وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ حَتّٰۤی اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۟ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۶﴾
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنھیں علم دیا گیا ہے، کہتے ہیں ابھی اس نے کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے۔
En
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں
En
اور ان میں بعض (ایسے بھی ہیں کہ) تیری طرف کان لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم سے (بوجہ کند ذہنی وﻻپرواہی کے) پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وه اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 16) ➊ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ:} مشرکین اور ان کے انجامِ بد کے ذکر کے بعد اہل کتاب کفار اور کفار کی بدترین قسم منافقین کا ذکر فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے، آپ کی باتیں کان لگا کر سنتے، مگر ماننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی مفید مطلب باتیں ڈھونڈنے کے لیے، جن کے ساتھ وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرتے۔ چونکہ ان کے دل و دماغ پر کفر حاوی تھا، قیامت پر ایمان وہ نہیں رکھتے تھے، اس لیے ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اجنبی تھیں، ان کے دل میں وہ مفہوم بیٹھتا ہی نہیں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہوتا تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص ان کے خیال میں موہوم آخرت کے لیے اپنی دنیا کا نقصان بھی کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کی ساری تگ و دو ہی دنیا کے لیے ہو وہ پیغمبروں کی بات سمجھ ہی نہیں سکتا، جیسا کہ شعیب علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا: «يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ» [ھود: ۹۱] ”اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے۔“
➋ {حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ …: ” اُوْتُوا الْعِلْمَ “} سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی ذات و صفات، اپنے پیغمبروں، اپنی کتابوں، اپنے فرشتوں، یوم آخرت اور تقدیر کے علم اور ان سب پر ایمان کی روشنی عطا فرما رکھی تھی۔ یعنی جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے نکلتے ہیں تو آپ کی باتوں کی تحقیر کرتے ہوئے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے علم و ایمان سے آراستہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا کہ ابھی ابھی اس نے کیا کہا ہے، کیا آپ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آیا ہے؟
➌ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ:} فرمایا ان کے نہ سمجھنے کی دو وجہیں ہیں، ایک تو یہ کہ ان کے کفر پر اصرار اور عناد کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اس لیے وہ سمجھ سکتے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا» [النساء: ۱۵۵] ”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کر دی تو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم۔ “
➍ {وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ:} یہ نہ سمجھنے کی دوسری وجہ ہے کہ وہ کوئی عقلی دلیل سننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ صرف وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کی خواہش کے مطابق ہوں اور مرضی کے خلاف وہ کوئی پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب کسی کی یہ حالت ہو جائے تو فی الواقع اس کی خواہش کے خلاف کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی، نہ ہی وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے، خواہ وہ کتنی اچھی ہو۔
➋ {حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ …: ” اُوْتُوا الْعِلْمَ “} سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی ذات و صفات، اپنے پیغمبروں، اپنی کتابوں، اپنے فرشتوں، یوم آخرت اور تقدیر کے علم اور ان سب پر ایمان کی روشنی عطا فرما رکھی تھی۔ یعنی جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے نکلتے ہیں تو آپ کی باتوں کی تحقیر کرتے ہوئے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے علم و ایمان سے آراستہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا کہ ابھی ابھی اس نے کیا کہا ہے، کیا آپ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آیا ہے؟
➌ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ:} فرمایا ان کے نہ سمجھنے کی دو وجہیں ہیں، ایک تو یہ کہ ان کے کفر پر اصرار اور عناد کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اس لیے وہ سمجھ سکتے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا» [النساء: ۱۵۵] ”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کر دی تو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم۔ “
➍ {وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ:} یہ نہ سمجھنے کی دوسری وجہ ہے کہ وہ کوئی عقلی دلیل سننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ صرف وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کی خواہش کے مطابق ہوں اور مرضی کے خلاف وہ کوئی پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب کسی کی یہ حالت ہو جائے تو فی الواقع اس کی خواہش کے خلاف کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی، نہ ہی وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے، خواہ وہ کتنی اچھی ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
1 6 ۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی اسلیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آ کر صحابہ ؓ سے پوچھتے کہ آپ نے کیا فرمایا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں (یعنی منافقین) جو آپ کی بات کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جب تمہارے ہاں سے باہر جاتے ہیں تو ان لوگوں سے، جنہیں علم دیا گیا ہے، پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اس (نبی) نے کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں، جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی [19] خواہشوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں
[19] یعنی منافقین آپ کی مجلس میں آتے تو آپ کی باتوں کو اس لیے کان لگا کر سنتے تھے کہ کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے جس سے نبی کی اس تعلیم کو مشکوک بنایا جا سکے۔ پھر وہ یہی باتیں جا کر بعض علمائے یہود یا بعض مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی اس نبی نے کیا بات کہی تھی اور اس سے ان کا مقصد یہ ہرگز نہ ہوتا تھا کہ وہ اس سے ہدایت حاصل کریں بلکہ یہ کہ دوسروں کو بھی شک و شبہ میں ڈال دیں۔ یا خود آپ کے ارشادات کا وہ مفہوم لیتے تھے جو آپ کا مقصود نہیں ہوتا تھا۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنی مرضی کے کاموں پر کسی طرح کی پابندی قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ جب کسی کی یہ حالت ہو جائے تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جبکہ اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور کوئی بھی ہدایت کی بات اس کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔
پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔
اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1]، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔
پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» ۱؎ [53-النجم:57،56] ’ یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے ‘۔
اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1]، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] ’ لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں { «نبی التوبہ» ، «نبی الملحمہ» ، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:124]
بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936]
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔
اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔
بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4936]
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] ’ اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ ‘ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔
اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [34-سبأ:52] یعنی ’ اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ ‘ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں ‘، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔
صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2398]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307]
مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346]۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔
ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔
ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:771]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6307]
مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے } ۱؎ [صحیح مسلم:2346]۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔
ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ }۔
ایک اور اثر میں ہے کہ { ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:60] یعنی ’ اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے ‘۔
ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6]، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6]، یعنی ’ زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ‘۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»