وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔
En
اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو
En
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 5) {وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} یہ استفہام انکار کے لیے ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک ان کی دعا قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں، بلکہ انھیں ان کے پکارنے کی خبر ہی نہیں۔ عام طور پر ان سے مراد پتھر اور بت لیے جاتے ہیں، مگر لفظ {”مَنْ“} ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس لیے اس سے مراد وہ سب ہستیاں ہیں جنھیں لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، جن میں انسان، جن، فرشتے، نبی، ولی، نیک، بد، زندہ، مردہ سب شامل ہیں۔ رہے پتھر، بت اور قبریں وغیرہ تو انھیں پکارتے اور پوجتے وقت بھی مشرکین دراصل ان بتوں یا قبروں کے بجائے ان ہستیوں ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں جن کے وہ بت یا قبریں ہیں، ورنہ انھیں بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کی پوجا کر لیتے۔ چنانچہ مشرکینِ عرب نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی صورتیں بنا کر رکھی ہوئی تھیں، جنھیں فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کعبہ سے نکالا گیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۲۸۸)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی کسی کی پکار نہ سنتا ہے نہ اس کی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات بار بار دہرائی ہے، فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ (13) اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» [فاطر: ۱۳، ۱۴] ”اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں۔ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ اور فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [الأعراف: ۱۹۴] ”بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا: «لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ۠ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ» [الرعد: ۱۴] ”برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگراس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بے سود۔“ قارئین {” لَا يَسْتَجِيْبُ “} کا مفہوم سمجھنے کے لیے تھوڑی زحمت کرکے ان مذکورہ بالا مقامات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی کسی کی پکار نہ سنتا ہے نہ اس کی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات بار بار دہرائی ہے، فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ (13) اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» [فاطر: ۱۳، ۱۴] ”اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں۔ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔“ اور فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [الأعراف: ۱۹۴] ”بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا: «لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ۠ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ» [الرعد: ۱۴] ”برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگراس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بے سود۔“ قارئین {” لَا يَسْتَجِيْبُ “} کا مفہوم سمجھنے کے لیے تھوڑی زحمت کرکے ان مذکورہ بالا مقامات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی یہی سب سے بڑے گمراہ ہیں جو پتھر کی مورتیوں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں جو قیامت تک جواب دینے سے قاصر۔ ہیں اور قاصر ہی نہیں بلکہ بالکل بیخبر ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ اور اس شخص سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتا ہے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے [6] سکتے بلکہ وہ ان کی پکار سے ہی بے خبر ہیں
[6] استجاب کے دو معنی اور مشرکوں کا رد :۔
یہاں استجاب کا لفظ دو قسم کے معنی دے رہا ہے اور دونوں ہی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ جو سن ہی نہیں سکتا وہ جواب کیا دے گا؟ جیسے کسی پتھر یا درخت سے یہ پوچھا جائے کہ مثلاً لاہور کس طرف ہے؟ تو جب وہ سنتا ہی نہیں تو جواب کیا دے سکتا ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا معنی کسی کی دعا یا پکار کو سن کر اس کو قبول کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ مثلاً میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس بیماری سے شفا دے اور اللہ تعالیٰ واقعی میری پکار کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور میری بیماری دور کر دیتا ہے تو میں کہوں گا میری دعا مستجاب ہو گئی۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ یہاں معبودوں سے مراد بے جان قسم کے معبود بھی ہیں۔ جو سن ہی نہیں سکتے اور جاندار بھی مثلاً فرشتے، جن اور زندہ بزرگ وغیرہ جو سن تو سکتے ہیں مگر اس دعا یا درخواست پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اور مشرکوں کی گمراہی اور انتہائی گمراہی یہ ہے کہ وہ اپنی درخواست اس چیز یا ہستی کے سامنے پیش کرتے ہیں جن پر عملدرآمد اس کے دائرہ اختیار میں ہے ہی نہیں۔ اس کی معمولی سی مثال یہ سمجھئے کہ ایک شخص اپنے گھر میں ٹیلیفون لگوانا چاہتا ہے لیکن وہ اپنی درخواست محکمہ پولیس کو بھیج دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس بے وقوف کی درخواست پر کبھی عمل درآمد نہ ہو سکے گا۔ بالکل یہ مثال ان مشرکوں کی ہے جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔
جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81]، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25]، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔
جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81]، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25]، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔