ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 14

اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ کَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۴﴾
تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی؟ En
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
En
کیا پس وه شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وه اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) ➊ {اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ …:} اس آیت میں مومن و کافر کے درمیان ایک اور فرق بیان فرمایا ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کفر کرنے والوں کا ٹھکانا آگ ہو گا۔ { بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ } (اپنے رب کی طرف سے دلیل) سے مراد ایک تو انسانی فطرت میں رکھی ہوئی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی توحید ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہونے والی ہدایت اور علم ہے جس کی وجہ سے مومن کو اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو اس یقین کے ساتھ کہ میں حق پر ہوں اور دشمن کے مقابلے میں لڑتا اور شہید ہوتا ہے تو اسی یقین کے ساتھ۔ وہ جس راستے پر چل رہا ہے اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ فرمایا کیا یہ شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال خوش نما بنا دیے گئے ہیں، حتیٰ کہ رسول اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بھی اسے اچھا کام نظر آتا ہے اور وہ وحی اور ہدایت کے نور سے منہ موڑ کر کفر و شرک اور اندھا دھند اپنی خواہش کی پیروی کی راہ پر چل نکلا ہے جس سے اس کا نورِ فطرت بھی بجھ چکا ہے؟ جواب ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہر گز برابر نہیں ہو سکتے۔ تو ظاہر ہے کہ ان کا انجام بھی کسی صورت ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے، دیکھیے سورۂ رعد (۱۹)، سورۂ ص (۲۸) اور سورۂ جاثیہ (۲۱)۔
➋ احسن التفاسیر میں ہے: حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کے پاس یہ سند (بینہ اور دلیل) ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورتوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحدہٗ لا شریک لہ ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی شرعی یا عقلی دلیل نہیں ہے۔ بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کرکے دکھا دیا ہے، اس لیے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسے کے سبب اپنی خواہش پر چلتے ہیں۔ اسی کو { وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ } فرمایا۔ (مختصراً)
➌ { كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ } (اس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے) میں برے اعمال مزین کرنے والے کا ذکر مجہول رکھا ہے، کیونکہ آدمی کے لیے اس کے اعمال بد کو مزین کرنے والی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن میں اس کی خواہش نفس بھی ہے، انسانی اور جنی شیطان بھی اور اس کے اعمالِ بد کی نحوست بھی۔ فعل مجہول (مزین کر دیے گئے) میں مزین کرنے والی یہ سب اشیاء آ جاتی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14، 1 برے کام سے مراد شرک اور معصیت ہیں، مطلب وہی ہے جو پہلے بھی متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ مومن و کافر، مشرک و موحد اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے ایک کے لئے اللہ کے ہاں اجر وثواب اور جنت کی نعمتیں ہیں، جب کہ دوسرے کے لئے جہنم کا ہولناک عذاب۔ اگلی آیت میں دونوں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس جنت کی خوبیاں اور محاسن جس کا وعدہ متقین سے ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ بھلا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل [15] پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کے برے عمل اسے خوشنما بنا کر دکھائے جا رہے ہوں اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہوں
[15] واضح دلیل سے مراد وہ صاف ستھرا راستہ ہے جو وحی الٰہی کی روشنی میں پوری طرح نظر آرہا ہو۔ یعنی ایک شخص تو پورے علم اور یقین کے ساتھ روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کر رہا ہے۔ دوسرے کے پاس وہم و گمان کی تاریکیاں ہی تاریکیاں ہیں۔ وہ اپنے نفس کی خواہش کا پیروکار ہوتا ہے۔ اور دنیا کا زیادہ سے زیادہ مال کمانا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے جو بھی وہ جائز اور ناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے سب اسے اچھے ہی نظر آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں آدمیوں کا طرز زندگی ایک جیسا ہو سکتا ہے؟ یا ان دونوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دودھ پانی اور شہد کے سمندر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو، فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بداعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
جیسے فرمان ہے «اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [13-الرعد:19]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے ‘۔
اور ارشاد ہے آیت «لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاىِٕزُوْنَ» ۱؎ [59-الحشر:20]‏‏‏‏ یعنی ’ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں ‘۔
پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنتی نہریں مشک کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں اس میں پانی کے علاوہ دودھ کی نہریں بھی ہیں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا بہت سفید، بہت میٹھا اور نہایت صاف شفاف اور بامزہ پرذائقہ۔‏‏‏‏
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی، جو پینے والے کا دل خوش کر دیں، دماغ کشادہ کر دیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی البعث والنشور:293]‏‏‏‏ «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» ۱؎ [37-الصافات:46]‏‏‏‏ ’ جو شراب نہ تو بدبودار ہے، نہ تلخی والی ہے، نہ بدمنظر ہے ‘۔
بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی، پینے میں بہت لذیذ، نہایت خوشبودار «لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:19]‏‏‏‏ ’ جس سے نہ عقل میں فتور آئے، نہ دماغ چکرائیں، نہ منہ سے بدبو آئے، نہ بک جھک لگے ‘۔ «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» ۱؎ [37-الصافات:47]‏‏‏‏ ’ نہ سر میں درد ہو، نہ چکر آئیں، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ نشہ چڑھے، نہ عقل جائے ‘۔
حدیث میں ہے کہ { یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشید کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے، خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے }۔
حدیث شریف میں ہے کہ { یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں }۔
مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2571،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے { یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:316/4:ضعیف]‏‏‏‏
ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790]‏‏‏‏
طبرانی میں ہے { لقیط بن عامر نے جب وفد میں آئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جنت میں کیا کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاف شہد کی نہریں اور بغیر نشے کے سر درد نہ کرنے والی شراب کی نہریں اور نہ بگڑنے والے دودھ کی نہریں اور خراب نہ ہونے والے شفاف پانی کی نہریں اور طرح طرح کے میوہ جات عجیب و غریب بے مثل و بالکل تازہ اور پاک صاف بیویاں جو صالحین کو ملیں گی اور خود بھی صالحات ہوں گی دنیا کی لذتوں کی طرح ان سے لذتیں اٹھائیں گے ہاں وہاں بال بچے نہ ہوں گے۱؎ [طبرانی کبیر:211/19:]‏‏‏‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں، نہیں نہیں، قسم اللہ کی! وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے «لؤلؤ» اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے۔‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لیے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ» ۱؎ [44-الدخان:55]‏‏‏‏، یعنی ’ وہاں نہایت امن و امان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:52]‏‏‏‏، ’ دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں ‘۔ ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لیے حلال کر چکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہو چکا ہے اب کوئی کھٹکا ہی نہیں۔
جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بشکل پانی انہیں پینے کے لیے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اور اس کا کیا میل؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟