تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اولوا العزم سے تمام رسول مراد لینا درست نہیں، کیونکہ بعض رسولوں کے متعلق عزم کی نفی آئی ہے، جیسا کہ آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۵] ”پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ» [القلم: ۴۸] ”اور تو مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اس لیے اولوا العزم سے اونچے درجے کے صاحبِ عزم رسول مراد ہیں، اگرچہ ان کی تعیین مشکل ہے۔ مگر ان مفسرین کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ اگرچہ آدم علیہ السلام سے یہ فعل سر زد ہو گیا مگر بعد میں ان کا درجہ پہلے سے بھی اونچا ہو گیا، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى» [طٰہٰ: ۱۲۲] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ» [القلم: ۵۰] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کر دیا۔“ اس لیے توبہ کے بعد ان دونوں پیغمبروں کے بھی اولوا العزم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
➋ { وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ:} صبر کے حکم کے ساتھ ہی جلد بازی سے منع فرمایا، یعنی ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کریں کہ یہ لوگ جلدی ایمان کیوں نہیں لاتے، یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان پر جلدی عذاب کیوں نہیں آ جاتا۔
➌ { كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ …:} یعنی جب وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو انھیں ایسا معلوم ہو گا کہ وہ دنیا میں ایک ساعت سے زیادہ نہیں رہے، کیونکہ عذاب کی شدت انھیں سال و ماہ کی وہ مدت فراموش کروا دے گی جو انھوں نے دنیا میں بسر کی، جیسا کہ فرمایا: «قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ (112) قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ (113) قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» [المؤمنون: ۱۱۲ تا ۱۱۴] ”فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔ فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔“ کبھی انھیں وہ مدت ایک پہر معلوم ہو گی (دیکھیے نازعات: ۴۶) اور کبھی وہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ روم (۵۵)۔
➍ { بَلٰغٌ:} یہ {”هٰذَا“} کی خبر ہے، یعنی یہ قرآن تو پیغام کا پہنچا دینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ» [إبراھیم: ۵۲] ”یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے۔“
➎ { فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہو گئی، اب بھی اگر کوئی فسق اور نافرمانی میں پڑا رہتا ہے تو وہ اپنی شامت کو خود دعوت دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بے قصور نہیں پکڑا جاتا، وہاں وہی لوگ ہلاک کیے جاتے ہیں جو فاسق اور نافرمان ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[49] یعنی آج تو عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں کہ آتا کیوں نہیں، جب قیامت کو عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو کہیں گے اتنی جلدی عذاب کیوں آگیا۔ ہم تو دنیا میں بس ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے کہ عذاب آ گیا ہے۔ ویسے بھی انسان کی فطرت ہے کہ اسے مصیبت کی گھڑیاں تو بڑی طویل محسوس ہوتی ہیں لیکن عیش و آرام میں گزرے ہوئے سال ہا سال بھی چند گھڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ قیامت کا دن کس قدر سخت ہو گا۔ اس کا اندازہ کچھ ان کے جواب سے بھی ہو جاتا ہے۔
[50] یعنی اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ کے عذاب سے تباہ صرف اس کے نافرمان ہی کئے جاتے ہیں۔ جو اللہ کے عذاب کی تنبیہ کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انبیاء علیہ السلام کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورۃ الاحزاب اور سورۃ شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر علیہ السلام ہوں تو «من الرسل» کا «من» بیان جنس کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد اور آل محمد کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ [شرح السنة للبغوی4046ضعیف]
پھر فرمایا: اے نبی! یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا» ۔ [73-المزمل:11]
اور «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17]، یعنی کافروں کو مہلت دو، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو۔
پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کر لیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گزارا ہے۔
اور آیت میں ہے «أَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» [79-النازعات:46] یعنی ’ جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گزاری تھی ‘۔
«وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ» [10-یونس:45] یعنی ’ جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے ‘۔
پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لیے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے۔
پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے، عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لیے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«الحمدللہ» سورۃ الاحقاف کی تفسیر اختتام پذیر ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمر تعالى رسوله أن يصبِرَ على أذيَّة المكذِّبين المعادين له، وأن لا يزال داعياً لهم إلى الله، وأن يقتديَ بصبرِ أولي العزم من المرسَلين سادات الخَلْق أولي العزائم والهِمَم العالية، الذين عَظُم صَبْرُهم وتمَّ يقينُهم؛ فهم أحقُّ الخلق بالأسوة بهم والقفو لآثارهم والاهتداء بمنارِهِم، فامتثل - صلى الله عليه وسلم - لأمر ربِّه، فصبر صبراً لم يصبِرْه نبيٌّ قبله، حتى رماه المعادون له عن قوسٍ واحدةٍ، وقاموا جميعاً بصدِّه عن الدَّعوة إلى الله، وفعلوا ما يمكنهم من المعاداة والمحاربة، وهو - صلى الله عليه وسلم - لم يزل صادعاً بأمر الله، مقيماً على جهاد أعداء الله، صابراً على ما ينالُه من الأذى، حتى مكَّن الله له في الأرض، وأظهر دينَه على سائر الأديان وأمَّته على الأمم، فصلى الله عليه وسلم تسليماً.
وقوله: {ولا تستعجل لهم}؛ أي: لهؤلاء المكذِّبين المستعجلين للعذاب؛ فإنَّ هذا من جهلهم وحمقهم؛ فلا يستخفنَّكَ بجهلهم ولا يَحْمِلْك ما ترى من استعجالهم على أنْ تدعُوَ الله عليهم بذلك؛ فإنَّ كلَّ ما هو آتٍ قريبٌ، و {كأنَّهم} حين {يَرَوْنَ ما يوعدونَ لم يَلْبَثوا} في الدُّنيا {إلاَّ ساعةً من نهارٍ}؛ فلا يحزُنْك تمتُّعهم القليل وهم صائرون إلى العذاب الوبيل، {بلاغٌ}؛ أي: هذه الدنيا متاعها وشهواتها ولذَّاتها بلغةٌ منغصةٌ ودفعُ وقتٍ حاضر قليل، أو هذا القرآن العظيم ـ الذي بيَّنَّا لكم فيه البيانَ التامَّ ـ بلاغٌ لكم وزادٌ إلى الدار الآخرة، ونِعْم الزادُ والبلغةُ، زادٌ يوصل إلى دار النعيم، ويعصِمُ من العذابِ الأليم؛ فهو أفضل زاد يتزوَّده الخلائقُ، وأجلُّ نعمة أنعم الله بها عليهم، {فهل يُهْلَكُ}: بالعقوبات {إلاَّ القومُ الفاسقون}؛ أي: الذين لا خير فيهم، وقد خرجوا عن طاعة ربِّهم، ولم يَقْبَلوا الحقَّ الذي جاءتهم به الرسل، وأعذر الله لهم وأنذرهم، فبعد ذلك إذ يستمرُّون على تكذيبهم وكفرهم، نسأل الله العصمة.