ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 16

قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِیۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَہُمۡ اَوۡ یُسۡلِمُوۡنَ ۚ فَاِنۡ تُطِیۡعُوۡا یُؤۡتِکُمُ اللّٰہُ اَجۡرًا حَسَنًا ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا کَمَا تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶﴾
بدویوں میں سے پیچھے چھوڑے جانے والوں سے کہہ دے عنقریب تم ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلائے جائو گے، تم ان سے لڑو گے، یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، پھر اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا اور اگر پھر جاؤ گے، جیسے تم اس سے پہلے پھر گئے تو وہ تمھیں سزا دے گا، درد ناک سزا۔ En
جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلہ دے گا۔ اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا
En
آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑوگے یا وه مسلمان ہوجائیں گے پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہت بہتر بدلہ دے گا اور اگر تم نے منھ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منھ پھیر چکے ہو تو وه تمہیں دردناک عذاب دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) ➊ { قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ …:} اس آیت میں پیچھے رہنے والے اعراب کو تسلی دلائی ہے کہ آئندہ غزوات میں انھیں شرکت کا اور غنیمتیں حاصل کرنے کا پورا پورا موقع دیا جائے گا، تاکہ انھیں اطمینان ہو جائے کہ انھیں اسلامی لشکر کے ساتھ خیبر میں جانے سے اس لیے منع نہیں کیا گیا کہ وہ اسلام سے نکل گئے ہیں، بلکہ اس کا ایک خاص سبب ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ چنانچہ آئندہ جس طرح دوسرے مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی انھیں بھی دی جائے گی۔ اس آیت میں ان کی اس دل شکنی کا مداوا فرمایا ہے جو خیبر میں شریک نہ کیے جانے سے ہوئی اور ان کے حق میں یہ عظیم خوش خبری بھی دی کہ وہ خیبر سے پیچھے رہ جانے کی کوتاہی کی تلافی کر سکتے ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے اعراب کے یہ قبائل آئندہ جنگوں مثلاً فتح مکہ، جنگ حنین، جنگ تبوک اور جنگ یمامہ میں شریک ہوئے، ان میں سے کم ہی کوئی شخص ان جنگوں سے پیچھے رہا۔ یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ یہ لوگ ایمان سے محروم نہیں ہوئے تھے، کیونکہ اس کے بعد جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین، جو دل میں کفر چھپائے ہوئے تھے، ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا گیا، نہ انھیں آئندہ کسی جنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی اور نہ ان کے حق میں یہ اجازت ملی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ (83) وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ» [التوبۃ: 84،83] پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بے شک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔
➋ { سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ:} جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین کے برعکس غزوۂ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے اعراب کے متعلق فرمایا کہ آئندہ تمھیں سخت لڑائی والے لوگوں سے جنگ کے لیے بلایا جائے گا۔ { سَتُدْعَوْنَ } (عنقریب تمھیں بلایا جائے گا) کا لفظ عام ہے، تاکہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کا جنگ کے لیے دعوت دینا بھی شامل ہو جائے۔ ان سخت لڑائی والے لوگوں کے بارے میں مفسرین کے چار اقوال ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ثقیف و ہوازن ہیں جن کے ساتھ جنگِ حنین ہوئی۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں جن سے جنگ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں سب لوگوں کو ساتھ جانے کی دعوت دی اور بعد میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کے زمانے میں بھی ان سے جنگ ہوئی۔ تیسرا یہ کہ اس سے مراد بنو حنیفہ کے مرتدین ہیں جن سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اور چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اہلِ فارس ہیں جن کے ساتھ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنھما کے زمانے میں جنگ ہوئی۔ امام طبری رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اعراب کے ان مخلفین کے متعلق فرمایا کہ انھیں سخت لڑائی والے اور بہادر لوگوں سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی اور کسی عقلی یا نقلی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس سے مراد خاص ہوازن ہیں یا بنو حنیفہ یا فارس یا روم۔ ہو سکتا ہے ان سے مراد ان میں سے بعض ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور لوگ ہوں۔ اور اس قول سے زیادہ کوئی قول صحیح نہیں ہو سکتا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انھیں ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلایا جائے گا، سو اسی پر اکتفا ہونا چاہیے۔
➌ { تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ:} یعنی تم ان سے لڑو گے یا وہ لڑائی کے نتیجے میں یا لڑائی کے بغیر ہی تابع فرمان ہو جائیں گے، یا جزیہ دینا قبول کر لیں گے۔ بعض مفسرین نے { اَوْ يُسْلِمُوْنَ } کا معنی کیا ہے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اس آیت میں ان لوگوں سے جنگ کی پیش گوئی ہے جن سے جزیہ لینے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ان کے لیے دو ہی راستے تھے کہ یا مسلمان ہو جائیں یا جنگ کے لیے تیار رہیں۔ یہود و نصاریٰ سے بالاتفاق جزیہ لینا درست ہے، ہجر کے مجوس سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جزیہ لینا ثابت ہے۔ البتہ مشرکین عرب کے متعلق سورۂ توبہ(۵) میں یہ حکم اترا کہ ان سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، ان میں سے کسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ نہیں لیا۔ ان مفسرین کے قول کے مطابق اس آیت سے مراد ثقیف و ہوازن ہو سکتے ہیں جو جنگ حنین میں قتل ہو گئے یا گرفتار ہونے کے بعد سب کے سب مسلمان ہو گئے، یا بنو حنیفہ کے مرتدین ہیں جن سے اس وقت تک جنگ کی گئی جب تک وہ دوبارہ مسلمان نہیں ہو گئے۔ البتہ پہلے قول کے مطابق { تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ } (تم ان سے لڑو گے یا وہ تابع فرمان ہو جائیں گے) سے مراد ہوازن، روم و فارس، مرتدین اور وہ تمام کفار ہو سکتے ہیں جن سے مسلمان آئندہ جنگ کرنے والے تھے اور یہ قول زیادہ جامع ہے۔
➍ {فَاِنْ تُطِيْعُوْا يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا:} یعنی اگر تم ان جنگجو لوگوں سے لڑنے کے حکم کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بہت اچھا بدلا دے گا، دنیا میں فتح و نصرت اور عزت و غنیمت سے نوازے گا اور آخرت میں جنت عطا کرے گا۔
➎ {وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا:} اور اگر اطاعت سے پھر جاؤ گے، جیسا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر پھر گئے تھے تو تمھیں درد ناک سزا دے گا کہ دنیا میں ذلت کی زندگی بسر کرو گے اور آخرت میں جہنم میں جاؤ گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

1 6 ۔ 1 اس جنگجو قوم کی تعیین میں اختلاف ہے بعض مفسرین اس سے عرب کے ہی بعض قبائل مراد لیتے ہیں مثلا ہوازن یا ثقیف جن سے حنین کے مقام پر مسلمانوں کی جنگ ہوئی یا مسیلمۃ الکذاب کی قوم بنو حنیفہ اور بعض نے فارس اور روم کے مجوسی و عیسائی مراد لیے ہیں ان پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہا جا رہا ہے کہ عنقریب ایک جنگجو قوم سے مقابلے کے لیے تمہیں بلایا جائے گا اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو تمہاری اور ان کی جنگ ہوگی۔ 16۔ 2 یعنی خلوص دل سے مسلمانوں کے ساتھ ملکر لڑو گے۔ 16۔ 3 دنیا میں غنیمت اور آخرت میں پچھلے گناہوں کی مغفرت اور جنت۔ 16۔ 4 یعنی جس طرح حدیبیہ کے موقع پر تم نے مسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے سے گریز کیا تھا، اسی طرح اب بھی تم جہاد سے بھاگو گے، تو پھر اللہ کا دردناک عذاب تمہارے لئے تیار ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ آپ پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہئے کہ: عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم سے (مقابلہ کے لئے) بلایا جائے گا۔ تمہیں ان سے لڑنا ہو گا [21] یا وہ مطیع ہو جائیں گے۔ اس وقت اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر عطا کرے گا اور اگر تم نے منہ پھیر لیا جیسے پہلے پھیر لیا تھا تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا
[21] جنگجو قوم کونسی تھی؟ ثقیف ہوازن اور بنو حنیفہ :۔
﴿يُسْلِمُوْنَ کے دو مطلب ہیں ایک وہ جو ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ جنگ کرنے کے بغیر ہی آپ کی اطاعت قبول کر لیں گے اور جزیہ ادا کریں گے نیز اسلام کی راہ میں مزاحمت کرنا چھوڑ دیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ گویا حسد کا طعنہ دینے والے منافقوں کو سمجھایا یہ جا رہا ہے کہ جب تک تم اپنے اموال اور اپنی جانوں کی قربانی سے یہ ثابت نہ کر دو کہ تم اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مخلص ہو تو اموال غنیمت میں حصہ دار کیسے بن سکتے ہو؟ اب اس کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ آئندہ بھی کئی مواقع پر جنگجو قوموں سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ اس وقت تمہیں جہاد میں باقاعدہ شمولیت کی دعوت دی جائے گی اور تمہارے ایمان کی آزمائش کی جائے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سے جنگ کرنا پڑتی ہے یا وہ لڑے بھڑے بغیر ہی مطیع فرمان بن جاتے ہیں۔ بہرحال تمہارے روانہ ہونے سے ہی تمہارا امتحان ہو جائے گا۔ پھر اگر تو تم اپنے دعوے میں سچے اور اپنے ایمان میں مخلص ہوئے تو تم ایسی جنگجو قوم سے لڑنے اور سر دھڑ کی بازی لگانے پر تیار ہو جاؤ گے تو تمہیں اموال غنیمت میں سے بھی حصہ ملے گا اور اللہ سے بھی بڑا اچھا بدلہ ملے گا۔ لیکن اگر تم نے پھر وہی کام کیا جو غزوہ حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا اور حیلے بہانے تراشنے لگے تو پھر تمہاری اور بھی زیادہ ذلت اور رسوائی ہو گی اور آخرت میں بھی دردناک سزا ملے گی۔ واضح رہے کہ اس آیت میں جنگجو قوم سے مراد جنگ حنین میں حصہ لینے والے قبیلے ثقیف اور ہوازن بھی ہو سکتے ہیں اور مسیلمہ کذاب کی جنگ یمامہ میں حصہ لینے والے بنو حنیفہ بھی۔ علاوہ ازیں خلافت ابو بکر صدیقؓ و عمرؓ کے دور میں بھی کئی معرکے پیش آتے رہے۔ صلح حدییبہ میں مسلمانوں کی مرضی کے علی الرغم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر توہین آمیز شرائط پر صلح کے لئے اصرار فرمایا تھا تو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تھے ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا تھا کہ جنگ کا خطرہ سر پر سوار نہ ہو اور جب بھی جنگ کا موقعہ آتا تو قریش، یہود، منافقین اور مشرک قبائل سب مسلمانوں کے خلاف اتحاد قائم کر لیتے تھے۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ کم از کم قریش مکہ سے صلح کر کے دوسرے دشمنوں کی سرکوبی کی جائے۔ جنگ احزاب میں بنو نضیر کا سردار حیی بن اخطب بھی قتل کر دیا گیا۔ جو خیبر کے یہود کا سردار تھا تو یہودی اور بھی سیخ پا ہو گئے تھے اور مدینہ پر پرزور حملہ کر کے ان کا استیصال کرنے کے لئے تیاریاں کر رہے تھے۔ اور یہ خبریں دم بدم مدینہ بھی پہنچ رہی تھیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان پر لشکر کشی کا ارادہ کر لیا۔ اس لشکر کا بیشتر حصہ وہی مسلمان تھے جنہوں نے صلح حدیبیہ یا بیعت رضوان میں حصہ لیا تھا۔
خیبر پر حملہ کا آغاز :۔
خیبر میں یہودیوں کے نو مشہور قلعے تھے جن میں بیس ہزار آزمودہ کار سپاہی موجود تھے۔ اسلامی لشکر رات کے وقت خیبر کے پہلے قلعہ ناعم پر پہنچ گیا۔ اس وقت قلعہ والے اسلامی لشکر کی یورش سے بالکل بے خبر محو خواب تھے۔ شب خون مار کر قلعہ کو فتح کرنے کا یہ بہترین موقعہ تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم شب خون مارنے کے خلاف تھے۔ اور مسلمانوں کو بھی شب خون مارنے کی ممانعت کر دی تھی۔ لہٰذا آپ نے لشکر کو صبح ہونے تک توقف کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ جب کسی قوم پر جہاد کرتے تو ان پر صبح تک حملہ نہ کرتے، صبح اگر ان لوگوں میں اذان کی آواز سنتے تو حملہ نہ کرتے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تب حملہ کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی پھاوڑے ٹوکریاں لے کر نکلے۔ کیونکہ وہ زراعت پیشہ تھے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو چیخ اٹھے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو لشکر سمیت آن پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر نعرہ لگایا۔ اللہ اکبر خربت خیبر (اللہ اکبر! خیبر کی شامت آگئی) پھر فرمایا: ہم جب بھی کسی قوم کے آنگن میں اترے تو جن لوگوں کو ڈرایا گیا ان کی صبح منحوس ہی ہوتی ہے۔ [بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب دعاء النبی الی الاسلام والنبوۃ]
چنانچہ یہ یہودی خوف زدہ ہو کر شہر کی طرف بھاگے اور قلعہ ناعم میں جا پناہ لی۔ ناعم میں یہود کا صرف سامان رسد وغیرہ تھا کوئی بڑی فوجی قوت نہ تھی۔ لہٰذا مسلمانوں نے اسے آسانی سے فتح کر لیا۔ اس کے بعد دوسرے چھوٹے قلعے بھی آسانی کے ساتھ تسخیر ہو گئے۔ لیکن سب سے مضبوط اور سب سے اہم سلام بن ابی الحقیق کا قلعہ قموص تھا جس میں یہود کا سردار اور مشہور جری پہلوان مرحب بھی موجود تھا۔ قموص پر ہر روز حملے ہوتے رہے لیکن یہ سر ہونے میں نہ آتا تھا۔ اسی طرح بیس دن گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ خیبر فتح کرا دے گا۔ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے۔
آپ کا سیدنا علی کو جھنڈا عطا کرنا :۔
لوگ رات بھر اسی سوچ میں رہے کہ دیکھئے کل کس کو جھنڈا ملتا ہے۔ صبح سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا علی ابن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تو آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا: کسی کو اسے بلانے کے لئے بھیج دو۔ جب سیدنا علیؓ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں پر لگایا اور دعا فرمائی۔ وہ ایسے اچھے ہو گئے جیسے انہیں کچھ تکلیف ہی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کے حوالے کیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ ہماری طرح (مسلمان) نہ ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”آرام سے جاؤ جب ان کے مقام پر پہنچ جاؤ تو انہیں اسلام کی دعوت دو اور ان پر اللہ کا جو فرض ہے وہ انہیں بتاؤ۔ اللہ کی قسم اگر تیرے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تیرے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے“ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مناقب علی ابن ابی طالب]
اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے کبھی کسی منصب یا عہدے کی آرزو پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن اس رات میرے دل میں بھی یہ خواہش مچل رہی تھی کہ کاش صبح میرا نام پکارا جائے۔ [مسلم۔ كتاب الفضائل۔ باب فضائل على ابن ابي طالب]
سیدنا علی اور مرحب کا مقابلہ :۔
چنانچہ سیدنا علیؓ فوج لے کر قلعہ پر حملہ آور ہوئے تو آپ کے مقابلہ کے لئے یہودی سالار مرحب مقابلہ کو نکلا اور میدان میں اتر کر تین مصرعوں کا شعر پڑھا:
﴿قد علمتْ خيبر اني مرحَب
﴿شَاك السَّلاحِ بَطَلٌ مجرَّبٌ
﴿اِذَا الحُروبُ اَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ
”سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار بند ہوں اور اس وقت آزمودہ کار پہلوان ثابت ہوتا ہوں۔ جب لڑائیاں شعلے اڑانے لگتی ہیں“ اس کے جواب میں سیدنا علیؓ نے بھی تین مصرعے کا شعر پڑھا:
﴿انا الذى سمَّتُنِي اُمّي حيدرَه
﴿كَلَيْثِ غاباتٍ كريه المَنْظَرَه
﴿اُو فيهِم بالصَّاع كيل السُّنْدَرَه
”میں وہ ہوں جس کا میری ماں نے شیر نام رکھا تھا۔ میں جنگلوں کے شیر کی طرح جس کو دیکھوں سب ڈر جاتے ہیں۔ اور میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا کرتا ہوں“ پھر سیدنا علی نے مرحب کے سر پر ایک ایسی کاری ضرب لگائی جس سے اس کا کام تمام ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر فتح دی۔ [مسلم۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب غزوۃ ذی قرد وخیبر]
مرحب کے بعد اس کا بھائی یاسر میدان میں اترا تو سیدنا زبیر نے اسے ڈھیر کر دیا۔ اس پر یہودیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور قلعہ فتح ہو گیا۔ اس معرکہ خیبر میں ترانوے یہودی کام آئے اور بیس مجاہدین شہید ہوئے۔
یہودیوں کی جان بخشی کی شرائط :۔
اس شکست فاش کے بعد یہودیوں نے آپ سے جان بخشی کی درخواست کی جسے آپ نے اس شرط پر منظور کیا کہ یہود اپنی تمام جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ یعنی ہتھیار، نقدی اور مویشی نیز زمین اور باغات وغیرہ سب کچھ مسلمانوں کے حوالہ کر دیں گے اور اگر انہوں نے جائیداد کا اتا پتا بتانے میں پس و پیش کیا تو یہ معاہدہ ختم اور مسلمانوں کو انہیں قتل کر دینے یا جلا وطن کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ اس معاہدہ کی رو سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود بنو نضیر سے ان کے مال و دولت کی بابت دریافت فرمایا۔ جو وہ مدینہ سے لے کر نکلے تھے تو حیی بن اخطب کے داماد کنانہ بن ربیع نے اس کے بتانے میں پس و پیش کیا۔ لیکن ایک دوسرے یہودی کی نشاندہی پر مطلوبہ مال جنگل میں مدفون مل گیا۔ اس عہد شکنی کی بنا پر کنانہ بن ربیع کو تہ تیغ کر دیا گیا اور اس کے خاندان کی عورتیں اور بچے غلام بنا لئے گئے۔ حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ اسیر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر نیز دشمنوں پر اپنے اخلاق کا اثر ڈالنے کے لئے اسے آزاد کر دیا اور دوسری مہربانی یہ فرمائی کہ اسے اپنے عقد میں لے لیا۔ چنانچہ یہود پر اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔
نصف پیداوار کی شرط پر یہود سے مصالحت :۔
اب یہود نے دوسری درخواست یہ کی کہ ان کی زمینیں اور باغات انہیں کے پاس رہنے دیئے جائیں اس شرط پر کہ وہ ساری پیداوار کا نصف مسلمانوں کو ادا کر دیا کریں گے۔ آپ نے کمال مہربانی سے ان کی یہ درخواست بھی منظور فرمالی۔ اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اگر وہ مسلمانوں سے بد عہدی یا کوئی اور شرارت کریں گے تو یہ معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ جب فصل تیار ہو چکتی تو آپ عبد اللہ بن رواحہ کو بھیجتے جو پیداوار کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے پھر یہود کو اختیار دے دیتے کہ جونسا حصہ تم چاہو لے لو۔ یہودیوں پر اس فیاضانہ عدل کا یہ اثر ہوا کہ وہ کہتے تھے کہ زمین و آسمان ایسے ہی عدل پر قائم ہیں۔
زہریلی بکری سے آپ کو ختم کرنے کی سازش :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیاضانہ سلوک کے باوجود یہود کا خبث باطن ختم نہ ہوا۔ خیبر میں قیام کے دوران سلام بن مشکم یہودی کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کی درخواست کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا۔ یہ دراصل سب یہود کی ملی بھگت سے ایک سازش تیار کی گئی تھی کہ آپ کو کھانے میں زہر ملا کر ہلاک کر دیا جائے۔ چنانچہ زینب نے آپ سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونسا گوشت پسند فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دستی کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ دعوت پر آئے۔ لیکن پہلا لقمہ ابھی حلق سے اترا ہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ آپ کھانے سے رک گئے لیکن ایک صحابی بشیر بن براء دو چار لقمے کھا چکے تھے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس موقعہ پر اگر کوئی اور فاتح ہوتا تو سب یہودیوں کو تہ تیغ کرا دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے پوچھا تو اس نے اعتراف جرم کر لیا اور بتایا کہ اس سازش میں سب یہود ملوث ہیں۔ آپ نے یہود کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے بھی اعتراف کر لیا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو کہنے لگے کہ اس لئے کیا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو زہر آپ پر اثر نہیں کرے گا اور جھوٹے ہیں تو آپ سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ آپ مجسمہ رحمت تھے۔ لہٰذا آپ نے ان سب کا یہ قصور بھی معاف کر دیا۔ فقط بشیر بن براء کے قصاص میں زینب بنت حارث کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ [بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب اذا غدر المشرکون بالمسلمین]
فتح خیبر کے اثرات :۔
خیبر کے معاملات سے فارغ ہو کر صفر 7 ھ میں آپ نے فدک کی طرف توجہ فرمائی۔ کیونکہ یہ لوگ بھی جنگ پر تلے بیٹھے تھے۔ یہاں صرف ایک دن جنگ ہوئی دوسرے دن صبح ہی مجاہدین اسلام نے ان پر فتح پالی اور ان سے اہل خیبر کی شرائط پر مصالحت کر لی۔ تیماء کے یہود کو ان فتوحات کی خبر ملی تو انہوں نے خود ہی جزیہ کی شرط پر صلح کر لی۔ خیبر وغیرہ کی فتح سے یہود کا دم خم بالکل ختم ہو گیا۔ جب قریش مکہ کو یہ خبر ملی تو انہیں سخت صدمہ ہوا کیونکہ ان کا ایک مضبوط بازو کٹ گیا اور اب وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں تنہا رہ گئے۔
خیبر کے اموال غنائم اور اموال فئے:۔
غزؤہ خیبر میں کچھ لڑائی کے ذریعہ اموال غنیمت حاصل ہوئے اور کچھ بے لڑے بھڑے بھی حاصل ہو گئے اور مال کثیر اور باغات مسلمانوں کے ہاتھ لگے حتیٰ کہ مسلمانوں کی معاشی حالت بہت بہتر ہو گئی اور مہاجرین نے انصار کو وہ باغات وغیرہ واپس کر دیئے جو سلسلہ مواخات کے نتیجہ میں مہاجرین نے بطور شراکت انصار سے لے رکھے تھے اس غزوہ خیبر میں انہیں مجاہدین کو شریک کیا گیا جو غزوہ حدیبیہ میں آپ کے ہمراہ تھے اور خون پر بیعت کی تھی۔ انہیں میں یہ اموال غنیمت تقسیم کئے گئے۔
ان اموال میں حبشہ کے مہاجرین کا حصہ :۔
البتہ ان اموال میں حبشہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچنے والے مہاجرین کو شریک کر لیا گیا تھا جو عین اموال غنیمت کی تقسیم کے موقعہ پر پہنچے تھے۔ بعض علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین حبشہ کو جو مال دیا تھا وہ مجاہدین کے حصہ سے نہیں بلکہ اپنے حصہ خمس سے دیا تھا۔ جس کی تقسیم کلیتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صوابدید پر منحصر تھی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم نے یمن میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے چلے گئے۔ تو میں اور میرے دو چھوٹے بھائی ابو بردہ اور ابو رہم بھی مدینہ کو ہجرت کی غرض سے نکلے۔ ہماری قوم کے کل باون یا ترپن آدمی تھے جو کشتی پر سوار ہوئے۔ وہ کشتی حبش کی طرف چلی گئی جہاں کا بادشاہ نجاشی تھا۔ وہاں ہم کو جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھی ملے۔ جعفر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہاں بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ یہیں ٹھہرو۔ تو تم بھی ہمارے ساتھ ٹھہرو۔ ہم کچھ عرصہ وہاں رہے۔ پھر سب لوگ مل کر مدینہ آئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تھا۔ آپ نے اموال غنائم میں سے ہمارا حصہ لگایا یا کہا کہ اس سے ہمیں عطا کیا۔ لیکن ہمارے سوا صرف اسے ہی آپ نے دیا جو فتح خیبر میں حاضر تھا، کسی غیر حاضر کو کچھ نہیں دیا۔ سو ہم کشتی والوں کے جو جعفر اور ان کے اصحاب کے ساتھ تھے۔ آپ نے ان کا حصہ لگایا۔ بعض لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تم سے پہلے ہجرت کر چکے تھے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سیدنا عمرؓ اور سیدہ اسماء بنت عمیس میں تکرار بھی ہوئی۔ سیدنا عمرؓ کہتے تھے کہ ہم تم سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے ہیں لہٰذا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف زیادہ حق رکھتے ہیں۔ اسماء بنت عمیس کو اس بات پر غصہ آگیا کہ تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے وہ تمہارا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے اور ہم دیار غیر میں تھے اور ہجرت بھی دو دفعہ کی ہے اور کہنے لگیں میں ضرور یہ بات رسول اللہ سے پوچھوں گی۔ چنانچہ اسماء نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تم سے زیادہ حق نہیں رکھتے۔ کیونکہ ان کی ایک ہجرت ہے اور تمہاری دو بار ہجرت ہے۔ اسماء کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات سے کشتی والوں کو انتہائی خوشی ہوئی۔ اور وہ مجھے بار بار اس حدیث کو دہرانے کو کہتے تھے۔ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل جعفر و اسماء بنت عمیس و اھل سفینتھم۔۔ ملخصاً]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حبشہ سے آنے والے مہاجرین کو یہ حصہ دو ہجرتوں کی وجہ سے ملا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔
بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔‏‏‏‏ } ۱؎ [صحیح بخاری:2928]‏‏‏‏
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ { تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں }۔
پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔
پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔