اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾
بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔
En
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو فتح دی۔ فتح بھی صریح وصاف
En
بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
سورۃ الفتح یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے۔ یہ ذوالقعدہ سنہ ۶ ہجری کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین نے آپ کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا۔ قصہ لمبا ہے، مختصر یہ کہ دونوں طرف سے بار بار سفیروں کی آمد و رفت کے بعد دس سال کے لیے صلح اور جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا۔ اس کی کچھ شروط مسلمانوں کو پسند نہیں تھیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی مصلحتوں کے پیشِ نظر انھیں قبول فرمایا۔ بعد میں مسلمانوں نے صلح کے خوشگوار اثرات دیکھے تو وہ بھی مطمئن ہو گئے۔
(آیت 1) ➊ {اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا:} لفظ {” فَتْحًا “} سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ اور اس کے قریب ہونے والی فتوحات ہیں اور یقینا یہ الفاظ فتح مکہ پر بھی صادق آتے ہیں، مگر صحابہ کرام اور محقق اہل علم نے اس کا سبب نزول صلح حدیبیہ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ [بخاري، التفسیر، سورۃ الفتح: ۴۸۳۴] اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور واقعی فتح مکہ فتح تھی مگر ہم حدیبیہ کے دن بیعتِ رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۵۰] زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں چل رہے تھے، رات کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جواب نہ دیا، انھوں نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، انھوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”عمر! تیری ماں تجھے گم پائے، تو نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ سوال کیا، لیکن ہر بار آپ نے جواب نہیں دیا۔“ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، چنانچہ میں اپنی اونٹنی کو حرکت دے کر مسلمانوں سے آگے نکل گیا، اس خوف سے کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے۔ کچھ دیر بعد ہی اچانک سنا تو ایک اعلان کرنے والا میرا نام لے کر بلانے کے لیے اعلان کر رہا تھا، میں واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔ میں نے سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُوْرَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۷۷] ”رات مجھ پر وہ سورت اتری ہے جو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ”بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔“
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۂ فتح نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور انھیں سورۂ فتح پڑھوائی۔ انھوں نے کہا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟] ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَعَمْ] ”ہاں!“ تو ان کا دل خوش ہو گیا اور وہ چلے گئے۔ [مسلم، الجہاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ …: ۱۷۸۵]
➋ حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح تھی، کیونکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بے شمار فوائد حاصل ہوئے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ قریش نے مسلمانوں کا وجود تسلیم کر لیا، جو اس سے پہلے وہ کسی صورت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کی حقیقی قوت کا اندازہ ہو گیا اور یہ کہ وہ کس حد تک مزاحمت کر سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں مخلص ایمان والوں اور منافقین کی پہچان ہو گئی، کیونکہ منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کی جرأت ہی نہیں کر سکے تھے، جیسا کہ آگے {” سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ“} میں آ رہا ہے۔ ایک یہ کہ جزیرۂ عرب میں امن قائم ہو جانے سے کفار اور مسلمانوں کا ایک دوسرے سے میل جول شروع ہو گیا۔ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی بات سنی، ان کے اخلاق دیکھے، آپس میں بحث و مناظرہ ہوا اور دعوت کا دائرہ وسیع ہوا، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو صحابہ آئے تھے، لیکن صرف دو سال بعد فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔
➌ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی تاکید کے ساتھ اس فتح کی اہمیت بیان فرمائی، ایک اس کی عظمت کے اظہار کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف دو دفعہ جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمائی، ایک {” اِنَّا “} اور دوسرا {” فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} اور دوسری یہ کہ {” فَتَحْنَا “} کی تاکید مفعول مطلق {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے ساتھ فرمائی اور تیسری یہ کہ اسے {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} (فتح مبین) قرار دیا، یعنی بے شک ہم نے تیرے لیے فتح دی، ایک کھلی فتح۔
➍ {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ “} میں {” لَكَ “} (تیرے لیے) کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم و تشریف کا اظہار ہو رہا ہے، جس سے امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر پہچاننے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کی تعلیم دینا مقصود ہے۔
(آیت 1) ➊ {اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا:} لفظ {” فَتْحًا “} سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ اور اس کے قریب ہونے والی فتوحات ہیں اور یقینا یہ الفاظ فتح مکہ پر بھی صادق آتے ہیں، مگر صحابہ کرام اور محقق اہل علم نے اس کا سبب نزول صلح حدیبیہ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ [بخاري، التفسیر، سورۃ الفتح: ۴۸۳۴] اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور واقعی فتح مکہ فتح تھی مگر ہم حدیبیہ کے دن بیعتِ رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۵۰] زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں چل رہے تھے، رات کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جواب نہ دیا، انھوں نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، انھوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”عمر! تیری ماں تجھے گم پائے، تو نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ سوال کیا، لیکن ہر بار آپ نے جواب نہیں دیا۔“ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، چنانچہ میں اپنی اونٹنی کو حرکت دے کر مسلمانوں سے آگے نکل گیا، اس خوف سے کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے۔ کچھ دیر بعد ہی اچانک سنا تو ایک اعلان کرنے والا میرا نام لے کر بلانے کے لیے اعلان کر رہا تھا، میں واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔ میں نے سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُوْرَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۷۷] ”رات مجھ پر وہ سورت اتری ہے جو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ”بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔“
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۂ فتح نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور انھیں سورۂ فتح پڑھوائی۔ انھوں نے کہا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟] ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَعَمْ] ”ہاں!“ تو ان کا دل خوش ہو گیا اور وہ چلے گئے۔ [مسلم، الجہاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ …: ۱۷۸۵]
➋ حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح تھی، کیونکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بے شمار فوائد حاصل ہوئے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ قریش نے مسلمانوں کا وجود تسلیم کر لیا، جو اس سے پہلے وہ کسی صورت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کی حقیقی قوت کا اندازہ ہو گیا اور یہ کہ وہ کس حد تک مزاحمت کر سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں مخلص ایمان والوں اور منافقین کی پہچان ہو گئی، کیونکہ منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کی جرأت ہی نہیں کر سکے تھے، جیسا کہ آگے {” سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ“} میں آ رہا ہے۔ ایک یہ کہ جزیرۂ عرب میں امن قائم ہو جانے سے کفار اور مسلمانوں کا ایک دوسرے سے میل جول شروع ہو گیا۔ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی بات سنی، ان کے اخلاق دیکھے، آپس میں بحث و مناظرہ ہوا اور دعوت کا دائرہ وسیع ہوا، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو صحابہ آئے تھے، لیکن صرف دو سال بعد فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔
➌ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی تاکید کے ساتھ اس فتح کی اہمیت بیان فرمائی، ایک اس کی عظمت کے اظہار کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف دو دفعہ جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمائی، ایک {” اِنَّا “} اور دوسرا {” فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} اور دوسری یہ کہ {” فَتَحْنَا “} کی تاکید مفعول مطلق {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے ساتھ فرمائی اور تیسری یہ کہ اسے {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} (فتح مبین) قرار دیا، یعنی بے شک ہم نے تیرے لیے فتح دی، ایک کھلی فتح۔
➍ {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ “} میں {” لَكَ “} (تیرے لیے) کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم و تشریف کا اظہار ہو رہا ہے، جس سے امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر پہچاننے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کی تعلیم دینا مقصود ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔ (1)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ (اے نبی!) ہم نے آپ کو واضح فتح [1] عطا کر دی۔
[1] آپ کو بیت اللہ کے طواف کا خوب میں آنا :۔
جنگ احزاب کے بعد قریش کی مسلمانوں پر بالا دستی کا تصور ختم ہو چکا تھا تاہم ابھی تک بیت اللہ پر قریش کا ہی قبضہ تھا۔ مسلمان جب سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تھے ان میں سے کسی نے حج، عمرہ یا طواف کعبہ نہیں کیا تھا جس کے لئے ان کے دل ترستے رہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب آیا کہ آپ بہت سے مسلمانوں کی معیت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے۔
1400 صحابہ کے ساتھ مکہ کو روانگی :۔
لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا اعلان فرما دیا۔ چونکہ اس سفر سے جنگی مقاصد یا غنائم کا کوئی تعلق نہ تھا۔ لہٰذا آپ کی معیت صرف ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہی اختیار کی جو محض رضائے الٰہی کے لئے عمرہ کی نیت رکھتے تھے۔ جو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے پر تیار ہوئے ان کی تعداد چودہ سو کے لگ بھگ تھی۔ کافروں کا روکنا اور آمادہ جنگ ہونا: اہل مکہ کو پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع ہو چکی تھی اور ان کی یہ انتہائی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ اس میں وہ اپنی توہین سمجھتے تھے۔ دستور کے مطابق اہل مکہ کسی بھی طواف اور عمرہ کرنے والے کو نہیں روک سکتے تھے۔ پھر یہ مہینہ بھی ذیقعد کا تھا جن میں اہل عرب کے دستور کے مطابق لڑائی منع تھی۔ ان دونوں باتوں کے باوجود قریش مکہ مسلمانوں کا مکہ میں داخلہ روکنے کے لئے لڑائی پر آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ خالد بن ولید ایک فوجی دستہ لے کر مقابلہ کے لئے نکل آئے۔
حدیبیہ کے مقام پر فروکشی :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ صورت حال معلوم ہوئی تو آپ سیدھی راہ میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے مکہ کے زیریں علاقہ حدیبیہ میں فروکش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کو بہتیرا سمجھایا کہ ہم لڑنے کی غرض سے نہیں آئے فقط عمرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور قربانی کے جانور بھی دکھائے لیکن انہیں مسلمانوں کا مکہ میں داخل ہونا بھی گوارا نہ تھا۔ لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کو واپس چلے جانے پر ہی اصرار کیا۔
سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی افواہ اور بیعت رضوان :۔
اسی دوران فریقین کی طرف سے کئی سفارتیں بھی آئیں اور گئیں۔ مسلمانوں کی طرف سے سیدنا عثمانؓ کو سفیر بنا کر بھیجا گیا تو انہیں وہیں روک لیا گیا۔ اور افواہ یہ مشہور ہو گئی کہ سیدنا عثمانؓ شہید کر دیئے گئے۔ چنانچہ قصاص عثمان کے سلسلہ میں آپ نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خون پر بیعت لی۔ جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔
سیدنا عثمانؓ کی بیعت :۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اہل مکہ کے لئے سیدنا عثمانؓ سے کوئی زیادہ کوئی قابل احترام ہوتا تو آپ سفارت کے لئے اسے بھیجتے یہ بیعت سیدنا عثمانؓ کی غیر موجودگی میں ہوئی۔ لہٰذا آپ نے یوں کیا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور اس کو بائیں ہاتھ پر مار کر فرمایا کہ یہ عثمان کی بیعت ہے۔ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مناقب عثمان بن عفان]
بعد میں معلوم ہوا کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی خبر غلط تھی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی خبر غلط تھی۔
سفارتوں کے تبادلے اور صلح حدیبیہ :۔
دو تین دفعہ سفارتوں کے تبادلہ کے بعد بالآخر صلح کی شرائط پر سمجھوتہ ہو گیا۔ یہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے لئے توہین آمیز تھیں اور بیعت رضوان کے بعد بالخصوص ایسی شرائط پر رضا مند بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شرائط کو منظور فرما لیا اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو فتح مبین قرار دیا۔ صلح کی شرائط یہ تھیں۔
1۔ آئندہ دس سال تک مسلمان اور قریش ایک دوسرے پر چڑھائی نہ کریں گے اور صلح و آشتی سے رہیں گے۔
2۔ قبائل کو عام اجازت ہے کہ وہ جس فریق کے حلیف بننا چاہیں بن سکتے ہیں۔
3۔ اگر مکہ سے کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جائے تو مسلمان اسے واپس کر دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ آجائے تو وہ واپس نہ کیا جائے گا۔
4۔ مسلمان اس دفعہ عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں۔ آئندہ سال وہ تلواریں نیام میں کئے ہوئے آئیں۔ تین دن تک ان کے لئے شہر خالی کر دیا جائے گا اور انہیں مکہ میں رہنے اور عمرہ کرنے کی اجازت ہو گی۔
1۔ آئندہ دس سال تک مسلمان اور قریش ایک دوسرے پر چڑھائی نہ کریں گے اور صلح و آشتی سے رہیں گے۔
2۔ قبائل کو عام اجازت ہے کہ وہ جس فریق کے حلیف بننا چاہیں بن سکتے ہیں۔
3۔ اگر مکہ سے کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جائے تو مسلمان اسے واپس کر دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ آجائے تو وہ واپس نہ کیا جائے گا۔
4۔ مسلمان اس دفعہ عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں۔ آئندہ سال وہ تلواریں نیام میں کئے ہوئے آئیں۔ تین دن تک ان کے لئے شہر خالی کر دیا جائے گا اور انہیں مکہ میں رہنے اور عمرہ کرنے کی اجازت ہو گی۔
شرائط قبول کرنے کی وجوہ :۔
مسلمانوں کو جب یہ سورۃ سنائی گئی تو وہ خود حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ ایسی توہین آمیز صلح فتح مبین کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ بحث بڑی تفصیل طلب ہے جس کا یہاں موقع نہیں۔ ہم یہاں ایسی وجوہ بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جن کی بنا پر آپ نے ایسی شرائط کو مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بلکہ ان کی مرضی کے علی الرغم منظور فرما لیا تھا۔ البتہ یہ بات ملحوظ رکھنا چاہئے کہ یہ سب وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق ہوا تھا۔ وہ وجوہ یہ ہیں:
1۔ جب سے آپ مدینہ گئے تھے آپ کے دشمنوں میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا تھا اور مسلسل چھ سال سے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان دشمنوں میں سب سے بڑے دشمن یہی قریش تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کی طرف سے اطمینان نصیب ہو تاکہ دوسرے دشمنوں سے بطریق احسن نمٹا جا سکے۔ چنانچہ آپ نے یہاں سے واپسی پر سب سے پہلے بنو نضیر کی سرکوبی کی اور خیبر فتح ہوا۔
2۔ انہی ہنگامی حالات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے تبلیغی پروگرام مؤخر ہوتے جا رہے تھے۔ چنانچہ اس صلح کے بعد آپ نے آس پاس کے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔
3۔ اس صلح نے تمام عرب پر یہ بات ثابت کر دی کہ مسلمان فی الحقیقت امن پسند قوم ہے جو جنگ سے حتی الامکان گریز کرتی ہے اور مقابلہ کی قدرت رکھنے کے باوجود صلح و آشتی کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی تاثر کے نتیجہ میں اس صلح کے بعد بعض بڑے بڑے سردار از خود اسلام لے آئے مثلاً خالد بن ولید سیف اللہ اور عمرو بن عاص فاتح مصر وغیرہم۔
4۔ جنگ کی صورت میں مکہ میں موجود مسلمانوں کی تباہی یقینی تھی۔ قرآن کریم نے یہ ایک ایسی وجہ بیان فرمائی جس کا مسلمانوں کو خیال تک نہ آیا تھا۔
1۔ جب سے آپ مدینہ گئے تھے آپ کے دشمنوں میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا تھا اور مسلسل چھ سال سے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان دشمنوں میں سب سے بڑے دشمن یہی قریش تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کی طرف سے اطمینان نصیب ہو تاکہ دوسرے دشمنوں سے بطریق احسن نمٹا جا سکے۔ چنانچہ آپ نے یہاں سے واپسی پر سب سے پہلے بنو نضیر کی سرکوبی کی اور خیبر فتح ہوا۔
2۔ انہی ہنگامی حالات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے تبلیغی پروگرام مؤخر ہوتے جا رہے تھے۔ چنانچہ اس صلح کے بعد آپ نے آس پاس کے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔
3۔ اس صلح نے تمام عرب پر یہ بات ثابت کر دی کہ مسلمان فی الحقیقت امن پسند قوم ہے جو جنگ سے حتی الامکان گریز کرتی ہے اور مقابلہ کی قدرت رکھنے کے باوجود صلح و آشتی کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی تاثر کے نتیجہ میں اس صلح کے بعد بعض بڑے بڑے سردار از خود اسلام لے آئے مثلاً خالد بن ولید سیف اللہ اور عمرو بن عاص فاتح مصر وغیرہم۔
4۔ جنگ کی صورت میں مکہ میں موجود مسلمانوں کی تباہی یقینی تھی۔ قرآن کریم نے یہ ایک ایسی وجہ بیان فرمائی جس کا مسلمانوں کو خیال تک نہ آیا تھا۔
جانوروں کی قربانی :۔
اس معاہدہ صلح کی تحریر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنی اپنی قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دیا۔ لیکن صحابہ کرامؓ کو اس توہین آمیز صلح کا کچھ ایسا غم لاحق ہو گیا تھا کہ آپ کے اس حکم پر کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ (شاید وہ اسی انتظار میں ہوں کہ ابھی اللہ کی طرف سے کوئی اور حکم آجائے گا) اس سفر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جب یہ صورت حال بیان کی تو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ آپ اپنی قربانی ذبح کر دیں پھر صحابہ اپنی قربانیاں خود بخود ذبح کر دیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی۔ بال منڈائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کی اتباع میں قربانیاں کیں۔ بال منڈائے اور احرام کھول کر واپس مدینہ آگئے۔ [بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ]
عمرہ قضا: پھر اگلے سال انہیں مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب عمرۃ القضاء]
اب ہم یہاں چند احادیث درج کرتے ہیں جن سے اس سورۃ کا شان نزول اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص سیدنا عمرؓ کے اضطراب کا منظر سامنے آتا ہے:
1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ ﴿اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا﴾ سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔
عمرہ قضا: پھر اگلے سال انہیں مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب عمرۃ القضاء]
اب ہم یہاں چند احادیث درج کرتے ہیں جن سے اس سورۃ کا شان نزول اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص سیدنا عمرؓ کے اضطراب کا منظر سامنے آتا ہے:
1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ ﴿اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا﴾ سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔
شرائط صلح پر سیدنا عمرؓ کی بے قراری :۔
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر (حدیبیہ) میں تھے اور سیدنا عمرؓ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ رات کا وقت تھا۔ سیدنا عمرؓ نے آپ سے کچھ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ سیدنا عمرؓ نے پھر پوچھا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر (تیسری بار) پوچھا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ آخر سیدنا عمرؓ اپنے تئیں کہنے لگے: ”تیری ماں تجھ پر روئے تو نے تین بار عاجزی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بھی جواب نہ دیا“ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے خطرہ تھا کہ اب میرے بارے میں قرآن نازل ہو گا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے ہی بلا رہا تھا۔ میں ڈر گیا کہ شاید میرے بارے میں قرآن اترا ہے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن تک سورج کی روشنی پہنچتی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی۔ [حواله ايضاً]
3۔ سیدنا سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ جب آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کی۔ اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے تو لڑ سکتے تھے۔ سیدنا عمرؓ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا ہم حق پر اور یہ (مشرک) باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ سیدنا عمرؓ کہنے لگے: تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں؟ اور ایسے ہی مدینہ کو چلے جائیں۔ جب تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! رسول میں ہوں (تم نہیں) اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا“ چنانچہ سیدنا عمرؓ غصے کی حالت میں لوٹ گئے۔ مگر قرار نہ آیا تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے پاس آ کر کہنے لگے۔ ”کیا ہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں؟“ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! اللہ کے رسول وہ ہیں (تم نہیں) اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا“ اس وقت سورۃ فتح نازل ہوئی۔ [حواله ايضاً]
4۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت دہرا دہرا کر خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔ [حواله ايضاً]
3۔ سیدنا سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ جب آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کی۔ اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے تو لڑ سکتے تھے۔ سیدنا عمرؓ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا ہم حق پر اور یہ (مشرک) باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ سیدنا عمرؓ کہنے لگے: تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں؟ اور ایسے ہی مدینہ کو چلے جائیں۔ جب تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! رسول میں ہوں (تم نہیں) اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا“ چنانچہ سیدنا عمرؓ غصے کی حالت میں لوٹ گئے۔ مگر قرار نہ آیا تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے پاس آ کر کہنے لگے۔ ”کیا ہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں؟“ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! اللہ کے رسول وہ ہیں (تم نہیں) اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا“ اس وقت سورۃ فتح نازل ہوئی۔ [حواله ايضاً]
4۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت دہرا دہرا کر خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔ [حواله ايضاً]
صلح حدیبیہ کی توہین آمیز شرائط سے خیر کے پہلو کیسے پیدا ہوئے اور ابو جندل کی حالت زار اور فریاد :۔
صلح حدیبیہ کی انہی توہین آمیز شرائط سے اللہ تعالیٰ نے خیر کے بہت سے پہلو پیدا کر دیئے۔ مکہ میں رکھے جانے والے مسلمانوں نے جب مکہ میں تبلیغ شروع کر دی اور بعض لوگ اسلام بھی لے آئے تو یہی بات قریش مکہ کے لئے سوہان روح بن گئی، اور مسلمانوں کے ہاں مدینہ سے واپس کئے جانے والے مسلمانوں نے تجارتی شاہراہ پر اپنی الگ بستی بسا کر قریش کے تجارتی قافلوں کا ناک میں دم کر دیا۔ ان میں ایک ابو جندلؓ تھے۔ قریش مکہ کے تیسرے اور آخری سفیر سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے اور مسلمان ہو چکے تھے جب شرائط صلح طے پا رہی تھیں لیکن تا ہنوز ضبط تحریر میں نہ آئی تھیں اس وقت یہ اہل مکہ کی قید سے بھاگ کر حدیبیہ میں مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے اور انہیں اپنے زخم دکھا دکھا کر التجا کی کہ اب انہیں کفار کے حوالہ نہ کیا جائے۔ مسلمان ابو جندلؓ کو پناہ دینے کے حق میں تھے کیونکہ شرائط تا حال ضبط تحریر میں نہ آئی تھیں مگر ابو جندل کا باپ سہیل اس بات پر اڑ گیا کہ اگر ابو جندل کو واپس نہ کیا گیا تو صلح نہیں ہو سکتی آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل کو صبر کی تلقین فرمائی اور اسے واپس کر دیا۔ اسی طرح سیدنا ابو بصیر اسلام لا کر مدینہ پہنچے تو کفار نے دو آدمی مدینہ بھیج دیئے کہ وہ انہیں واپس مکہ لائیں۔ آپ نے ابو بصیر کو ان کے ہمراہ کر دیا۔ ابو بصیرؓ نے راہ میں موقع پر ایک کو قتل کر دیا اور دوسرا فرار ہو کر مدینہ آگیا اور رسول اللہ کو یہ ماجرا سنایا اتنے میں پیچھے پیچھے ابو بصیر بھی مدینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے ان کے ہمراہ بھیج کر اپنا ذمہ پورا کر دیا۔ اب تو اللہ نے مجھے ان سے نجات دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ کی آگ نہ بھڑکاؤ“ سیدنا ابو بصیر کو جب معلوم ہوا کہ آپ انہیں مدینہ نہیں رہنے دیں گے تو وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے پر آکر مقیم ہو گئے۔ بعد ازاں ابو جندل بھی یہاں پہنچ گئے اور دوسرے نو مسلم بھی مدینہ کے بجائے ادھر کا رخ کرنے لگے۔ ان لوگوں نے قریش کو اس قدر تنگ کیا کہ انہوں نے مجبور ہو کر اس شرط کو کالعدم کر دیا اور اجازت دے دی کہ جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ابو بصیر کو ان کاموں سے منع کریں اور جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کو لوٹ مار کرنے سے منع فرما دیا۔ [كتاب الشروط نيز كتاب المغازي وغيره]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر سورۃ فتح ٭٭
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ { فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4281]
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔
پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:794]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11]
صحیح بخاری میں ہے { سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ }۱؎ [صحیح بخاری:4150]
پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:794]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11]
صحیح بخاری میں ہے { سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ }۱؎ [صحیح بخاری:4150]
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» } ۱؎ [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے
{ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» } [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4172]
{ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» } [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4172]
{ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے“، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: ”جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] اتری ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:4836] اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2820]
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو { آپ نے فرمایا: ”اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731]
پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود { آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود { آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔