ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 12

بَلۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤی اَہۡلِیۡہِمۡ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِکَ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ ظَنَنۡتُمۡ ظَنَّ السَّوۡءِ ۚۖ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۲﴾
بلکہ تم نے گمان کیا کہ رسول اور ایمان والے کبھی اپنے گھر والوں کی طرف واپس نہیں آئیں گے اور یہ بات تمھارے دلوں میں خوش نما بنا دی گئی اور تم نے گمان کیا، برا گمان اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔ En
بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے
En
(نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ { بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ …:} یعنی تمھارے پیچھے رہنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ تم نے سمجھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان، جو احرام باندھ کر جا رہے ہیں، پورا اسلحہ بھی ساتھ لے کر نہیں جا رہے اور اس دشمن کے پاس جا رہے ہیں جس نے سیکڑوں میل دور سے آکر مدینہ میں ان کے کئی آدمی قتل کر دیے اور سخت نقصان پہنچایا، یہ وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے، کوئی بچ کر واپس نہیں آئے گا۔
➋ { وَ زُيِّنَ ذٰلِكَ فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} یعنی تمھیں اپنے پیچھے رہنے پر کوئی ندامت بھی نہ تھی، بلکہ دل میں خوش تھے کہ ہم نے بہت اچھا کیا کہ ساتھ نہیں گئے۔ یہ بات تمھارے دلوںمیں مزین کر دی گئی اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے فعل مجہول { زُيِّنَ } کا لفظ استعمال فرمایا۔ مزین کس نے کیا، اس کی صراحت نہیں فرمائی، کیونکہ وہ متعدد چیزیں ہیں، مثلاً دنیا کی مرغوبات، آدمی کا نفس، شیطان اور برے ساتھی وغیرہ۔
➌ {وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا: بُوْرًا بَائِرٌ} کی جمع ہے جو {بَارَ يَبُوْرُ بَوْرًا} (ن) سے اسم فاعل ہے، ہلاک ہونے والے۔ یعنی اصل بات یہ ہے کہ تم شروع سے اپنی نامردی اور بزدلی کی وجہ سے تھے ہی ہلاک ہونے والے، کیونکہ بہادر مومن تو ایک دفعہ مرتا ہے جبکہ بزدل منافق ہر گھڑی مرتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ» [المنافقون: ۴] (ایسے بزدل ہیں کہ) ہر اونچی آواز کو اپنے آپ پر آنے والی (آفت) ہی سمجھتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 12۔ 2 بور، بائر کی جمع ہے ہلاک ہونے والا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے اگر دنیا میں یہ اللہ کے عذاب سے بچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جاسکتے وہاں تو عذاب ہے ہر صورت میں بھگتنا ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ بلکہ تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسول اور مومن کبھی اپنے گھروں کو واپس نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں [14] کو بہت اچھا لگا اور تم بہت برا گمان سوچ رہے تھے۔ اور تم ہو ہی ہلاک ہو جانے والے لوگ
[14] منافقوں کا گمان کہ مسلمان بچ کر نہ لوٹ سکیں گے :۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ نہ تمہارا اللہ پر اعتماد ہے اور نہ اس کے وعدوں پر۔ تمہارا بس یہ گمان تھا کہ یہ مٹھی بھر لوگ بچ کر واپس نہ آسکیں گے۔ اور تمہارا یہ گمان ہی نہ تھا تمہاری آرزو بھی یہی تھی۔ تمہیں اس بات پر مطلق شرم نہ آئی کہ تم اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے معاملہ میں کس قدر بد باطنی سے ایسی سوچ سوچ رہے تھے۔ پھر دوسرا جرم یہ کر رہے ہو کہ طرح طرح کے جھوٹے بہانے بنا کر اور اللہ کے رسول سے استغفار کی التجا کر کے اپنی بد باطنی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہو۔ تمہارا یہ خبث باطن اور جھوٹ آخر تمہیں تباہ کر کے رہے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔
جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔
تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔
صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔
ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔