(آیت 8) ➊ {وَالَّذِيْنَكَفَرُوْافَتَعْسًالَّهُمْوَاَضَلَّاَعْمَالَهُمْ: ”تَعْسًا“} کا معنی ٹھوکر کھا کر گرنا اور پھر اٹھ نہ سکنا ہے، یا کسی گڑھے میں گر کر ہلاک ہو جانا ہے۔ (مفردات) گویا اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کے تو اللہ تعالیٰ پاؤں جما دیتا ہے، اس کے برعکس منکروں کو منہ کے بل گرا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے اور مومنوں کی تو مدد کی جاتی ہے جب کہ کافروں کے تمام اعمال برباد اور ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ (کیلانی) ➋ {”تَعْسًا“} کا فعل {”مَنَعَ“} اور {”سَمِعَ“} دونوں سے آتا ہے۔ {”تَعْسًا“} مصدر مفعول مطلق ہے جس کا فعل حذف ہونا واجب ہے: {”أَيْتَعِسُوْاتَعْسًا۔“} پھر {”تَعِسُوْا“} کو حذف کرکے {”تَعْسًا“} مصدر کو اس کے قائم مقام کر دیا اور فعل کے فاعل جمع مذکر غائب کی ضمیر کو ظاہر کر دیا۔ ابن ہشام نے فرمایا کہ {”لَهُمْ“} میں لام تبیین کا ہے جو {”تَعْسًا“} کے فاعل کے بیان کے لیے ہے۔ معنی یہی ہے کہ وہ ہلاک ہوئے، بری طرح ہلاک ہونا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لئے تباہی [10] ہے اور وہ ان کے اعمال برباد کر دے گا۔
[10] ﴿تعسا﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿تعسًا﴾ کے معنی ٹھوکر کھا کر گرنا اور پھر اٹھ نہ سکنا ہے یا کسی گڑھے میں گر کر ہلاک ہو جانا ہے (مفردات) گویا اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کے تو اللہ تعالیٰ پاؤں جما دیتا ہے اس کے برعکس منکروں کو منہ کے بل گرا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے اور مومنوں کی تو مدد کی جاتی ہے جبکہ کافروں کے سب کئے کرائے پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔