مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ فِیۡہَاۤ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍ ۚ وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمۡ یَتَغَیَّرۡ طَعۡمُہٗ ۚ وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ۬ۚ وَ اَنۡہٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّی ؕ وَ لَہُمۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ کَمَنۡ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوۡا مَآءً حَمِیۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَہُمۡ ﴿۱۵﴾
اس جنت کا حال جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں اور کئی نہریں دودھ کی ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلا اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے اور کئی نہریں خوب صاف کیے ہوئے شہد کی ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش ہے۔ (کیا یہ متقی لوگ) ان جیسے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
En
جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا
En
اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 15) ➊ { مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ…: ” مَثَلُ “} کا معنی یہاں حال یا صفت ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو جنتوں میں داخل کرنے کا ذکر فرمایا، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور کفار کا ٹھکانا آگ بیان فرمایا۔ اب اس جنت اور جہنم کا کچھ مزید حال بیان فرمایا، خصوصاً جنت کی نہروں کا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر جنت کے ساتھ اس کی نہروں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس آیت میں جنت کی چار قسم کی نہروں کا ذکر فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ جنت کی تمام نہروں کا سرچشمہ عرش کے نیچے جنت الفردوس ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَسَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ، وَ فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ] [بخاري، التوحید، باب: «و کان عرشہ علی الماء» …: ۷۴۲۳] ”تو جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا افضل اور جنت کا سب سے بلند مقام ہے اور اس سے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔“ اور معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ وَ بَحْرَ الْعَسَلِ وَبَحْرَ اللَّبَنِ وَبَحْرَ الْخَمْرِ ثُمَّ تُشَقَّقُ الْأَنْهَارُ بَعْدُ] [ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ أنھار الجنۃ: ۲۵۷۱، و قال الترمذي و الألباني صحیح] ”جنت میں پانی کا سمندر ہے اور شہد کا سمندر ہے اور دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر بعد میں نہریں پھوٹتی ہیں۔“
➋ { فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ: ” اٰسِنٍ “ ”أَسِنَ يَأْسَنُ“} سے اسم فاعل ہے، جس طرح {”أَمِنَ يَأْمَنُ“} سے {”آمِنٌ“} اسم فاعل ہے۔ یہ باب {”ضَرَبَ“} اور {” نَصَرَ“} کے وزن پر بھی آتا ہے: {”أَيْ مُتَغَيَّرُ اللَّوْنِ وَالرِّيْحِ وَالطَّعْمِ“} ”جس کا رنگ، بو اور ذائقہ بدلا ہوا ہو۔“ یعنی جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو ایسا صاف ہے کہ اس کے ذائقے یا رنگ یا بو میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی، بخلاف دنیا کے پانی کے جو کچھ عرصہ گزرنے پر اپنے رنگ، ذائقہ اور بو کی صفائی کھو بیٹھتا ہے، اس پر کائی آ جاتی ہے، گرد و غبار کے ساتھ گندا ہو جاتا ہے اور اس میں پیدا ہونے والے جراثیم اور دوسری چیزیں اسے پینے کے قابل نہیں چھوڑتیں۔
➌ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ:} دنیا میں جانوروں کے تھنوں سے جو دودھ نکلتا ہے اس میں کچھ تو تھنوں کی آلائش کی آمیزش ہو جاتی ہے اور کچھ دوہنے والے کے ہاتھوں اور ماحول کے گرد و غبار کی، پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے، اس کا ذائقہ ترش اور بد مزہ ہو جاتا ہے اور اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے۔ جنت میں دودھ تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ پانی کی طرح چشموں سے رواں ہو گا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا، اس کے ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
➍ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ: ” لَذَّةٍ “ ”لَذٌّ“} کی مؤنث ہے، کیونکہ یہ {” خَمْرٍ “} کی صفت ہے جو مؤنث سماعی ہے۔ {” لَذٌّ“} اور {”لَذِيْذٌ“} دونوں صفت مشبّہ ہیں اور دونوں کا معنی ایک ہے۔ دنیا میں لوگ شراب صرف اس سرور کے لیے پیتے ہیں جو اس کے پینے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اس سرور کی خاطر شراب کی ان تمام قباحتوں کو برداشت کرتے ہیں جو اس میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں کہ وہ نہایت بدبو دار ہوتی ہے، تلخ اور بدذائقہ ہوتی ہے۔ اس کے پینے سے آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے، الٹیاں آتی ہیں اور جب نشہ ٹوٹتا ہے تو سر چکرانا اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کی شراب میں دنیا کی شراب کی کوئی خرابی نہیں ہو گی، نہ درد سر، نہ چکر، نہ بدبو اور نہ ذائقے کی تلخی، بلکہ وہ نہایت لذیذ ہو گی اور فرحت و سرور لائے گی، عقل پر پردہ یا کوئی اور خرابی نہیں لائے گی۔
➎ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى:} دنیا کا شہد مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے، اسے حاصل کرتے وقت مکھیوں اور اس کے بچوں کے کچھ اجزا، موم، گرد و غبار اور تنکے وغیرہ لازماً شامل ہو جاتے ہیں، پھر دیر تک پڑا رہنے سے کھٹا ہو جاتا ہے، اس میں خمیر پیدا ہو جاتا ہے۔ غرض اس کے پوری طرح صاف ہونے اور رہنے کی کوئی صورت ہی نہیں، جب کہ جنت کی نہروں کا شہد مکھیوں کے پیٹ کا مرہونِ منت نہیں بلکہ براہ راست شہد کے سمندر سے نکل کر ہر جنتی کے گھر پہنچتا ہے اور ہمیشہ نہایت صاف شفاف اور ہر قسم کی کدورت سے پاک رہتا ہے۔
صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں: ”اگرچہ جنت میں کھانے پینے، پہننے، برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہو جائے۔ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہو جائے۔“
➏ { وَ لَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ:} پینے کی چیزوں کے بعد کھانے کی چیزوں کا اختصار کے ساتھ ذکر فرمایا اور ان میں سے بھی اناج وغیرہ کے بجائے پھلوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ جنت کے کھانے بھوک مٹانے کے لیے نہیں بلکہ محض لذت کے لیے ہوں گے، فرمایا: «اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى» [طٰہٰ: ۱۱۸] ”بے شک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہو گا اور نہ ننگا ہوگا۔ “ اور لذت میں پھلوں کا مقام سب جانتے ہیں۔
➐ {وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ: ” مَغْفِرَةٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی یا عظیم مغفرت“ ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت یہ ہو گی کہ انھیں عظیم مغفرت سے نوازا جائے گا۔ {”غَفَرَ يَغْفِرُ“} کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے، یعنی جنت میں ان کے گناہوں پر ان کے رب کی طرف سے ایسا عظیم پردہ ڈالا جائے گا کہ ان کا ذکر تک ان کے سامنے نہیں آئے گا کہ وہ کہیں شرمندہ نہ ہوں۔
➑ { كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ:} یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو پچھلی آیت: «اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ» سے سمجھ میں آ رہا ہے: {” أَيْ أَفَمَنْ هُوَ مِنْ أَهْلِ هٰذِهِ الْجَنَّةِ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ“} ”یعنی تو کیا وہ شخص جو ان اوصاف والی جنت والوں میں سے ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے؟“
➒ { وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا:} اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ اس سے پہلے جملے {” كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ “} میں لفظ {”مَنْ“} کے مفرد ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ واحد کا صیغہ {” هُوَ “} استعمال ہوا ہے اور اس جملے میں {”مَنْ“} کے معنی کے عام ہونے کو ملحوظ رکھتے ہوئے جمع کا صیغہ {” سُقُوْا “} استعمال ہوا ہے۔
➓ { فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ: ”قَطَعَ يَقْطَعُ قَطْعًا“} (ف) کاٹنا۔{ ” قَطَّعَ يُقَطِّعُ تَقْطِيْعًا “} (تفعیل) میں مبالغہ ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ {” اَمْعَآءَهُمْ “ ”مِعًي“} کی جمع ہے جو اصل میں {”مِعَيٌ“} بروزن {”عِنَبٌ“} ہے۔ یاء پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے گرا دیا، یاء اور نونِ تنوین دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء کو گرا دیا تو {”مِِعًي“} ہو گیا، جس کا تثنیہ {”مِعَيَانِ“} اور {”مِعَيَيْنِ“} آتا ہے۔ اس جیسا ایک اور لفظ {” آنَاءٌ“} ہے جو {” إِنًي“} کی جمع ہے۔ {” آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ“} ”دن رات کی گھڑیاں۔“ یعنی جہنمیوں کو انتہا درجے کا گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
➋ { فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ: ” اٰسِنٍ “ ”أَسِنَ يَأْسَنُ“} سے اسم فاعل ہے، جس طرح {”أَمِنَ يَأْمَنُ“} سے {”آمِنٌ“} اسم فاعل ہے۔ یہ باب {”ضَرَبَ“} اور {” نَصَرَ“} کے وزن پر بھی آتا ہے: {”أَيْ مُتَغَيَّرُ اللَّوْنِ وَالرِّيْحِ وَالطَّعْمِ“} ”جس کا رنگ، بو اور ذائقہ بدلا ہوا ہو۔“ یعنی جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو ایسا صاف ہے کہ اس کے ذائقے یا رنگ یا بو میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی، بخلاف دنیا کے پانی کے جو کچھ عرصہ گزرنے پر اپنے رنگ، ذائقہ اور بو کی صفائی کھو بیٹھتا ہے، اس پر کائی آ جاتی ہے، گرد و غبار کے ساتھ گندا ہو جاتا ہے اور اس میں پیدا ہونے والے جراثیم اور دوسری چیزیں اسے پینے کے قابل نہیں چھوڑتیں۔
➌ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ:} دنیا میں جانوروں کے تھنوں سے جو دودھ نکلتا ہے اس میں کچھ تو تھنوں کی آلائش کی آمیزش ہو جاتی ہے اور کچھ دوہنے والے کے ہاتھوں اور ماحول کے گرد و غبار کی، پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے، اس کا ذائقہ ترش اور بد مزہ ہو جاتا ہے اور اس میں سے بدبو آنے لگتی ہے۔ جنت میں دودھ تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ پانی کی طرح چشموں سے رواں ہو گا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا، اس کے ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
➍ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ: ” لَذَّةٍ “ ”لَذٌّ“} کی مؤنث ہے، کیونکہ یہ {” خَمْرٍ “} کی صفت ہے جو مؤنث سماعی ہے۔ {” لَذٌّ“} اور {”لَذِيْذٌ“} دونوں صفت مشبّہ ہیں اور دونوں کا معنی ایک ہے۔ دنیا میں لوگ شراب صرف اس سرور کے لیے پیتے ہیں جو اس کے پینے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اس سرور کی خاطر شراب کی ان تمام قباحتوں کو برداشت کرتے ہیں جو اس میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں کہ وہ نہایت بدبو دار ہوتی ہے، تلخ اور بدذائقہ ہوتی ہے۔ اس کے پینے سے آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے، الٹیاں آتی ہیں اور جب نشہ ٹوٹتا ہے تو سر چکرانا اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کی شراب میں دنیا کی شراب کی کوئی خرابی نہیں ہو گی، نہ درد سر، نہ چکر، نہ بدبو اور نہ ذائقے کی تلخی، بلکہ وہ نہایت لذیذ ہو گی اور فرحت و سرور لائے گی، عقل پر پردہ یا کوئی اور خرابی نہیں لائے گی۔
➎ { وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى:} دنیا کا شہد مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے، اسے حاصل کرتے وقت مکھیوں اور اس کے بچوں کے کچھ اجزا، موم، گرد و غبار اور تنکے وغیرہ لازماً شامل ہو جاتے ہیں، پھر دیر تک پڑا رہنے سے کھٹا ہو جاتا ہے، اس میں خمیر پیدا ہو جاتا ہے۔ غرض اس کے پوری طرح صاف ہونے اور رہنے کی کوئی صورت ہی نہیں، جب کہ جنت کی نہروں کا شہد مکھیوں کے پیٹ کا مرہونِ منت نہیں بلکہ براہ راست شہد کے سمندر سے نکل کر ہر جنتی کے گھر پہنچتا ہے اور ہمیشہ نہایت صاف شفاف اور ہر قسم کی کدورت سے پاک رہتا ہے۔
صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں: ”اگرچہ جنت میں کھانے پینے، پہننے، برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہو جائے۔ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہو جائے۔“
➏ { وَ لَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ:} پینے کی چیزوں کے بعد کھانے کی چیزوں کا اختصار کے ساتھ ذکر فرمایا اور ان میں سے بھی اناج وغیرہ کے بجائے پھلوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ جنت کے کھانے بھوک مٹانے کے لیے نہیں بلکہ محض لذت کے لیے ہوں گے، فرمایا: «اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى» [طٰہٰ: ۱۱۸] ”بے شک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہو گا اور نہ ننگا ہوگا۔ “ اور لذت میں پھلوں کا مقام سب جانتے ہیں۔
➐ {وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ: ” مَغْفِرَةٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی یا عظیم مغفرت“ ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت یہ ہو گی کہ انھیں عظیم مغفرت سے نوازا جائے گا۔ {”غَفَرَ يَغْفِرُ“} کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے، یعنی جنت میں ان کے گناہوں پر ان کے رب کی طرف سے ایسا عظیم پردہ ڈالا جائے گا کہ ان کا ذکر تک ان کے سامنے نہیں آئے گا کہ وہ کہیں شرمندہ نہ ہوں۔
➑ { كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ:} یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو پچھلی آیت: «اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ» سے سمجھ میں آ رہا ہے: {” أَيْ أَفَمَنْ هُوَ مِنْ أَهْلِ هٰذِهِ الْجَنَّةِ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ“} ”یعنی تو کیا وہ شخص جو ان اوصاف والی جنت والوں میں سے ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے؟“
➒ { وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا:} اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ اس سے پہلے جملے {” كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ “} میں لفظ {”مَنْ“} کے مفرد ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ واحد کا صیغہ {” هُوَ “} استعمال ہوا ہے اور اس جملے میں {”مَنْ“} کے معنی کے عام ہونے کو ملحوظ رکھتے ہوئے جمع کا صیغہ {” سُقُوْا “} استعمال ہوا ہے۔
➓ { فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ: ”قَطَعَ يَقْطَعُ قَطْعًا“} (ف) کاٹنا۔{ ” قَطَّعَ يُقَطِّعُ تَقْطِيْعًا “} (تفعیل) میں مبالغہ ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ {” اَمْعَآءَهُمْ “ ”مِعًي“} کی جمع ہے جو اصل میں {”مِعَيٌ“} بروزن {”عِنَبٌ“} ہے۔ یاء پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے گرا دیا، یاء اور نونِ تنوین دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء کو گرا دیا تو {”مِِعًي“} ہو گیا، جس کا تثنیہ {”مِعَيَانِ“} اور {”مِعَيَيْنِ“} آتا ہے۔ اس جیسا ایک اور لفظ {” آنَاءٌ“} ہے جو {” إِنًي“} کی جمع ہے۔ {” آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ“} ”دن رات کی گھڑیاں۔“ یعنی جہنمیوں کو انتہا درجے کا گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 آسن کے معنی متغیر یعنی بدل جانے والا غیر آسن نہ بدلنے والا یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہوجاتا ہے جنت کے پانی کی یہ خوبی ہوگی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب پیو تازہ مفرح اور صحت افزا۔ جب دنیا کا پانی خراب ہوسکتا ہے تو شریعت نے اسی لیے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہوجائے گا۔ 15۔ 2 جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعص دفعہ خراب ہوجاتا ہے جو گایوں بھینسوں اور بکریوں وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے جنت کا دودھ چونکہ اس طرح جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکلے گا بلکہ اس کی نہریں ہوں گی اس لیے جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا۔ 15۔ 3 دنیا میں جو شراب ملتی ہے وہ عام طور پر نہایت تلخ بدمزہ اور بدبودار ہوتی ہے علاوہ ازیں اسے پی کر انسان بالعموم حواس باختہ ہوجاتا ہے اول فول بکتا ہے اور اپنے جسم تک کا ہوش اسے نہیں رہتا جنت کی شراب دیکھنے میں حسین ذائقے میں اعلی اور نہایت خوشبودار ہوگی اور اسے پی کر کوئی انسان بہکے گا نہ کوئی گرانی محسوس کرے گا بلکہ ایسی لذت و فرحت محسوس کرے گا جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ) 37۔ الصافات:48)۔ نہ اس سے چکر آئے گا نہ عقل جائے گی۔ 15۔ 4 یعنی شہد میں بالعموم جن چیزوں کی آمیزش کا امکان رہتا ہے جس کا مشاہدہ دنیا میں عام ہے جنت میں ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا بالکل صاف شفاف ہوگا کیونکہ یہ دنیا کی طرح مکھیوں سے حاصل کردہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی بھی نہریں ہوں گی اسی لیے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی تم سوال کرو تو جنت الفردوس کی دعا کرو اس لیے کہ وہ جنت کا درمیانہ اور اعلی درجہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے۔ صحیح بخاری۔ کتاب الجہاد۔ 15۔ 5 یعنی جن کو جنت میں وہ اعلٰی درجے نصیب ہونگے جو مذکور ہوئے کیا وہ ایسے جہنمیوں کے برابر ہیں جن کا یہ حال ہوگا؟ ظاہر بات ہے ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ایک درجات میں ہوگا اور دوسرا درکات (جہنم) میں۔ ایک نعمتوں میں دادو طرب و عیش لے رہا ہوگا، دوسرا عذاب جہنم کی سختیاں جھیل رہا ہوگا۔ ایک اللہ کا مہمان ہوگا جہاں انواع اقسام کی چیزیں اس کی تواضع اور اکرام کے لئے ہونگی اور دوسرا اللہ کا قیدی، جہاں اس کو کھانے کے لئے زقوم جیسا تلخ و کسیلہ کھانا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو کبھی باسی نہ ہو گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ کبھی نہ بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہو گی اور کچھ نہریں صاف شدہ شہد کی ہوں گی۔ [16] نیز ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت [17] ہوگی۔ ایسا شخص کیا ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہوں اور انہیں پینے کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے جو ان کی آنتیں بھی کاٹ [18] کر رکھ دے؟
[16] جنت کے چار مشروبات کی صفات :۔
اس آیت میں جنت کے حالات بیان کرتے ہوئے پہلے چار مشروبات اور ان کی صفات کا ذکر فرمایا۔ پہلے نمبر پر پانی کی صفت یہ بیان فرمائی کہ ﴿غَيْرَ آميِنْ﴾ ہو گا۔ یعنی نہ وہ متعفن ہو گا نہ اس کا رنگ بدلا ہو گا اور نہ ذائقہ۔ دنیا میں پانی کے کھڑے ذخیروں کا عموماً رنگ ذائقہ اور بو تینوں چیزیں بدل جاتی ہیں اور بارش کے پانی میں گردوغبار مل جاتا ہے۔ اور دریاؤں کا پانی مٹی کی آمیزش سے گدلا ہو جاتا ہے۔ جنت میں پانی کے چشموں سے جو پانی جاری ہو گا وہ نہایت صاف ستھرا، نتھرا ہوا، بے رنگ، بے بو ہو گا۔ اس کا ذائقہ بھی میٹھا ہو گا بدلا ہوا نہ ہو گا۔ دوسرے نمبر پر دودھ کا ذکر فرمایا۔ دنیا میں جو دودھ جانوروں کے تھنوں سے نکلتا ہے۔ اس میں کچھ تو تھنوں کی آلائش کی آمیزش ہو جاتی ہے پھر اگر دودھ کچھ دیر پڑا رہے تو پھٹ جاتا ہے۔ اور اس کا ذائقہ ترش اور بد مزہ ہو جاتا ہے۔ جنت میں دودھ بھی پانی کی طرح چشموں سے رواں ہو گا اور اپنی اصلی حالت میں بدستور قائم رہے گا۔ اس کے ذائقہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تیسرے نمبر پر شراب کا ذکر فرمایا۔ دنیا کی شراب کا ذائقہ تلخ، بو ناگوار ہوتی ہے۔ حواس کو مختل کر دیتی ہے اور بعض دفعہ سر چکرانے لگتا ہے۔ جنت میں شراب بھی چشموں کی صورت میں رواں ہو گی۔ وہ مذکورہ تمام عیوب سے پاک اور مزیدار ہو گی۔ چوتھے نمبر پر شہد کا ذکر فرمایا۔ جو شہد کی مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے۔ شہد کے چھتے میں موم اور ستھے کی آمیزش ہوتی ہے اور اوپر جھاگ ہوتا ہے۔ جنت میں شہد بھی چشموں سے نکل کر رواں ہو گا۔ نہایت صاف ستھرا اور ایسے عیوب سے پاک ہو گا۔
[17] مشروبات کے بعد پھر مختصراً ماکولات کا ذکر فرمایا کہ کھانے کے لیے انہیں ہر طرح کے بہترین اور مزیدار پھل مہیا کئے جائیں گے۔ اور اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہو گی کہ ان کی دنیا کی زندگی کی تمام کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیا جائے گا۔ جو کسی کے ذہن میں نہ آسکیں گی۔ اور ایسی کوتاہیوں کو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
[18] یعنی ایک طرف تو وہ شخص ہے جو جنت کی متذکرہ بالا نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اور دوسری طرف ایسا شخص ہے جو ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جل رہا ہے۔ کھانے کو اسے خاردار اور زہریلا تھوہر کا درخت ملے گا اور پینے کو سخت گرم کھولتا ہوا پانی۔ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہے؟
[17] مشروبات کے بعد پھر مختصراً ماکولات کا ذکر فرمایا کہ کھانے کے لیے انہیں ہر طرح کے بہترین اور مزیدار پھل مہیا کئے جائیں گے۔ اور اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہو گی کہ ان کی دنیا کی زندگی کی تمام کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیا جائے گا۔ جو کسی کے ذہن میں نہ آسکیں گی۔ اور ایسی کوتاہیوں کو اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
[18] یعنی ایک طرف تو وہ شخص ہے جو جنت کی متذکرہ بالا نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اور دوسری طرف ایسا شخص ہے جو ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جل رہا ہے۔ کھانے کو اسے خاردار اور زہریلا تھوہر کا درخت ملے گا اور پینے کو سخت گرم کھولتا ہوا پانی۔ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [13-الرعد:19] یعنی ’ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے ‘۔
اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] یعنی ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں ‘۔
پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔
جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [13-الرعد:19] یعنی ’ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے ‘۔
اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20] یعنی ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں ‘۔
پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنتی نہریں مشک کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں اس میں پانی کے علاوہ دودھ کی نہریں بھی ہیں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا بہت سفید، بہت میٹھا اور نہایت صاف شفاف اور بامزہ پرذائقہ۔“
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی البعث والنشور:293] «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» ۱؎ [37-الصافات:46] ’ جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے ‘۔
بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:19] ’ جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے ‘۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» ۱؎ [37-الصافات:47] ’ نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے ‘۔
حدیث میں ہے کہ { یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے }۔
حدیث شریف میں ہے کہ { یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں }۔
مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے { یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:316/4:ضعیف]
ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790]
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی البعث والنشور:293] «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» ۱؎ [37-الصافات:46] ’ جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے ‘۔
بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:19] ’ جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے ‘۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» ۱؎ [37-الصافات:47] ’ نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے ‘۔
حدیث میں ہے کہ { یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے }۔
حدیث شریف میں ہے کہ { یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں }۔
مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے { یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:316/4:ضعیف]
ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790]
طبرانی میں ہے { لقیط بن عامر نے جب وفد میں آئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جنت میں کیا کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاف شہد کی نہریں اور بغیر نشے کے سر درد نہ کرنے والی شراب کی نہریں اور نہ بگڑنے والے دودھ کی نہریں اور خراب نہ ہونے والے شفاف پانی کی نہریں اور طرح طرح کے میوہ جات عجیب و غریب بے مثل و بالکل تازہ اور پاک صاف بیویاں جو صالحین کو ملیں گی اور خود بھی صالحات ہوں گی دنیا کی لذتوں کی طرح ان سے لذتیں اٹھائیں گے ہاں وہاں بال بچے نہ ہوں گے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:211/19:]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔“
پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» ۱؎ [44-الدخان:55]، یعنی ’ وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:52]، ’ دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں ‘۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔
جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔“
پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» ۱؎ [44-الدخان:55]، یعنی ’ وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:52]، ’ دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں ‘۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔
جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟