تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ: ” اٰسِنٍ “ ”أَسِنَ يَأْسَنُ“} سے اسم فاعل ہے، جس طرح {”أَمِنَ يَأْمَنُ“} سے {”آمِنٌ“} اسم فاعل ہے۔ یہ باب {”ضَرَبَ“} اور {” نَصَرَ“} کے وزن پر بھی آتا ہے: {”أَيْ مُتَغَيَّرُ اللَّوْنِ وَالرِّيْحِ وَالطَّعْمِ“} ”جس کا رنگ، بو اور ذائقہ بدلا ہوا ہو۔“ یعنی جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو ایسا صاف ہے کہ اس کے ذائقے یا رنگ یا بو میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی، بخلاف دنیا کے پانی کے جو کچھ عرصہ گزرنے پر اپنے رنگ، ذائقہ اور بو کی صفائی کھو بیٹھتا ہے، اس پر کائی آ جاتی ہے، گرد و غبار کے ساتھ گندا ہو جاتا ہے اور اس میں پیدا ہونے والے جراثیم اور دوسری چیزیں اسے پینے کے قابل نہیں چھوڑتیں۔
➌ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ:} دنیا میں جانوروں کے تھنوں سے جو دودھ نکلتا ہے اس میں کچھ تو تھنوں کی آلائش کی آمیزش ہو جاتی ہے اور کچھ دوہنے والے کے ہاتھوں اور ماحول کے گرد و غبار کی، پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے، اس کا ذائقہ ترش اور بد مزہ ہو جاتا ہے اور اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے۔ جنت میں دودھ تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ پانی کی طرح چشموں سے رواں ہو گا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا، اس کے ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
➍ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ: ” لَذَّةٍ “ ”لَذٌّ“} کی مؤنث ہے، کیونکہ یہ {” خَمْرٍ “} کی صفت ہے جو مؤنث سماعی ہے۔ {” لَذٌّ“} اور {”لَذِيْذٌ“} دونوں صفت مشبّہ ہیں اور دونوں کا معنی ایک ہے۔ دنیا میں لوگ شراب صرف اس سرور کے لیے پیتے ہیں جو اس کے پینے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اس سرور کی خاطر شراب کی ان تمام قباحتوں کو برداشت کرتے ہیں جو اس میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں کہ وہ نہایت بدبو دار ہوتی ہے، تلخ اور بدذائقہ ہوتی ہے۔ اس کے پینے سے آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے، الٹیاں آتی ہیں اور جب نشہ ٹوٹتا ہے تو سر چکرانا اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کی شراب میں دنیا کی شراب کی کوئی خرابی نہیں ہو گی، نہ درد سر، نہ چکر، نہ بدبو اور نہ ذائقے کی تلخی، بلکہ وہ نہایت لذیذ ہو گی اور فرحت و سرور لائے گی، عقل پر پردہ یا کوئی اور خرابی نہیں لائے گی۔
➎ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى:} دنیا کا شہد مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے، اسے حاصل کرتے وقت مکھیوں اور اس کے بچوں کے کچھ اجزا، موم، گرد و غبار اور تنکے وغیرہ لازماً شامل ہو جاتے ہیں، پھر دیر تک پڑا رہنے سے کھٹا ہو جاتا ہے، اس میں خمیر پیدا ہو جاتا ہے۔ غرض اس کے پوری طرح صاف ہونے اور رہنے کی کوئی صورت ہی نہیں، جب کہ جنت کی نہروں کا شہد مکھیوں کے پیٹ کا مرہونِ منت نہیں بلکہ براہ راست شہد کے سمندر سے نکل کر ہر جنتی کے گھر پہنچتا ہے اور ہمیشہ نہایت صاف شفاف اور ہر قسم کی کدورت سے پاک رہتا ہے۔
صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں: ”اگرچہ جنت میں کھانے پینے، پہننے، برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہو جائے۔ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہو جائے۔“
➏ { وَ لَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ:} پینے کی چیزوں کے بعد کھانے کی چیزوں کا اختصار کے ساتھ ذکر فرمایا اور ان میں سے بھی اناج وغیرہ کے بجائے پھلوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ جنت کے کھانے بھوک مٹانے کے لیے نہیں بلکہ محض لذت کے لیے ہوں گے، فرمایا: «اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى» [طٰہٰ: ۱۱۸] ”بے شک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہو گا اور نہ ننگا ہوگا۔ “ اور لذت میں پھلوں کا مقام سب جانتے ہیں۔
➐ {وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ: ” مَغْفِرَةٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی یا عظیم مغفرت“ ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت یہ ہو گی کہ انھیں عظیم مغفرت سے نوازا جائے گا۔ {”غَفَرَ يَغْفِرُ“} کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے، یعنی جنت میں ان کے گناہوں پر ان کے رب کی طرف سے ایسا عظیم پردہ ڈالا جائے گا کہ ان کا ذکر تک ان کے سامنے نہیں آئے گا کہ وہ کہیں شرمندہ نہ ہوں۔
➑ { كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ:} یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو پچھلی آیت: «اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ» سے سمجھ میں آ رہا ہے: {” أَيْ أَفَمَنْ هُوَ مِنْ أَهْلِ هٰذِهِ الْجَنَّةِ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ“} ”یعنی تو کیا وہ شخص جو ان اوصاف والی جنت والوں میں سے ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے؟“
➒ { وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا:} اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ اس سے پہلے جملے {” كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ “} میں لفظ {”مَنْ“} کے مفرد ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ واحد کا صیغہ {” هُوَ “} استعمال ہوا ہے اور اس جملے میں {”مَنْ“} کے معنی کے عام ہونے کو ملحوظ رکھتے ہوئے جمع کا صیغہ {” سُقُوْا “} استعمال ہوا ہے۔
➓ { فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ: ”قَطَعَ يَقْطَعُ قَطْعًا“} (ف) کاٹنا۔{ ” قَطَّعَ يُقَطِّعُ تَقْطِيْعًا “} (تفعیل) میں مبالغہ ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ {” اَمْعَآءَهُمْ “ ”مِعًي“} کی جمع ہے جو اصل میں {”مِعَيٌ“} بروزن {”عِنَبٌ“} ہے۔ یاء پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے گرا دیا، یاء اور نونِ تنوین دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء کو گرا دیا تو {”مِِعًي“} ہو گیا، جس کا تثنیہ {”مِعَيَانِ“} اور {”مِعَيَيْنِ“} آتا ہے۔ اس جیسا ایک اور لفظ {” آنَاءٌ“} ہے جو {” إِنًي“} کی جمع ہے۔ {” آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ“} ”دن رات کی گھڑیاں۔“ یعنی جہنمیوں کو انتہا درجے کا گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[17] مشروبات کے بعد پھر مختصراً ماکولات کا ذکر فرمایا کہ کھانے کے لیے انہیں ہر طرح کے بہترین اور مزیدار پھل مہیا کئے جائیں گے۔ اور اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہو گی کہ ان کی دنیا کی زندگی کی تمام کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیا جائے گا۔ جو کسی کے ذہن میں نہ آسکیں گی۔ اور ایسی کوتاہیوں کو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
[18] یعنی ایک طرف تو وہ شخص ہے جو جنت کی متذکرہ بالا نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اور دوسری طرف ایسا شخص ہے جو ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جل رہا ہے۔ کھانے کو اسے خاردار اور زہریلا تھوہر کا درخت ملے گا اور پینے کو سخت گرم کھولتا ہوا پانی۔ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [13-الرعد:19] یعنی ’ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے ‘۔
اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] یعنی ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں ‘۔
پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی البعث والنشور:293] «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» ۱؎ [37-الصافات:46] ’ جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے ‘۔
بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:19] ’ جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے ‘۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» ۱؎ [37-الصافات:47] ’ نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے ‘۔
حدیث میں ہے کہ { یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے }۔
حدیث شریف میں ہے کہ { یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں }۔
مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے { یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:316/4:ضعیف]
ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔“
پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» ۱؎ [44-الدخان:55]، یعنی ’ وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:52]، ’ دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں ‘۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔
جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: مثل الجنة التي أعدَّها الله لعباده الذين اتَّقوا سَخَطَه، واتَّبعوا رضوانه؛ أي: نعتها وصفتها الجميلة، {فيها أنهارٌ من ماءٍ غير آسنٍ}؛ أي: غير متغيِّر لا بوخم ولا بريح منتنةٍ ولا بمرارة ولا بكدورةٍ، بل هو أعذب المياه وأصفاها وأطيبها ريحاً وألذّها شرباً، {وأنهار من لبنٍ لم يتغيَّر طعمُه}: بحموضة ولا غيرها، {وأنهار من خمرٍ لَذَّةٍ للشاربين}؛ أي: يلتذُّ بها شاربه لذةً عظيمةً، لا كخمر الدنيا الذي يُكره مذاقُه ويُصَدِّع الرأس ويغوِّلُ العقلَ، {وأنهار من عسل مصفًّى}: من شمعه وسائر أوساخه. {ولهم فيها من كلِّ الثمرات}: من نخيل وعنبٍ وتفاح ورمانٍ وأترجٍّ وتينٍ وغير ذلك ممَّا لا نظير له في الدُّنيا؛ فهذا المحبوبُ المطلوبُ قد حَصَلَ لهم. ثم قال: {ومغفرة من ربِّهم}: يزول بها عنهم المرهوبُ؛ فأيُّ هؤلاء خيرٌ أم {من هو خالدٌ في النار}: التي اشتدَّ حرُّها وتضاعف عذابُها، {وسُقوا}: فيها {ماءً حميماً}؛ أي: حارًّا جدًّا، {فقطَّع أمعاءهم}: فسبحان من فاوت بين الدارين والجزاءين والعاملين والعملين.