ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 3

ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَہُمۡ ﴿۳﴾
یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے وہ اپنے رب کی طرف سے حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کے حالات بیان کرتا ہے۔ En
یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اس لئے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح خدا لوگوں سے ان کے حالات بیان فرماتا ہے
En
یہ اس لئے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مومنوں نے اس دین حق کی اتباع کی جو ان کے اللہ کی طرف سے ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے احوال اسی طرح بتاتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ …:} یعنی کفار کے اعمال برباد کرنے اور ایمان والوں کے گناہ دور کرنے اور ان کا حال درست کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کفار نے باطل کی پیروی اختیار کی اور اس کے پیچھے چل پڑے، جبکہ ایمان والے اس حق پر چلتے رہے جو ان کا اپنا طے کردہ نہیں تھا، بلکہ ان کے رب کی طرف سے نازل کیا ہوا تھا۔ دونوں کے راستے مختلف تھے، اس لیے ان کا انجام بھی مختلف ہوا۔
➋ { كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ: أَمْثَالٌ مَثَلٌ} کی جمع ہے، اس کا معنی مثال بھی ہے اور کسی چیز کا حال اور وصف بھی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، فرمایا: «مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» ‏‏‏‏ [محمد: ۱۵] اس جنت کا حال اور وصف جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے ہی سب لوگوں کے احوال بیان فرماتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 ذلک یہ مبتدا ہے یا خبر ہے مبتدا محذوف کی ای الامر ذلک یہ اشارہ ہے ان وعیدوں کی طرف جو کافروں اور مومنوں کے لیے بیان ہوئے۔ 3۔ 2 تاکہ لوگ اس انجام سے بچیں جو کافروں کا مقدر ہے اور وہ راہ حق اپنائیں جس پر چل کر ایمان والے فلاح ابدی سے ہمکنار ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ یہ اس لئے کہ کافروں نے تو باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے پروردگار کی طرف سے (نازل ہوا) اسی طرح اللہ لوگوں سے ان کی ٹھیک ٹھیک [4] حالت بیان کر دیتا ہے۔
[4] کفار کی نیکیاں برباد گناہ لازم جبکہ مومنوں کی حالت ان کے بالکل برعکس ہے :۔
اللہ تعالیٰ حق کی پیروی کرنے والوں اور باطل کی پیروی کرنے والوں کی ٹھیک ٹھاک مثالیں بیان کرتا ہے۔ حق کی پیروی کرنے والوں کی صورت حال یہ ہو گی کہ ان کی نیکیاں برقرار رہیں گی اور گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ اور باطل کی پیروی کرنے والوں کی صورت حال یہ ہو گی کہ ان کی نیکیاں برباد اور گناہ لازم و برقرار رہیں گے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل قبول نہیں ہوتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الْحَقَّانھوں نے حق کی اتباع کی جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنْ رَّبِّهِمْ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔
چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ (الانفال:8؍42) تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والسبب في ذلك أنهم اتَّبعوا الحقَّ الذي هو الصدق واليقين وما اشتمل عليه هذا القرآن العظيم الصادر من ربهم الذي ربَّاهم بنعمته ودبَّرهم بلطفه، فربَّاهم تعالى بالحقِّ، فاتَّبعوه، فصلحت أمورُهم، فلمَّا كانت الغايةُ المقصودة لهم متعلقةً بالحقِّ المنسوب إلى الله الباقي الحقِّ المبين؛ كانت الوسيلة صالحةً باقيةً، باقٍ ثوابها. {كذلك يضرِبُ الله للناس أمثالَهم}؛ حيث بيَّن لهم تعالى أهل الخير وأهل الشرِّ، وذكر لكلٍّ منهم صفةً يُعرفَون بها ويتميَّزون؛ لِيَهْلِكَ من هَلَكَ عن بيِّنة ويحيا من حَيَّ عن بينةٍ.