فَلَا تَہِنُوۡا وَ تَدۡعُوۡۤا اِلَی السَّلۡمِ ٭ۖ وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ ٭ۖ وَ اللّٰہُ مَعَکُمۡ وَ لَنۡ یَّتِرَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۵﴾
پس نہ کمزور بنو اور نہ صلح کی طرف بلاؤ اور تم ہی سب سے اونچے ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تم سے تمھارے اعمال کم نہ کرے گا۔
En
تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ اور تم تو غالب ہو۔ اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا
En
پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر نہ اتر آؤ جبکہ تم ہی بلند وغالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے، ناممکن ہے کہ وه تمہارے اعمال ضائع کر دے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 35) ➊ { فَلَا تَهِنُوْا: ” فَلَا تَهِنُوْا “} کی فاء فصیحہ کہلاتی ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت: (۱۹) «فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ» کی تفسیر۔ یعنی جب تم منافقین کا جہاد سے فرار اختیار کرنا اور دوسروں کو بھی اس سے روکنا، کفار کے ساتھ دوستی اور اسلام اور مسلمانوں سے بے وفائی کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنا، اس کے نتیجے میں ان پر لعنت ہونا اور ان کے اعمال برباد ہونا جان چکے تو تم وہ کام نہ کرنا جن کے نتیجے میں ان کا یہ انجام ہوا۔
➋ { فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ:} منافقین چونکہ بزدلی اور موت کے خوف کی وجہ سے جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اس لیے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے، وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے رہتے تھے کہ جنگ کے بجائے صلح سے معاملات طے کرنے چاہییں۔ حالانکہ ان کی صلح جوئی کے پیچھے ان کی بے ہمتی، بزدلی اور کمزوری کے سوا کچھ نہیں تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی راہ اختیار کرنے سے منع فرما دیا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ آیات اس زمانے میں نازل ہوئیں جب مدینہ ایک چھوٹی سی بستی تھی، جس میں مہاجرین و انصار کی مٹھی بھر جماعت اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھی اور اس کا مقابلہ صرف عرب کے سب سے طاقتور قبیلے قریش کے ساتھ نہیں تھا بلکہ پورے عرب کے کفار و مشرکین اور یہود کے ساتھ تھا۔ اس حالت میں فرمایا کہ ہمت ہار کر دشمنوں سے صلح کی درخواست مت کرو، بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ بدر و احد اور خندق میں تعداد کی کمی، بے حد کمزوری اور بے سرو سامانی کے باوجود مسلمانوں نے نہ ہمت ہاری، نہ کمزوری دکھائی، نہ صلح کی پیش کش کی، بلکہ ڈٹ کر لڑے، یہاں تک کہ جب جنگِ خندق کی گرد چھٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ وَلَا يَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِيْرُ إِلَيْهِمْ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۰] ”اب ہم ان پر حملے کے لیے جائیں گے، وہ ہم پر حملے کے لیے نہیں آئیں گے، ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔“ طالوت و جالوت کی جنگ بھی اس کی واضح مثال ہے۔“
➌ {” فَلَا تَهِنُوْا “} کے بعد {” تَدْعُوْۤا “} بھی نہی کے اس {”لَا‘} ‘ کی وجہ سے مجزوم ہے جو {” تَهِنُوْا “} پر آیا ہے اور اسی کی وجہ سے اس سے نون اعرابی گرا ہے، کیونکہ یہ اصل میں {” تَدْعُوْنَ“} تھا، لائے نہی کی وجہ سے نون گر گیا تو {” تَدْعُوْۤا “} رہ گیا۔ گویا اصل کلام {”فَلاَ تَهِنُوْا وَلاَ تَدْعُوْا إِلَي السَّلْمِ “} ہے، واؤ عطف کی وجہ سے {”لَا“} کو دوبارہ لانے کی ضرورت نہ رہی، اس لیے ترجمہ ہو گا: ”پس تم نہ کمزور بنو (نہ ہمت ہارو) اور نہ صلح کی طرف دعوت دو۔“ اس کی ایک مثال یہ آیت ہے: «وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» [البقرۃ: ۴۲]”اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، جب کہ تم جانتے ہو۔ “مطلب یہ ہے کہ دشمن سے جنگ میں ہمت نہ ہارو اور نہ ان کا خوف تم پر مسلط ہو بلکہ صبر کرو، ثابت قدم رہو، اپنے آپ کو لڑائی اور مقابلے پر جمائے رکھو اور صلح اور جنگ بندی کے سمجھوتے کی دعوت مت دو۔
➍ {وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ …: ” وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ “ ”وَتَرَ يَتِرُ“ ({وَعَدَ يَعِدُ}) وَتْرًا وَ تِرَةً “} کسی کا حق مارنا، اس میں کمی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمت نہ ہارنے اور دشمن کو صلح کی دعوت نہ دینے کی تین وجہیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے پہلی وجہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم نے ہمت نہ ہاری تو تم ہی غالب رہو گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [آل عمران: ۱۳۹] ”اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔ “ دوسری وجہ {” وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ “} ہے کہ اللہ تمھارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمت ہارے اور صلح کی پیش کش کرے۔ اسی حوصلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارِ مکہ کے مقابلے میں اس وقت بھی ہمت نہیں ہاری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو میں سے دوسرے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [التوبۃ: ۴۰] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ تیسری وجہ {” وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ “} ہے کہ وہ ہر گز تم سے تمھارے اعمال کم نہیں کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جہاد میں تم جو عمل بھی سرانجام دو گے تمھیں اس کا پورا پورا اجر ملے گا، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ تمھارے اور تمھارے دشمن کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے کہ تمھیں اس پر اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب، شہادت اور جنت کی امید ہے جب کہ کفار اس سے محروم ہیں۔ پھر ہمت ہارنے یا صلح کی پیش کش کا کیا مطلب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ يَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ» [النساء: ۱۰۴] ”اور اس قوم کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو یقینا وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، جیسے تم تکلیف اٹھاتے ہو اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ امید نہیں رکھتے۔ “ اور فرمایا: «مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (120) وَ لَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً وَّ لَا يَقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [التوبۃ: ۱۲۰، ۱۲۱] ”مدینہ والوں کا اور ان کے ارد گرد جو بدوی ہیں، ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے۔ یہ اس لیے کہ وہ، اللہ کے راستے میں انھیں نہ کوئی پیاس پہنچتی ہے اور نہ کوئی تکان اور نہ کوئی بھوک اور نہ کسی ایسی جگہ پر قدم رکھتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ کسی دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور نہ وہ خرچ کرتے ہیں کوئی چھوٹا خرچ اور نہ کوئی بڑا اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہیں، مگر وہ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے، تاکہ اللہ انھیں اس عمل کی بہترین جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “
➎ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دشمن کو صلح کی دعوت دینے سے منع فرمایا ہے، جبکہ دوسری جگہ فرمایا: «وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [الأنفال: ۶۱] ”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہو جا اور اللہ پر بھروسا کر۔“ ان دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمت ہار کر دشمن کو صلح کی پیش کش کرنے سے منع فرمایا ہے اور اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو اس کی طرف مائل ہو جانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ پیش کش دشمن کی طرف سے ہے۔
➏ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ”پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا: «فَلَا تَهِنُوْا» یعنی دشمن کے مقابلے میں کمزور مت بنو اور: «وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ» یعنی کفار کو صلح کی اور ایک دوسرے سے جنگ ترک کرنے کی دعوت مت دو، اس حال میں کہ تمھاری قوت، تعداد اور تیاری دشمن سے زیادہ ہو۔ اسی لیے فرمایا: «فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ» یعنی دشمن پر تمھارے غلبے کی حالت میں انھیں صلح کی دعوت مت دو۔ لیکن جب کفار تمام مسلمانوں کے مقابلے میں قوت و کثرت میں زیادہ ہوں اور امام صلح اور جنگ بندی میں مصلحت دیکھے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا جب کفارِ قریش نے آپ کو مکہ جانے سے روک دیا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح کی اور آپس میں دس سال تک جنگ ختم کرنے کی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دعوت قبول فرمائی۔“ (ابن کثیر) مفسر شنقیطی نے اضواء البیان میں وہ تفسیر جو پہلے ذکر ہوئی ہے، بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”یہ معنی جو ہم نے اس آیت کا بیان کیا ہے اس تفسیر سے بہتر اور زیادہ درست ہے جو ابن کثیر نے کی ہے کہ اس وقت صلح اور سمجھوتے کی دعوت مت دو جب تم غالب ہو، یعنی تم جہاد کی قوت و طاقت رکھتے ہو۔ یعنی اگر تم کمزور ہو اور طاقت نہیں رکھتے تو اس بات سے کوئی مانع نہیں کہ تم صلح اور سمجھوتے کی دعوت دو۔“
شنقیطی کے ابنِ کثیر سے اتفاق نہ کرنے کی کئی وجہیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابن کثیر نے صرف {” وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ “} کو حال بنایا ہے، حالانکہ یہاں تین چیزیں بیان ہوئی ہیں: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ» دوسری یہ ہے کہ حدیبیہ کے زمانے میں مسلمان قوت میں کفار پر غالب تھے، جیسا کہ پیچھے صحیح بخاری کی حدیث {” اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ“} گزری۔ آپ نے انھیں صلح کی پیش کش اپنے کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں کی تھی، ورنہ آپ اس سے بہت پہلے بدر و احد اور خندق میں صلح کی پیش کش کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انھیں صلح کی پیش کش کا مطلب یہ تھا کہ آپس کے میل جول سے اسلام کی تعلیم پھیلے گی تو یہ لوگ اسلام لے آئیں گے۔ کفار پہلے لڑائی پر آمادہ تھے مگر جب انھوں نے بیعتِ رضوان کے متعلق سنا تو ڈر گئے اور صلح پر آمادہ ہو گئے، جیسا کہ صحیح بخاری کی مفصل حدیث میں ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ابن کثیر نے فرمایا کہ صلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی۔ اگر ایسا ہو تو پھر یہ واقعہ اس مقصد کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمان کمزور ہوں تو ان کا امام صلح کی دعوت دے سکتا ہے، کیونکہ ابنِ کثیر کے اس قول کے مطابق توصلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اسے قبول فرمایا تھا، حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صلح کا پیغام بھیجا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی {”كِتَابُ الشُّرُوْطِ، بَابُ الشُّرُوْطِ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ وَ كِتَابَةِ الشُّرُوْطِ“} کی حدیث (۲۷۳۱،۲۷۳۲)۔
➐ یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ”تم صلح کے لیے دعوت مت دو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر صلح کی دعوت کیوں دی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ صلح کی دعوت دینے کی ممانعت اس وقت ہے جب مسلمان ہمت ہارتے ہوئے اور بزدلی اور کمینگی اختیار کرتے ہوئے صلح کی دعوت دیں، جیسا کہ {” فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ “} (پس ہمت نہ ہارو اور نہ صلح کی طرف دعوت دو) کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ حدیبیہ کی صلح کی دعوت دشمن کی طاقت توڑنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مبین قرار دیا، جیسا کہ آگے سورئہ فتح میں آ رہا ہے۔ بھلا جو صلح دشمن کے غالب اور مسلمانوں کے مغلوب ہونے کی صورت میں کی جائے اسے فتح مبین کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا کرنا فتح مبین ہوتا تو یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر و احد سے بہت پہلے کر لیتے۔ پھر نہ ہجرت کی نوبت آتی، نہ جنگیں لڑنا پڑتیں اور نہ ہی اتنی شہادتیں ہوتیں، مگر یاد رکھیں! پھر مشرق سے مغرب تک اسلام کا پھر یرا بھی نہیں لہرا سکتا تھا۔
➑ ان آیات میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے جو میدانِ قتال میں اتر چکے ہیں، جو مسلمان کفار کے نرغے سے نکل ہی نہ سکیں کہ ہجرت کے بعد جہاد کر سکیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں مستضعفین کہہ کر معذور قرار دیا ہے۔ (دیکھیے نساء: ۹۷ تا ۹۹) اور ایسے مستضعفین کو آزادی دلانے کے لیے تمام مسلمانوں کو لڑنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیے سورئہ نساء (۷۵)۔
➋ { فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ:} منافقین چونکہ بزدلی اور موت کے خوف کی وجہ سے جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اس لیے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے، وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے رہتے تھے کہ جنگ کے بجائے صلح سے معاملات طے کرنے چاہییں۔ حالانکہ ان کی صلح جوئی کے پیچھے ان کی بے ہمتی، بزدلی اور کمزوری کے سوا کچھ نہیں تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی راہ اختیار کرنے سے منع فرما دیا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ آیات اس زمانے میں نازل ہوئیں جب مدینہ ایک چھوٹی سی بستی تھی، جس میں مہاجرین و انصار کی مٹھی بھر جماعت اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھی اور اس کا مقابلہ صرف عرب کے سب سے طاقتور قبیلے قریش کے ساتھ نہیں تھا بلکہ پورے عرب کے کفار و مشرکین اور یہود کے ساتھ تھا۔ اس حالت میں فرمایا کہ ہمت ہار کر دشمنوں سے صلح کی درخواست مت کرو، بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ بدر و احد اور خندق میں تعداد کی کمی، بے حد کمزوری اور بے سرو سامانی کے باوجود مسلمانوں نے نہ ہمت ہاری، نہ کمزوری دکھائی، نہ صلح کی پیش کش کی، بلکہ ڈٹ کر لڑے، یہاں تک کہ جب جنگِ خندق کی گرد چھٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ وَلَا يَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِيْرُ إِلَيْهِمْ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۰] ”اب ہم ان پر حملے کے لیے جائیں گے، وہ ہم پر حملے کے لیے نہیں آئیں گے، ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔“ طالوت و جالوت کی جنگ بھی اس کی واضح مثال ہے۔“
➌ {” فَلَا تَهِنُوْا “} کے بعد {” تَدْعُوْۤا “} بھی نہی کے اس {”لَا‘} ‘ کی وجہ سے مجزوم ہے جو {” تَهِنُوْا “} پر آیا ہے اور اسی کی وجہ سے اس سے نون اعرابی گرا ہے، کیونکہ یہ اصل میں {” تَدْعُوْنَ“} تھا، لائے نہی کی وجہ سے نون گر گیا تو {” تَدْعُوْۤا “} رہ گیا۔ گویا اصل کلام {”فَلاَ تَهِنُوْا وَلاَ تَدْعُوْا إِلَي السَّلْمِ “} ہے، واؤ عطف کی وجہ سے {”لَا“} کو دوبارہ لانے کی ضرورت نہ رہی، اس لیے ترجمہ ہو گا: ”پس تم نہ کمزور بنو (نہ ہمت ہارو) اور نہ صلح کی طرف دعوت دو۔“ اس کی ایک مثال یہ آیت ہے: «وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» [البقرۃ: ۴۲]”اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، جب کہ تم جانتے ہو۔ “مطلب یہ ہے کہ دشمن سے جنگ میں ہمت نہ ہارو اور نہ ان کا خوف تم پر مسلط ہو بلکہ صبر کرو، ثابت قدم رہو، اپنے آپ کو لڑائی اور مقابلے پر جمائے رکھو اور صلح اور جنگ بندی کے سمجھوتے کی دعوت مت دو۔
➍ {وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ …: ” وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ “ ”وَتَرَ يَتِرُ“ ({وَعَدَ يَعِدُ}) وَتْرًا وَ تِرَةً “} کسی کا حق مارنا، اس میں کمی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمت نہ ہارنے اور دشمن کو صلح کی دعوت نہ دینے کی تین وجہیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے پہلی وجہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم نے ہمت نہ ہاری تو تم ہی غالب رہو گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [آل عمران: ۱۳۹] ”اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔ “ دوسری وجہ {” وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ “} ہے کہ اللہ تمھارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمت ہارے اور صلح کی پیش کش کرے۔ اسی حوصلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارِ مکہ کے مقابلے میں اس وقت بھی ہمت نہیں ہاری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو میں سے دوسرے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [التوبۃ: ۴۰] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ تیسری وجہ {” وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ “} ہے کہ وہ ہر گز تم سے تمھارے اعمال کم نہیں کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جہاد میں تم جو عمل بھی سرانجام دو گے تمھیں اس کا پورا پورا اجر ملے گا، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ تمھارے اور تمھارے دشمن کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے کہ تمھیں اس پر اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب، شہادت اور جنت کی امید ہے جب کہ کفار اس سے محروم ہیں۔ پھر ہمت ہارنے یا صلح کی پیش کش کا کیا مطلب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ يَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ» [النساء: ۱۰۴] ”اور اس قوم کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو یقینا وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، جیسے تم تکلیف اٹھاتے ہو اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ امید نہیں رکھتے۔ “ اور فرمایا: «مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (120) وَ لَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً وَّ لَا يَقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [التوبۃ: ۱۲۰، ۱۲۱] ”مدینہ والوں کا اور ان کے ارد گرد جو بدوی ہیں، ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے۔ یہ اس لیے کہ وہ، اللہ کے راستے میں انھیں نہ کوئی پیاس پہنچتی ہے اور نہ کوئی تکان اور نہ کوئی بھوک اور نہ کسی ایسی جگہ پر قدم رکھتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ کسی دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور نہ وہ خرچ کرتے ہیں کوئی چھوٹا خرچ اور نہ کوئی بڑا اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہیں، مگر وہ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے، تاکہ اللہ انھیں اس عمل کی بہترین جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “
➎ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دشمن کو صلح کی دعوت دینے سے منع فرمایا ہے، جبکہ دوسری جگہ فرمایا: «وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [الأنفال: ۶۱] ”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہو جا اور اللہ پر بھروسا کر۔“ ان دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمت ہار کر دشمن کو صلح کی پیش کش کرنے سے منع فرمایا ہے اور اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو اس کی طرف مائل ہو جانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ پیش کش دشمن کی طرف سے ہے۔
➏ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ”پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا: «فَلَا تَهِنُوْا» یعنی دشمن کے مقابلے میں کمزور مت بنو اور: «وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ» یعنی کفار کو صلح کی اور ایک دوسرے سے جنگ ترک کرنے کی دعوت مت دو، اس حال میں کہ تمھاری قوت، تعداد اور تیاری دشمن سے زیادہ ہو۔ اسی لیے فرمایا: «فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ» یعنی دشمن پر تمھارے غلبے کی حالت میں انھیں صلح کی دعوت مت دو۔ لیکن جب کفار تمام مسلمانوں کے مقابلے میں قوت و کثرت میں زیادہ ہوں اور امام صلح اور جنگ بندی میں مصلحت دیکھے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا جب کفارِ قریش نے آپ کو مکہ جانے سے روک دیا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح کی اور آپس میں دس سال تک جنگ ختم کرنے کی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دعوت قبول فرمائی۔“ (ابن کثیر) مفسر شنقیطی نے اضواء البیان میں وہ تفسیر جو پہلے ذکر ہوئی ہے، بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”یہ معنی جو ہم نے اس آیت کا بیان کیا ہے اس تفسیر سے بہتر اور زیادہ درست ہے جو ابن کثیر نے کی ہے کہ اس وقت صلح اور سمجھوتے کی دعوت مت دو جب تم غالب ہو، یعنی تم جہاد کی قوت و طاقت رکھتے ہو۔ یعنی اگر تم کمزور ہو اور طاقت نہیں رکھتے تو اس بات سے کوئی مانع نہیں کہ تم صلح اور سمجھوتے کی دعوت دو۔“
شنقیطی کے ابنِ کثیر سے اتفاق نہ کرنے کی کئی وجہیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابن کثیر نے صرف {” وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ “} کو حال بنایا ہے، حالانکہ یہاں تین چیزیں بیان ہوئی ہیں: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ يَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ» دوسری یہ ہے کہ حدیبیہ کے زمانے میں مسلمان قوت میں کفار پر غالب تھے، جیسا کہ پیچھے صحیح بخاری کی حدیث {” اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ“} گزری۔ آپ نے انھیں صلح کی پیش کش اپنے کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں کی تھی، ورنہ آپ اس سے بہت پہلے بدر و احد اور خندق میں صلح کی پیش کش کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انھیں صلح کی پیش کش کا مطلب یہ تھا کہ آپس کے میل جول سے اسلام کی تعلیم پھیلے گی تو یہ لوگ اسلام لے آئیں گے۔ کفار پہلے لڑائی پر آمادہ تھے مگر جب انھوں نے بیعتِ رضوان کے متعلق سنا تو ڈر گئے اور صلح پر آمادہ ہو گئے، جیسا کہ صحیح بخاری کی مفصل حدیث میں ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ابن کثیر نے فرمایا کہ صلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی۔ اگر ایسا ہو تو پھر یہ واقعہ اس مقصد کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمان کمزور ہوں تو ان کا امام صلح کی دعوت دے سکتا ہے، کیونکہ ابنِ کثیر کے اس قول کے مطابق توصلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اسے قبول فرمایا تھا، حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صلح کا پیغام بھیجا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی {”كِتَابُ الشُّرُوْطِ، بَابُ الشُّرُوْطِ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ وَ كِتَابَةِ الشُّرُوْطِ“} کی حدیث (۲۷۳۱،۲۷۳۲)۔
➐ یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ”تم صلح کے لیے دعوت مت دو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر صلح کی دعوت کیوں دی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ صلح کی دعوت دینے کی ممانعت اس وقت ہے جب مسلمان ہمت ہارتے ہوئے اور بزدلی اور کمینگی اختیار کرتے ہوئے صلح کی دعوت دیں، جیسا کہ {” فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ “} (پس ہمت نہ ہارو اور نہ صلح کی طرف دعوت دو) کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ حدیبیہ کی صلح کی دعوت دشمن کی طاقت توڑنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مبین قرار دیا، جیسا کہ آگے سورئہ فتح میں آ رہا ہے۔ بھلا جو صلح دشمن کے غالب اور مسلمانوں کے مغلوب ہونے کی صورت میں کی جائے اسے فتح مبین کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا کرنا فتح مبین ہوتا تو یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر و احد سے بہت پہلے کر لیتے۔ پھر نہ ہجرت کی نوبت آتی، نہ جنگیں لڑنا پڑتیں اور نہ ہی اتنی شہادتیں ہوتیں، مگر یاد رکھیں! پھر مشرق سے مغرب تک اسلام کا پھر یرا بھی نہیں لہرا سکتا تھا۔
➑ ان آیات میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے جو میدانِ قتال میں اتر چکے ہیں، جو مسلمان کفار کے نرغے سے نکل ہی نہ سکیں کہ ہجرت کے بعد جہاد کر سکیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں مستضعفین کہہ کر معذور قرار دیا ہے۔ (دیکھیے نساء: ۹۷ تا ۹۹) اور ایسے مستضعفین کو آزادی دلانے کے لیے تمام مسلمانوں کو لڑنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیے سورئہ نساء (۷۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جب تم تعداد اور قوت وطاقت کے اعتبار سے دشمن پر غالب اور فائق تر ہو تو ایسی صورت میں کفار کے ساتھ صلح اور کمزوری کا مظاہرہ مت کرو بلکہ کفر پر ایسی کاری ضرب لگاؤ کہ اللہ کا دین سر بلند ہوجائے غالب و برتر ہوتے ہوئے کفر کے ساتھ مصالحت کا مطلب کفر کے اثر ونفوذ کے بڑھانے میں مدد دینا ہے یہ ایک بڑا جرم ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافروں کے ساتھ صلح کرنے کی اجازت نہیں ہے یہ اجازت یقینا ہے لیکن ہر وقت نہیں صرف اس وقت ہے جب مسلمان تعداد میں کم اور وسائل کے لحاظ سے فروتر ہوں ایسے حالات میں لڑائی کی بہ نسبت صلح میں زیادہ فائدہ ہے تاکہ مسلمان اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر بھرپور تیاری کرلیں جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ سے جنگ نہ کرنے کا دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔ 35۔ 2 اس میں مسلمانوں کے لئے دشمن پر فتح و نصرت کی عظیم بشارت ہے۔ جس کے ساتھ اللہ ہو، اس کو کون شکست دے سکتا ہے۔ 35۔ 2 بلکہ وہ اس پر پورا اجر دے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ پس تم سستی نہ دکھاؤ اور نہ (دشمن سے) صلح کی درخواست [39] کرو۔ تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال [40] سے کچھ بھی کمی نہ کرے گا
[39] دشمن سے صلح یا سمجھوتہ کی درخواست نہ کی جائے :۔
یعنی جب تم دشمن سے بھڑ جاؤ تو پھر سستی کا ہرگز مظاہرہ نہ کرو بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دو۔ اور نہ ہی کافروں سے صلح اور سمجھوتہ کی درخواست کرو جس سے تمہاری کمزوری ان پر عیاں ہو جائے اور وہ تو تمہیں مزید دباتے چلے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں۔ جب مدینہ کی ریاست نئی نئی وجود میں آئی تھی۔ ایک سو کے لگ بھگ مہاجر اور کچھ انصار تھے اور ان کے جنگی جوانوں کی تعداد ایک ہزار تک بھی بمشکل پہنچی تھی۔ سامان جنگ کی فراوانی تو درکنار ان کی معاشی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی۔ دوسری طرف صرف قریش مکہ ہی نہیں سارا عرب ہی مسلمانوں کی مخالفت پر اتر آیا تھا اور اس ریاست کو اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دینا چاہتا تھا۔ ان حالات میں یہ ہدایت دی گئی کہ میدان جنگ میں نہ اپنی کمزوری دکھاؤ اور نہ ہی اپنے آپ کو کمزور سمجھتے ہوئے دشمن سے صلح کی درخواست کرو۔ ہاں اگر دشمن سے اپنی طاقت کا لوہا منوا لو تو وہ خود مسلمانوں سے صلح کی درخواست کریں تو اس صورت میں آپ ان کی صلح کی درخواست کو قبول فرما لیجئے۔ جیسا کہ سورۃ انفال کی آیت نمبر 61 میں اس کی صراحت موجود ہے۔
[40] غلبہ سے مراد سیاسی غلبہ ہی نہیں بلکہ دلیل وحجت کا غلبہ بھی ہے :۔
اگر تم سستی نہ دکھاؤ گے اور پامردی اور استقلال سے جہاد کرو گے تو یقیناً تم ہی غالب رہو گے کیونکہ اس صورت میں اللہ تمہاری مدد پر موجود ہے۔ تم نے جہاد کے سلسلہ میں جو خرچ کیا ہو گا یا جو محنت و مشقت اٹھائی ہو گی اللہ اس کا تمہیں پورا پورا اجر عطا کر دے گا۔ اور یہ جو فرمایا کہ تم ہی غالب رہو گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہر جنگ میں اور ہر حال میں غالب ہی رہو گے۔ جیسا کہ مسلمانوں کو جنگ احد میں اور جنگ حنین میں ان کی اپنی ہی غلطی کی وجہ سے عارضی طور پر شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بالآخر تم ہی غالب رہو گے۔ چنانچہ اللہ نے مسلمانوں سے اپنا یہ وعدہ پورا کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی سارے عرب میں کفر و شرک کا زور ختم ہو گیا اور مسلمان اور اسلام ہی غالب آئے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ غلبہ سے مراد ضروری نہیں کہ سیاسی غلبہ ہی لیا جائے۔ علمی غلبہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ یعنی دلیل و حجت کے لحاظ سے کفر کے تمام مذاہب پر غالب رہو گے اور مسلمان اللہ کے فضل سے آج تک دلیل و حجت کے میدان میں کسی دوسرے مذہب والے سے مغلوب نہیں ہوئے۔ تاہم پہلا مطلب ہی ربط مضمون سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔