ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 10

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ۫ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡثَالُہَا ﴿۱۰﴾
تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈال دی اور ان کافروں کے لیے بھی اسی جیسی( سزائیں) ہیں۔ En
کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی۔ اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا
En
کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر اس کا معائنہ نہیں کیا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا نتیجہ کیا ہوا؟ اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کافروں کے لئے اسی طرح کی سزائیں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یہ { فَتَعْسًا لَّهُمْ } ہی کی وضاحت ہے کہ کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر پہلی تباہ شدہ قوموں کے آثار دیکھ کر ان کی ہلاکت کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا؟ نزولِ قرآن کے وقت ان میں سے بہت سے آثار موجود تھے اور بعض اب بھی باقی ہیں۔ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا } کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۹) اور سورۂ مومن (۲۱)۔
➋ {دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ: دَمَّرَ } ہلاک کر دیا۔ {اَلدَّمَارُ} ہلاکت۔ { دَمَّرَ } خود بھی متعدی ہے، اصل میں {دَمَّرَهُمُ اللّٰهُ} تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر دیا۔ مگر { عَلَيْهِمْ } لانے سے ہلاک کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے: { أَيْ أَلْقٰي عَلَيْهِمُ الدَّمَارَ } یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر ہلاکت اور تباہی ڈال دی۔
➌ {وَ لِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا: اَمْثَالُهَا } میں ضمیر{هَا عَاقِبَةُ } کی طر ف لوٹ رہی ہے۔ {أَمْثَالٌ} کو جمع اس لیے لایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس جیسے بے شمار عذاب موجود ہیں۔ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا } کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ پہلی قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انھیں تباہ و برباد کر دیا اور ان موجودہ کافروں کے لیے بھی سرکشی اختیار کرنے کی صورت میں اس جیسے بے شمار عذاب تیار ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ اقوام پر رسولوں کی نافرمانی کی پاداش میں دنیا میں تباہی اور بربادی نازل کی، جس کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کافروں کے لیے دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی ایسے کئی عذاب تیار ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 جن کے بہت سے آثار ان کے علاقوں میں موجود ہیں نزول قرآن کے وقت بعض تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات اور آثار موجود تھے اس لیے انہیں چل پھر کر ان کے عبرت ناک انجام دیکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی کہ شاید ان کو دیکھ کر ہی یہ ایمان لے آئیں۔ 10۔ 2 یہ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارے لئے بھی ایسی ہی سزا ہوسکتی ہے؟ اور گزشتہ کافر قوموں کی ہلاکت کی طرح، تمہیں بھی ہلاکت سے دو چار کیا جاسکتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ کیا وہ زمین میں چل پھر کر دیکھتے نہیں کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں تہس نہس کر دیا اور کافروں کے لئے ایسی ہی (سزائیں) ہوتی [11] ہیں۔
[11] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ پہلی قوموں نے سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انہیں تباہ و برباد کر دیا تھا۔ اسی طرح کے عذاب بھیج کر ان موجودہ کافروں کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح کافروں کو دنیا میں طرح طرح کی سزائیں دی ہیں۔ اسی طرح کئی طرح کی سزائیں آخرت میں بھی دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تمام شہروں سے پیارا شہر ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی؟ جو یہ معلوم کر لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لیے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں۔
پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بے ولی ہیں۔ { اسی لیے احد والے دن مشرکین کے سردار ابوسفیان (‏‏‏‏صخر)‏‏‏‏‏‏‏‏ بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگا کہ یہ سب ہلاک ہو گئے پھر اسے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور فرمایا جن کی زندگی تجھے خار کی طرح کھٹکتی ہے اللہ نے ان سب کو اپنے فضل سے زندہ ہی رکھا ہے۔‏‏‏‏ ابوسفیان کہنے لگا سنو یہ دن بدر کے بدلے کا دن ہے اور لڑائی تو مثل ڈولوں کے ہے کبھی کوئی اوپر کبھی کوئی اوپر۔ تم اپنے مقتولین میں بعض ایسے بھی پاؤ گے جن کے ناک کان وغیرہ ان کے مرنے کے بعد کاٹ لیے گئے ہیں میں نے ایسا حکم نہیں دیا لیکن مجھے کچھ برا بھی نہیں لگا پھر اس نے رجز کے اشعار فخریہ پڑھنے شروع کئے کہنے لگا «اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل» ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا جواب دیں؟ فرمایا: { کہو «اَللهُ اَعْلَی وَاَجَلُّ» } یعنی وہ کہتا تھا ہبل بت کا بول بالا ہو، جس کے جواب میں کہا گیا سب سے زیادہ بلندی والا اور سب سے زیادہ عزت و کرم والا اللہ ہی ہے۔‏‏‏‏ ابوسفیان نے پھر کہا «لَنَا الْعُزَّی وَلَا عُزَّی لَکُمْ» ‏‏‏‏ ہمارا عزیٰ (‏‏‏‏بت)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہے اور تمہارا نہیں۔‏‏‏‏ اس کے جواب میں بفرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا { «اَللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰى لَکُمْ» اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہار مولا کوئی نہیں} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4043]‏‏‏‏