ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 36

اِنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ وَ اِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا یُؤۡتِکُمۡ اُجُوۡرَکُمۡ وَ لَا یَسۡـَٔلۡکُمۡ اَمۡوَالَکُمۡ ﴿۳۶﴾
دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور دل لگی کے سوا کچھ نہیں اور اگر تم ایمان لاؤ اور بچے رہو، تو وہ تمھیں تمھارے اجر دے گا اور تم سے تمھارے اموال نہیں مانگے گا۔ En
دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا۔ اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا
En
واقعی زندگانیٴ دنیا تو صرف کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور وه تم سے تمہارے مال نہیں مانگتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) ➊ { اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت کی آیت (۶۴) کی تفسیر۔ جہاد سے روکنے والی سب سے بڑی چیز دنیا کی زندگی، اس کے مال و دولت اور اس کی دل فریبیوں سے محبت ہے، کیونکہ جہاد میں جان و مال دونوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ یہ چند دن کا کھیل اور دل لگی ہے، اس کی محبت میں پھنس کر اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو اور یقین رکھو کہ اگر تم ایمان اور تقویٰ اختیار کرو گے، جس میں جان و مال پیش کر دینا بھی شامل ہے تو اللہ تعالیٰ تمھیں تمھارے اجر پورے پورے دے گا اور تم سے تمھارے سارے اموال کا مطالبہ نہیں کرے گا بلکہ ان میں سے معمولی حصے پر اکتفا کرے گا۔ مثلاً سال کے بعد اموال میں سے چالیسواں حصہ، کھیتی میں سے بیسواں یا دسواں حصہ، جنگ کے بعد غنیمت میں سے پانچواں حصہ اور دوسرے پیش آنے والے مواقع پر ضرورت کے مطابق مال کا کچھ حصہ۔ لیکن اگر تم نے ایمان و تقویٰ کے بجائے کفر و عناد پر اصرار کیا تو وہ اپنے مجاہد بندوں کے ذریعے سے تم سے تمھارے سارے اموال چھین لے گا۔ ایمان و تقویٰ کے تقاضے کے مطابق وہ معمولی حصہ جو تم نے خرچ کیا ہے اس کا بھی پورا پورا بدلا وہ تمھیں دنیا اور آخرت میں دے دے گا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: حق تعالیٰ نے ملک فتح کر دیے، مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن مال خرچ کرنا پڑا، سو جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو سو گنا ہاتھ لگا۔ اسی لیے (قرآن کریم میں کئی جگہ) فرمایا ہے کہ اللہ کو قرض دو۔
➋ { وَ لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ:} اور تم سے تمھارے اموال نہیں مانگے گا کا مطلب یہ ہے کہ وہ تم سے تمھارے اموال پورے کے پورے نہیں مانگے گا۔ ہاں، وہ تمھارے اموال میں سے ایک حصہ خرچ کرنے کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ اس مطلب کے کئی قرینے ان آیات میں موجود ہیں جن میں سے ایک قرینہ { أَمْوَالٌ} کی اضافت ضمیر {كُمْ} کی طرف ہے۔ ظاہر ہے تمھارے اموال میں وہ تمام اموال آ جاتے ہیں جو تمھاری ملکیت ہیں۔ دوسرا قرینہ { يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ } ہے، کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ تمھیں تمھارے اجر پورے پورے دے گا۔ تو جس طرح { اُجُوْرَكُمْ } سے پورے اجر مراد ہیں اسی طرح { اَمْوَالَكُمْ } سے بھی پورے اموال مراد ہیں۔ تیسرا قرینہ اس آیت سے اگلی آیت میں لفظ { فَيُحْفِكُمْ } ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے ان کے اموال کا {إِحْفَاءٌ} نہیں چاہتا، یعنی پورے نہیں مانگنا۔ ان تمام قرائن کی وجہ سے { لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ } کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ تم سے تمھارے سارے اموال نہیں مانگے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 یعنی ایک فریب اور دھوکا ہے، اس کی کسی چیز کی بنیاد ہے نہ اس کو ثبات اور نہ اس کا اعتبار۔ 36۔ 2 یعنی وہ تمہارے مالوں سے بےنیاز ہے۔ اسی لئے اس نے تم سے زکوٰۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک نہایت قلیل حصے صرف ڈھائی فیصد کا اور وہ بھی ایک سال کے بعد اپنی ضرورت سے زیادہ ہونے پر، علاوہ ازیں اس کا مقصد بھی تمہارے اپنے ہی بھائی بندوں کی مدد اور خیر خواہی ہے نہ کہ اللہ اس مال سے اپنی حکومت کے اخراجات پورے کرتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ یہ دنیا کی زندگی تو بس ایک کھیل [41] اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور تم سے تمہارے اموال کا مطالبہ نہیں کرے گا
[41] دنیا دار کے لئے دنیوی زندگی کھیل تماشا ہے :۔
یعنی یہ دنیا بس دلفریبیوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انسان زیادہ سے زیادہ مال و دولت اکٹھی کرنے کی ہوس رکھتا ہے اور مرتے دم ہی سب کچھ یہیں چھوڑ جاتا ہے۔ لہٰذا تمہیں آخرت کی کمائی کی فکر کرنی چاہئے جو دائمی اور پائیدار ہے۔ اور اس کے مقصد کے حصول کے لئے وہ تم سے تمہارے سارے اموال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ تو خود غنی ہے اور ساری مخلوق پر خرچ کرتا ہے اسے تمہارے اموال کی کیا پروا یا ضرورت ہے۔ اگر کچھ تھوڑا سا مال تمہیں جہاد کی خاطر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن اپنی گرہ سے پیسہ خرچ کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی ملک فتح کرا دیئے۔ اور جتنا مسلمانوں نے خرچ کیا تھا اس سے سو سو گناہ زیادہ اموال غنیمت کی صورت میں ہاتھ لگ گیا۔ اموال غنیمت نے مسلمانوں کی معاشی تنگدستی کو آسودگی میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ فتح خیبر کے بعد مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کر دیئے جو انہوں نے مدینہ آنے پر شراکت کے طور پر انصار سے لئے تھے۔ پھر اس کے بعد مسلمانوں کی معاشی آسودگی بڑھتی ہی گئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لیے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔
پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔
پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تم اس کی اطاعت سے روگرداں ہو گئے اس کی شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لائے گا جو تم جیسی نہ ہو گی بلکہ وہ سننے اور ماننے والے، حکم بردار، نافرمانیوں سے بیزار ہوں گے ‘۔
ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے۱؎ [صحیح مسلم:2546]‏‏‏‏، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔