(آیت 23){ اُولٰٓىِٕكَالَّذِيْنَلَعَنَهُمُاللّٰهُ …:} یعنی یہ لوگ جو قریب تھے کہ حکومت میں آ جائیں تو اندھے بہرے ہو کر ظلم و فساد پھیلائیں اور قطع رحمی کرنے لگیں، یا قریب تھے کہ اطاعت اور جہاد سے منہ موڑیں تو زمین میں فساد پھیلائیں اور رشتہ داریوں کو بری طرح قطع کر دیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور انھیں ایسا بہرا، اندھا اور سنگ دل بنا دیا کہ وہ جہاد کی برکات سمجھ ہی نہ سکے کہ اس کی بدولت مسلمانوں کی پریشانیاں اور مصیبتیں ختم ہوتی ہیں، انھیں عزت اور سربلندی ملتی ہے، فتنہ و فساد اور شرک و کفر ختم ہوتا ہے اور زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ذٰلِكَبِاَنَّهُمْاٰمَنُوْاثُمَّكَفَرُوْافَطُبِعَعَلٰىقُلُوْبِهِمْفَهُمْلَايَفْقَهُوْنَ» [المنافقون: ۳]”یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کے کانوں کو اللہ نے (حق کے سننے سے) بہرہ اور آنکھوں کو (حق کے دیکھنے سے) اندھا کردیا ہے۔ یہ نتیجہ ہے انکے مذکورہ اعمال کا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، انہیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا [27] کر دیا۔
[27] جہاد کی برکات :۔
یعنی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ جہاد بھی ان کے لیے سراسر خیر و برکت ہے۔ جب تک جہاد نہ کیا جائے گا۔ کبھی کفر اسلام کو جینے اور پھلنے پھولنے نہیں دے گا بلکہ اس کی تو یہ کوشش ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینک دیا جائے۔ جہاد سے ہی مسلمانوں کی پریشانیوں اور مصائب کا دور ختم ہو گا۔ فتنہ و فساد کا قلع قمع ہو گا۔ اللہ کا دین سربلند ہو گا۔ توحید پھیلے گی، شرک کا خاتمہ ہو گا اور یہ ملک امن و چین کا گہوارہ بن جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔