ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 15

سَیَقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انۡطَلَقۡتُمۡ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡہَا ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡکُمۡ ۚ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّبَدِّلُوۡا کَلٰمَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا کَذٰلِکُمۡ قَالَ اللّٰہُ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا ؕ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَفۡقَہُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵﴾
عنقریب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تا کہ انھیں لے لو ،ہمیں چھوڑو کہ ہم تمھارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ تو وہ ضرور کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ وہ نہیں سمجھتے تھے مگر بہت تھوڑا۔ En
جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم
En
جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے، وه چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے، وه اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، (اصل بات یہ ہے) کہ وه لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ { سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ …:} اللہ تعالیٰ نے بیعتِ رضوان میں شریک صحابہ پر اپنے بہت سے انعامات کے علاوہ، جن کا ذکر آیت (۱۸، ۱۹) میں آ رہا ہے، انھیں ایک بہت جلدی حاصل ہونے والی فتح کا وعدہ بھی فرمایا جس میں انھیں بہت سی غنیمتیں حاصل ہوں گی۔ مقصد ان کی اس دل شکنی کا ازالہ تھا جو حدیبیہ کے موقع پر ہوئی، اس کے علاوہ اس اطاعت، وفا داری اور جاں فروشی کا انعام دینا بھی تھا جس کا مظاہرہ انھوں نے اس سارے غزوہ کے دوران کیا۔ ان غنیمتوں سے مراد خیبر ہے جس کا فتح کرنا یہودیوں کی مسلسل شرارتوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے نہایت ضروری تھا، مگر قریش کی حمایت کی وجہ سے اس میں مشکلات در پیش تھی۔ اب قریش کی طرف سے بے فکری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کا ارادہ فرمایا۔ اس مہم میں مسلمانوں کی فتح اور بے شمار غنیمتوں کا حصول سب کو صاف نظر آ رہا تھا اور ایسے ہی ہوا کہ صلح حدیبیہ کے تین ماہ بعد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی اور بڑی آسانی سے اسے فتح فرما لیا، بلکہ خیبر کے اردگرد کی یہودیوں کی بہت سی بستیاں بھی کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آ گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا کہ جب تم خیبر کی طرف غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے روانہ ہو گے تو یہ پیچھے رہنے والے کہیں گے، ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دو۔
➋ { يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان غنیمتوں کا وعدہ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں سے کیا تھا اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ غنیمتیں ان لوگوں کو بھی مل جائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے کے لیے گھر ہی سے نہیں نکل سکے، بیعت انھوں نے خاک کرنا تھی۔ اب ان کی بات مان لی جائے تو اللہ کی بات تو اپنی جگہ نہ رہی۔
➌ { قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا:} آپ ان سے کہیے، تم ہمارے ساتھ ہر گز نہیں جاؤ گے، کیونکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جنھوں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا جب موت آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی۔
➍ {كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے ہی کر دیا ہے کہ فتح کے ثمرات کے حق دار بھی صرف وہ ہیں جنھوں نے اس وقت ساتھ دیا جب جان و مال کی بازی لگانے کا وقت تھا۔
➎ { فَسَيَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا:} فرمایا، یہ لوگ ساتھ جانے کی اجازت نہ ملنے پر کہیں گے، بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو کہ ان غنیمتوں کے حصول سے ہماری مالی حالت اچھی نہ ہو جائے۔
➏ { بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا:} فرمایا، مسلمانوں کو ان پر کوئی حسد نہیں اور نہ ان کی پاک فطرت میں اس کی گنجائش ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو خواہ مخواہ مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، اپنے قصور کی سمجھ نہ انھیں پہلے آئی نہ اب تک اسے سمجھ رہے ہیں ({كَانُوْا} میں استمرار ہے) کہ جب اس سے پہلے وہ کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو اب آسانی سے ہاتھ آنے والے مالِ غنیمت میں انھیں کیسے حصے دار بنایا جا سکتا ہے اور جب پہلے ان کے اموال اور گھر والوں نے انھیں گھر سے نکلنے سے روکے رکھا تو اب وہ انھیں نکلنے سے کیوں نہیں روک رہے؟ بہت کم سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل نہیں سمجھتے۔ قرآن مجید اور کلامِ عرب میں قلیل کا لفظ مطلق نفی کے لیے عام استعمال ہوا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 اس میں غزوہ خیبر کا ذکر ہے جس کی فتح کی نوید اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں دی تھی نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہاں سے جتنا بھی مال غنیمت حاصل ہوگا وہ صرف حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کا حصہ ہے چناچہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی مسلسل عہد شکنی کی وجہ سے خیبر پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تو مذکورہ متخلفین نے بھی محض مال غنیمت کے حصول کے لیے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا جسے منظور نہیں کیا گیا آیت میں مغانم سے مراد مغانم خیبر ہی ہیں۔ 15۔ 2 اللہ کے کلام سے مراد، اللہ کا خیبر کی غنیمت کو اہل حدیبیہ کے لئے خاص کرنے کا وعدہ ہے، منافقین اس میں شریک ہو کر اللہ کے کلام یعنی اس کے وعدے کو بدلنا چاہتے تھے۔ 15۔ 3 یہ نفی بمعنی نہی ہے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے۔ 15۔ 4 یعنی یہ متخلفین کہیں گے کہ تم ہمیں حسد کی بنا پر ساتھ لے جانے سے گریز کر رہے ہو تاکہ مال غنیمت میں ہم تمہارے ساتھ شریک نہ ہوں۔ 15۔ 5 یعنی بات یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں، بلکہ یہ پابندی ان کے پیچھے رہنے کی پا داش میں ہے۔ لیکن اصل بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے فوراً کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ [17] چلنے دو۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو بدل [18] دیں۔ آپ ان سے کہئے: تم ہرگز ہمارے ساتھ [19] نہ جاؤ گے (کیونکہ) اللہ پہلے ہی ایسی بات فرما چکا ہے۔ پھر وہ کہیں گے (یہ بات نہیں) ”بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو“ (یہ بات بھی نہیں) مگر یہ لوگ [20] حقیقت کو کم ہی سمجھتے ہیں
[17] منافقوں کی غزوہ خیبر میں شمولیت کی خواہش کیوں تھی؟
فتح خیبر کا واقعہ غزوہ حدیبیہ کے تین ماہ بعد محرم 7 ھ میں پیش آیا۔ جلا وطن شدہ یہود یہیں اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ بنو نضیر بھی مدینہ سے جلا وطن ہو کر یہیں مقیم ہو گئے تھے۔ انہی کے سردار حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو ورغلا کر جنگ احزاب میں مسلمانوں کے خلاف عہد شکنی پر مجبور کر دیا تھا۔ اور وہ اتحادی کافروں سے مل گئے تھے۔ حدیبیہ کی صلح کے بعد ان لوگوں کی سرکوبی ضروری تھی۔ یہ سفر نسبتاً آسان بھی تھا اور یہاں سے اموال غنیمت کی بھی بہت توقع تھی۔ غزوہ حدیبیہ میں پیچھے رہ جانے والے منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین ماہ پہلے ہی بتا دیا کہ جب تم اس سفر پر جانے لگو گے تو پھر یہ لوگ تمہارے ساتھ جانے کے لئے فوراً تیار ہو جائیں گے کیونکہ وہاں جان و مال کے ضیاع کا خطرہ کم اور بہت زیادہ اموال غنیمت مل جانے کی توقع ہو گی۔
[18] اللہ کا حکم یا فیصلہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مخلص ہیں۔ اللہ انہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کرے اور مالی فائدے بھی پہنچائے۔ مگر یہ منافق یہ چاہتے ہیں کہ جان و مال کے ضیاع کا خطرہ ہو تو یہ بہانے بنا کر اپنی جانیں اور مال بچا لیں اور مخلص مسلمان ہی ایسے مشکل اوقات میں آگے بڑھیں اور جب جان و مال کا کوئی خوف نہ ہو اور مال ملنے کی امید ہو تو یہ بھی ان میں شامل ہو جائیں۔ ان کی اس آرزو سے اللہ کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔
[19] غزوہ خیبر میں صرف ان مسلمانوں کو ساتھ لیا گیا جو بیعت رضوان میں شامل تھے :۔
لہٰذا جب خیبر پر چڑھائی کا وقت آئے اور یہ مسلمانوں کے ہمراہ جانے کی آرزو کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دو ٹوک لفظوں میں بتا دیجئے کہ ہم تمہیں اپنے ہمراہ نہیں لے جا سکتے۔ کیونکہ اللہ ہمیں اس بات سے منع کر چکا ہے۔ چنانچہ عملاً یہی کچھ ہوا آپ صرف انہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غزوہ خیبر میں اپنے ساتھ لے گئے جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کے ہاتھ پر خون پر بیعت کی تھی۔
[20] منافقوں کا جواب بھی ناانصافی پر مبنی ہے :۔
یعنی جب تم بہانہ ساز منافقوں سے یہ کہو گے کہ تم غزوہ خیبر کے مجاہدین میں شامل نہیں ہو سکتے تو وہ فوراً تم لوگوں پر مزید یہ الزام لگا دیں گے۔ تم یہ چاہتے ہی نہیں کہ ہمیں بھی اموال غنیمت سے کچھ حصہ مل جائے اور تم ہمارا حسد کرتے ہو کہ کہیں ہم لوگ بھی آسودہ حال نہ بن جائیں۔ یعنی اس وقت تک بھی ان کا خیال اپنے قصور کی طرف نہیں جائے گا کہ جب ہم کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تو ہمیں آسانی سے ہاتھ آنے والے مال غنیمت میں کیسے حصہ دار بنایا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ یہ ان کے خبث باطن کی ایک اور دلیل ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مال غنیمت کے طالب ٭٭
ارشاد الٰہی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو خیبر کی فتح کے موقع پر مال غنیمت سمیٹنے کے لیے جاتے ہوئے دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے لو، مصیبت کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے راحت کو دیکھ کر شامل ہونا چاہتے ہیں۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں ہرگز ساتھ نہ لینا جب یہ جنگ سے جی چرائیں تو پھر غنیمت میں حصہ کیوں لیں؟ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمتوں کا وعدہ اہل حدیبیہ سے کیا ہے نہ کہ ان سے جو مشکل وقت پر ساتھ نہ دیں اور آرام کے وقت مل جائیں ان کی چاہت ہے کہ کلام الٰہی کو بدل دیں۔
یعنی اللہ نے تو صرف حدیبیہ کی حاضری والوں سے وعدہ کیا تو یہ چاہتے ہیں کہ باوجود اپنی غیر حاضری کے اللہ کے اس وعدے میں مل جائیں تاکہ وہ بھی بدلا ہوا ثابت ہو جائے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:343/11]‏‏‏‏
ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے یہ حکم الٰہی ہے «فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا» [9-التوبة:83]‏‏‏‏ یعنی ’ اے نبی! اگر تمہیں اللہ ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگیں تو تم ان سے کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہ نکلو اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو ‘، تم وہی ہو کہ پہلی مرتبہ ہم سے پیچھے رہ جانے میں ہی خوش رہے بس اب ہمیشہ بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ برات کی ہے جو غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور غزوہ تبوک غزوہ حدیبیہ کے بہت بعد کا ہے۔
ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مراد اس سے ان منافقوں کا مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر جہاد سے باز رکھنا ہے، فرماتا ہے کہ انہیں ان کی اس آرزو کا جواب دو کہ تم ہمارے ساتھ چلنا چاہو اس سے پہلے اللہ یہ وعدہ اہل حدیبیہ سے کر چکا ہے اس لیے تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب وہ طعنہ دیں گے کہ اچھا ہمیں معلوم ہو گیا تم ہم سے جلتے ہو تم نہیں چاہتے کہ غنیمت کا حصہ تمہارے سوا کسی اور کو ملے، اللہ فرماتا ہے دراصل یہ ان کی ناسمجھی ہے اور اسی ایک پر کیا موقوف ہے یہ لوگ سراسر بےسمجھ ہیں۔