قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾
کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا)، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔
En
کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے
En
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 9) ➊ {قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ:” بَدَعَ يَبْدَعُ بَدْعًا “} (ف) {”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو ایجاد کرنا، کسی پہلی مثال کے بغیر بنانا۔ سورۂ بقرہ (۱۱۷) اور سورۂ انعام (۱۰۱) میں {” بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} اسی سے ہے۔ {”بَدُعَ يَبْدُعُ بَدْعًا وَ بَدَاعَةً وَ بُدُوْعَةً“} (ک) نیا ہونا، جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔ {” بِدْعًا “} صفت مشبّہ فعل لازم سے بمعنی اسم فاعل ہے، جیسے {”خِفٌّ“} بمعنی خفیف ہے، یا فعل متعدی سے بمعنی اسم مفعول ہے، جیسے {”حِبٌّ“} بمعنی محبوب ہے۔ {” بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ “} نیا یا انوکھا رسول۔ کفار ایمان نہ لانے کے لیے جو بہانے اور اعتراض کرتے تھے ان میں سے چند کا ذکر اور ان کا جواب پچھلی دو آیات میں گزرا۔ اس آیت میں ان کے بہت سے اعتراضات کا صرف جواب ذکر کیا گیا ہے، اعتراضات کا ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ خود بخود جواب سے سمجھ میں آ رہے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کا ذکر صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے جیسا ایک بشر رسول کیسے بن گیا، جو ہماری طرح کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا اور بیوی بچے رکھتا ہے۔ ایک اعتراض یہ کرتے کہ توحید کی جو تعلیم یہ نبی پیش کرتا ہے ہم نے اپنے آبا و اجداد میں نہیں سنی۔ (دیکھیے ص: ۴ تا ۸۔ فرقان: ۷) ایک یہ کہ اگر یہ رسول ہے تو ہمارے مطالبے کے مطابق معجزے کیوں پیش نہیں کرتا، مثلاً پہاڑہٹا دے، دریا بہا دے، سونے کا مکان بنا لے، آسمان پر چڑھ جائے اور وہاں سے کتاب لا کر دکھائے وغیرہ۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۰ تا ۹۳) اور ایک یہ کہ غیب کی خبریں ہمارے مطالبے کے مطابق کیوں نہیں بتاتا، کم از کم یہ ہی بتا دے کہ قیامت کب ہو گی۔ (دیکھیے اعراف: ۱۸۷) اللہ تعالیٰ نے ان سب کے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں جو بشر ہو، مجھ سے پہلے تمام رسول بشر ہی تھے، وہ کھاتے پیتے، بازاروں میں چلتے پھرتے اور بیوی بچوں والے تھے۔ ان پر انسانی عوارض آتے تھے، سب کی تعلیم توحید تھی، وہ خدائی اختیارات نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے معجزے پیش کر سکتے تھے۔ پھر اگر وہ سب، جن میں تمھارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام اور بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء شامل ہیں، رسول اور نبی ہو سکتے ہیں اور تم انھیں نبی مانتے ہو تو میرا رسول ہونا کون سی انوکھی بات ہے؟
➋ {وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ:} یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے مطالبے کے مطابق غیب کی خبریں کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میں خود کچھ بھی نہیں جانتا، نہ یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، تو میں تمھیں اپنے پاس سے تمھاری طلب کردہ باتیں کیسے بتا سکتا ہوں؟ {” مَا يُفْعَلُ “} فعل مجہول اس لیے لایا گیا تاکہ فاعل عام رہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا کرے گا اور لوگ کیا کریں گے۔ پھر یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کس وقت کیا کیا جائے گا، تاکہ عام رہے کہ ہمارے ساتھ دنیا میں کیا کیا جائے گا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا۔
یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا جانتے تھے کہ دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور آپ پر ایمان لانے والوں یا نہ لانے والوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے اور صحابہ کرام کے تمام گناہ معاف کرکے انھیں جنت میں داخل کیا جائے گا اور کفار و منافقین کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔ (دیکھیے فتح: ۱ تا ۶) دنیا میں بھی آپ کو اور ایمان والوں کو عزت و غلبہ اور کفار کو ذلت و رسوائی ملے گی اور آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا۔ دیکھیے سورۂ مجادلہ (۲۱)، فتح (۲۸)، صف (۸، ۹) اور دوسری متعدد آیات۔ پھر یہ کہنے کا حکم کیوں دیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اہلِ علم نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اجمالی طور پر تو یہ جانتے تھے مگر تفصیلی طور پر آپ کو معلوم نہ تھا کہ آپ کے ساتھ یا آپ کے مخاطبین کے ساتھ دنیا یا آخرت میں کیا ہو گا۔ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلے آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعد میں معلوم ہو گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اس آیت کے جملہ {” وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ “} میں اور اگلے جملے {” اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ “} میں موجود ہے۔
➌ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ:} یعنی میں خود آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا، نہ یہ کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا ہو گا، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یعنی میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور واقعی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آئندہ ہونے والی جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی وہ آپ جان گئے اور جو نہیں بتائی وہ آپ کو معلوم نہیں ہوئی۔ اس کی دلیل سیکڑوں واقعات ہیں، مثلاً واقعۂ افک، بئرِ معونہ کے شہداء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چند کفار کا نام لے کر ایک ماہ تک قنوت میں ان پر لعنت کرنا، مگر اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں اور پھر ان سب کا مسلمان ہو جانا وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نمل کی آیت (۶۵): «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ» کی تفسیر۔ سورۂ اعراف میں فرمایا: «قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ» [الاعراف: ۱۸۸] ”کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔“ اسی طرح آخرت کے متعلق جو بات بتائی وہ آپ جان گئے جو نہیں بتائی وہ نہیں جانتے تھے، جیسا کہ حدیثِ شفاعت میں ہے کہ میں عرش کے نیچے سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے وہ تعریفیں الہام کرے گا جو اب مجھے یاد نہیں۔ [دیکھیے بخاري، التوحید، باب کلام الرب عز و جل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرہم: ۷۵۱۰]
الغرض، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے تمام انبیاء علیھم السلام کو آئندہ کی کسی بات کا نہ اجمالی علم تھا اور نہ تفصیلی، صرف ان باتوں کا علم تھا جو اللہ تعالیٰ نے انھیں بتائیں، خواہ اجمالاً بتائیں یا تفصیلاً۔ یوسف اور یعقوب علیھما السلام کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۹۴) کی تفسیر۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر کو آنے والے واقعات کا صرف اتنا علم ہوتا ہے جتنا اسے بتا دیا جائے۔ اگر کہا جائے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں تو ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں پھینکے جانے، بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم، ہجرت میں بیوی کی عزت خطرے میں پڑنے، بیوی بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے، غرض کسی بھی امتحان میں سرخرو ہونے کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔
خلاصہ یہ کہ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اے نبی! کہہ دے نہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، مجھے تو صرف اس بات کا پتا چلتا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اس کے سوا میں اپنے یا تمھارے متعلق آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا۔ اس لیے مجھ سے قیامت کے وقت یا آئندہ کی دوسری کسی بات کے متعلق بتانے کا مطالبہ مت کرو، کیونکہ یہ میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہیں۔
➍ { وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی میرا کام یہ نہیں کہ میں تمھیں بتاؤں کہ قیامت کب آئے گی، یا اپنے پاس سے تمھیں آئندہ کی خبریں بتاؤں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ میں اللہ کا عذاب آنے سے پہلے تمھیں اس سے واضح طور پر ڈرا دوں۔
➎ مفسر علی بن احمد مہائمی نے اپنی تفسیر{ ” تبصير الرحمان “} میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت عمدہ الفاظ میں بحث کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے، وہ لکھتے ہیں: [ «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» آتِيْكُمْ بِالْمُؤَاخَذَةِ الْأُخْرَوِيَّةِ «وَ» مِنْ أَيْنَ لِيْ تَعْيِيْنُ وَقْتِهَا مَعَ أَنِّيْ «مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ» فِيْمَا لَمْ يُوْحَ إِلَيَّ وَالْوَحْيُ بِبَعْضِ الْأُمُوْرِ لَا يَسْتَلْزِمُ الْعِلْمَ بِالْبَاقِيْ وَلَمْ يَكُنْ لِيْ أَنْ أَضُمَّ إِلَی الْوَحْيِ كَذِبًا مِنْ عِنْدِيْ «اِنْ اَتَّبِعُ» فِيْ تَقْرِيْرِ الْأُمُوْرِ الْغَيْبِيَّةِ «اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ وَ» مَعَ ذٰلِكَ لَا يُفَوَّضُ إِلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا يُوْحٰی إِلَيَّ مِنْ تَعْذِيْبِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيْ بَلْ «مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ» عَنْهُ «مُبِيْنٌ» لَهُ بِالدَّلَائِلِ الْقَطْعِيَّةِ۔] ”(کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں) کہ تم پر آخرت کا عذاب لے آؤں (اور) میں اس کے وقت کی تعیین کیسے کر سکتا ہوں جب کہ (میں جانتا ہی نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا) ان معاملات میں جن کی میری طرف وحی نہیں کی گئی اور بعض معاملات کے وحی کیے جانے سے لازم نہیں آتا کہ مجھے تمام معاملات کا بھی علم ہو گیا اور یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ باقی معاملات میں وحی کے ساتھ اپنے پاس سے جھوٹ ملا دوں۔ (میں پیروی نہیں کرتا) غیبی معاملات بیان کرنے میں (مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور) اس کے ساتھ یہ کہ مجھے جو وحی کی جاتی ہے اس میں مجھ پر ایمان نہ لانے والوں کو عذاب دینے میں کسی چیز کا معاملہ میرے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ (میں نہیں ہوں مگر ڈرانے والا) اس کی طرف سے (بالکل واضح) جو اپنے ڈرانے کو قطعی دلائل کے ساتھ واضح کرکے بیان کرنے والا ہوں۔“
➋ {وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ:} یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے مطالبے کے مطابق غیب کی خبریں کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میں خود کچھ بھی نہیں جانتا، نہ یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، تو میں تمھیں اپنے پاس سے تمھاری طلب کردہ باتیں کیسے بتا سکتا ہوں؟ {” مَا يُفْعَلُ “} فعل مجہول اس لیے لایا گیا تاکہ فاعل عام رہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا کرے گا اور لوگ کیا کریں گے۔ پھر یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کس وقت کیا کیا جائے گا، تاکہ عام رہے کہ ہمارے ساتھ دنیا میں کیا کیا جائے گا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا۔
یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا جانتے تھے کہ دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور آپ پر ایمان لانے والوں یا نہ لانے والوں کے ساتھ کیا کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے اور صحابہ کرام کے تمام گناہ معاف کرکے انھیں جنت میں داخل کیا جائے گا اور کفار و منافقین کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔ (دیکھیے فتح: ۱ تا ۶) دنیا میں بھی آپ کو اور ایمان والوں کو عزت و غلبہ اور کفار کو ذلت و رسوائی ملے گی اور آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آئے گا۔ دیکھیے سورۂ مجادلہ (۲۱)، فتح (۲۸)، صف (۸، ۹) اور دوسری متعدد آیات۔ پھر یہ کہنے کا حکم کیوں دیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اہلِ علم نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اجمالی طور پر تو یہ جانتے تھے مگر تفصیلی طور پر آپ کو معلوم نہ تھا کہ آپ کے ساتھ یا آپ کے مخاطبین کے ساتھ دنیا یا آخرت میں کیا ہو گا۔ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلے آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعد میں معلوم ہو گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اس آیت کے جملہ {” وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ “} میں اور اگلے جملے {” اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ “} میں موجود ہے۔
➌ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ:} یعنی میں خود آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا، نہ یہ کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا ہو گا، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یعنی میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور واقعی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آئندہ ہونے والی جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی وہ آپ جان گئے اور جو نہیں بتائی وہ آپ کو معلوم نہیں ہوئی۔ اس کی دلیل سیکڑوں واقعات ہیں، مثلاً واقعۂ افک، بئرِ معونہ کے شہداء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چند کفار کا نام لے کر ایک ماہ تک قنوت میں ان پر لعنت کرنا، مگر اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں اور پھر ان سب کا مسلمان ہو جانا وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نمل کی آیت (۶۵): «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ» کی تفسیر۔ سورۂ اعراف میں فرمایا: «قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ» [الاعراف: ۱۸۸] ”کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔“ اسی طرح آخرت کے متعلق جو بات بتائی وہ آپ جان گئے جو نہیں بتائی وہ نہیں جانتے تھے، جیسا کہ حدیثِ شفاعت میں ہے کہ میں عرش کے نیچے سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے وہ تعریفیں الہام کرے گا جو اب مجھے یاد نہیں۔ [دیکھیے بخاري، التوحید، باب کلام الرب عز و جل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرہم: ۷۵۱۰]
الغرض، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے تمام انبیاء علیھم السلام کو آئندہ کی کسی بات کا نہ اجمالی علم تھا اور نہ تفصیلی، صرف ان باتوں کا علم تھا جو اللہ تعالیٰ نے انھیں بتائیں، خواہ اجمالاً بتائیں یا تفصیلاً۔ یوسف اور یعقوب علیھما السلام کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۹۴) کی تفسیر۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر کو آنے والے واقعات کا صرف اتنا علم ہوتا ہے جتنا اسے بتا دیا جائے۔ اگر کہا جائے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں تو ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں پھینکے جانے، بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم، ہجرت میں بیوی کی عزت خطرے میں پڑنے، بیوی بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے، غرض کسی بھی امتحان میں سرخرو ہونے کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔
خلاصہ یہ کہ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اے نبی! کہہ دے نہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا، مجھے تو صرف اس بات کا پتا چلتا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اس کے سوا میں اپنے یا تمھارے متعلق آئندہ کی کوئی بات نہیں جانتا۔ اس لیے مجھ سے قیامت کے وقت یا آئندہ کی دوسری کسی بات کے متعلق بتانے کا مطالبہ مت کرو، کیونکہ یہ میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہیں۔
➍ { وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی میرا کام یہ نہیں کہ میں تمھیں بتاؤں کہ قیامت کب آئے گی، یا اپنے پاس سے تمھیں آئندہ کی خبریں بتاؤں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ میں اللہ کا عذاب آنے سے پہلے تمھیں اس سے واضح طور پر ڈرا دوں۔
➎ مفسر علی بن احمد مہائمی نے اپنی تفسیر{ ” تبصير الرحمان “} میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت عمدہ الفاظ میں بحث کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے، وہ لکھتے ہیں: [ «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» آتِيْكُمْ بِالْمُؤَاخَذَةِ الْأُخْرَوِيَّةِ «وَ» مِنْ أَيْنَ لِيْ تَعْيِيْنُ وَقْتِهَا مَعَ أَنِّيْ «مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ» فِيْمَا لَمْ يُوْحَ إِلَيَّ وَالْوَحْيُ بِبَعْضِ الْأُمُوْرِ لَا يَسْتَلْزِمُ الْعِلْمَ بِالْبَاقِيْ وَلَمْ يَكُنْ لِيْ أَنْ أَضُمَّ إِلَی الْوَحْيِ كَذِبًا مِنْ عِنْدِيْ «اِنْ اَتَّبِعُ» فِيْ تَقْرِيْرِ الْأُمُوْرِ الْغَيْبِيَّةِ «اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ وَ» مَعَ ذٰلِكَ لَا يُفَوَّضُ إِلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا يُوْحٰی إِلَيَّ مِنْ تَعْذِيْبِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيْ بَلْ «مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ» عَنْهُ «مُبِيْنٌ» لَهُ بِالدَّلَائِلِ الْقَطْعِيَّةِ۔] ”(کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں) کہ تم پر آخرت کا عذاب لے آؤں (اور) میں اس کے وقت کی تعیین کیسے کر سکتا ہوں جب کہ (میں جانتا ہی نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا) ان معاملات میں جن کی میری طرف وحی نہیں کی گئی اور بعض معاملات کے وحی کیے جانے سے لازم نہیں آتا کہ مجھے تمام معاملات کا بھی علم ہو گیا اور یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ باقی معاملات میں وحی کے ساتھ اپنے پاس سے جھوٹ ملا دوں۔ (میں پیروی نہیں کرتا) غیبی معاملات بیان کرنے میں (مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور) اس کے ساتھ یہ کہ مجھے جو وحی کی جاتی ہے اس میں مجھ پر ایمان نہ لانے والوں کو عذاب دینے میں کسی چیز کا معاملہ میرے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ (میں نہیں ہوں مگر ڈرانے والا) اس کی طرف سے (بالکل واضح) جو اپنے ڈرانے کو قطعی دلائل کے ساتھ واضح کرکے بیان کرنے والا ہوں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 یعنی پہلا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں، بلکہ مجھ سے پہلے بھی متعدد رسول آ چکے ہیں۔ 9۔ 2 یعنی دنیا میں، میں مکہ میں ہی رہوں گا یا یہاں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑے گا، مجھے موت طبعی آئے گی یا تمہارے ہاتھوں میرا قتل ہوگا؟ تم جلدی ہی سزا سے دو چار ہونگیں یا لمبی مہلت تمہیں دی جائے گی؟ ان تمام باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کل کیا ہوگا تاہم آخرت کے بارے میں یقینی علم ہے کہ اہل ایمن جنت میں اور کافر جہنم میں جائیں گے اور حدیث میں جو آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب ان کے بارے میں حسن ظن کا اظہار کیا گیا تو فرمایا واللہ ما ادری وانا رسول اللہ ما یفعل بی ولا بکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ کی قسم مجھے اللہ کا رسول ہونے کے باوجود علم نہیں کہ قیامت کو میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اس سے کسی ایک معین شخص کے قطعی انجام کے علم کی نفی ہے الا یہ کہ ان کی بابت بھی نص موجود ہو جیسے عشرہ مبشرہ اور اصحاب بدر وغیرہ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ آپ ان سے کہئے کہ ”میں کوئی نرالا رسول [12] نہیں ہوں، میں یہ بھی نہیں جانتا کہ مجھ سے کیا سلوک [13] کیا جائے گا اور تم سے کیا؟ میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں تو محض ایک واضح طور پر ڈرانے والا ہوں“
[12] یعنی رسالت کا سلسلہ کچھ مجھ سے ہی شروع نہیں ہوا مجھ سے پہلے ہزاروں پیغمبر اور سینکڑوں رسول گزر چکے ہیں۔ سب کی تعلیم یہی تھی جو میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ میں کوئی نئی اور نرالی بات تم سے نہیں کہتا۔ جسے تم صریح جادو یا بناوٹی باتیں کہہ رہے ہو۔ [13] کسی کے انجام کی یقینی خبر صرف اللہ کو ہے :۔
اس جملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اور تمہارے خیال کے مطابق اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا نتیجہ میرے حق میں کیا نکلنے والا ہے اور تمہارے حق میں کیا ہو سکتا ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم نہ ہی کوئی بات میرے اختیار میں ہے۔ میرے اختیار میں تو صرف یہ بات ہے کہ جو کچھ میری طرف وحی کی جا رہی ہے اس کی پیروی کرتا جاؤں اور جو پیغام مجھے اللہ کی طرف سے ملا ہے وہ تمہیں پہنچا دوں اور تمہیں تمہارے انجام سے مطلع کر دوں اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے یا تم سے کیا سلوک ہونے والا ہے۔ یہ میں نہیں جانتا میں صرف تمہیں یہ بتائے دیتا ہوں کہ برے اعمال کا انجام اچھا نہ ہو گا۔ اور اس پہلو کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے۔ خارجہ بن زید انصاریؓ کہتے ہیں ام علاء انصار کی ایک عورت تھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اس نے کہا کہ جب انصار نے مہاجرین کی آباد کاری کے لیے قرعہ ڈالا تو عثمان بن مظعونؓ کا قرعہ ہمارے نام نکلا۔ وہ ہمارے پاس رہنے لگے۔ وہ بیمار ہو گئے ہم نے ان کی تیمار داری کی۔ آخر ان کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے انہیں کفن پہنایا تو رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اس وقت میں نے کہا:”ابو السائب! (یہ عثمان بن مظعونؓ کی کنیت تھی) اللہ تم پر رحم کرے۔ میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تمہیں عزت دی“ رسول اللہ نے مجھ سے پوچھا:”تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت دی؟“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے معلوم نہیں“ تب آپ نے فرمایا۔ عثمان بن مظعونؓ کی موت واقع ہو گئی اور مجھے اس کی بھلائی کی امید ہے۔ (لیکن یقین کے ساتھ میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا) اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں لیکن میں بھی نہیں جانتا کہ اس سے کیا سلوک کیا جانے والا ہے۔ ام علاء کہتی ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی کسی کی ایسی تعریف نہیں کی۔ [بخاری۔ کتاب الشہادات۔ باب القرعۃ فی المشکلات]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔