیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور قلعہ فتح ہو گیا۔ اس معرکہ خیبر میں ترانوے یہودی کام آئے اور بیس مجاہدین شہید ہوئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حبشہ سے آنے والے مہاجرین کو یہ حصہ دو ہجرتوں کی وجہ سے ملا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ { تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں }۔
پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔
پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى أنَّ المخلَّفين من الأعراب يتخلَّفون عن الجهاد في سبيله، ويعتذِرون بغير عذرٍ، وأنَّهم يطلبون الخروج معهم إذا لم يكن شوكةٌ ولا قتالٌ، بل لمجرَّد الغنيمة؛ قال تعالى ممتحناً لهم: {قل للمخلَّفين من الأعراب سَتُدْعَوْنَ إلى قوم أولي بأس شديدٍ}؛ أي: سيدعوكم الرسولُ ومَنْ ناب منابَه من الخلفاء الراشدين والأئمة، وهؤلاء القوم فارسٌ والرومُ ومَنْ نحا نحوَهم وأشبههم، {تقاتِلونَهم أو يُسْلِمونَ}؛ أي: إمَّا هذا وإمَّا هذا، وهذا هو الأمر الواقع؛ فإنَّهم في حال قتالهم ومقاتلتهم لأولئك الأقوام إذا كانت شدتُهم وبأسُهم معهم؛ فإنَّهم في تلك الحال لا يقبلون أن يبذُلوا الجزيةَ، بل إمَّا أنْ يدخُلوا في الإسلام، وإمَّا أن يُقاتِلوا على ما هم عليه، فلما أثخنهم المسلمونَ وضَعُفوا وذلُّوا؛ ذهب بأسُهم، فصاروا إمَّا أنْ يسلِموا وإمَّا أن يبذُلوا الجزية، {فإن تُطيعوا}: الداعي لكم إلى قتال هؤلاء، {يؤتِكُمُ الله أجراً حسناً}: وهو الأجر الذي رتَّبه الله ورسولُهُ على الجهادِ في سبيل الله، {وإن تَتَوَلَّوْا كما تولَّيْتُم من قبلُ}: عن قتال مَنْ دعاكم الرسولُ إلى قتالِهِ، {يعذِّبْكم عذاباً أليماً}. ودلَّت هذه الآية على فضيلة الخلفاء الرَّاشدين الداعين لجهادِ أهل البأس من الناس، وأنَّه تجب طاعتُهم في ذلك.