فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّہُمۡ ؕ کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَ مَا یُوۡعَدُوۡنَ ۙ لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنۡ نَّہَارٍ ؕ بَلٰغٌ ۚ فَہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿٪۳۵﴾
پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کر، جس دن وہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو گویا وہ دن کی ایک گھڑی کے سوا نہیں رہے۔ یہ پہنچا دینا ہے، پھر کیا نافرمان لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک کیا جائے گا؟
En
پس (اے محمدﷺ) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو۔ جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ (یہ قرآن) پیغام ہے۔ سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے
En
پس (اے پیغمبر!) تم ایسا صبر کرو جیسا صبر عالی ہمت رسولوں نے کیا اور ان کے لئے (عذاب طلب کرنے میں) جلدی نہ کرو، یہ جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وعده دیئے جاتے ہیں تو (یہ معلوم ہونے لگے گا کہ) دن کی ایک گھڑی ہی (دنیا میں) ٹھہرے تھے، یہ ہے پیغام پہنچا دینا، پس بدکاروں کے سوا کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 35) ➊ { فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ:} توحید و رسالت اور قیامت کو دلائل سے ثابت کرنے اور کفار کے شہادت کا جواب دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و استقامت کی نصیحت فرمائی، کیونکہ آپ کو دعوت الی اللہ کے جواب میں کفار کی بدزبانی، استہزا اور اذیت رسانی سے شدید قلق اور سخت تکلیف ہوتی تھی، اس لیے فرمایا کہ اے نبی! جس طرح پختہ ارادے اور مضبوط عزم و ہمت والے رسولوں نے صبر کیا، آپ بھی صبر کریں۔ رہی یہ بات کہ ان اولوا العزم رسولوں سے مراد کون ہیں؟ تو عموماً پانچ رسولوں کو اولوا العزم کہا جاتا ہے جن میں نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام کے ساتھ پانچویں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ ان کا اکٹھا ذکر قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے، ایک سورۂ احزاب میں ہے، فرمایا: «وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا» [الأحزاب: ۷] ”اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا۔“ اور دوسری آیت سورۂ شوریٰ کی ہے، فرمایا: «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰۤى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ» [الشورٰی: ۱۳] ”اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہو جاؤ۔“ مگر ان آیات میں نہ ان پیغمبروں کے اولوا العزم ہونے کا ذکر ہے اور نہ دوسرے پیغمبروں کے اولوا العزم نہ ہونے کا، اس لیے اسے عام رکھا جائے اور {” مِنْ “} کو بیانیہ قرار دیا جائے تو بہتر ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ اس طرح صبر کر جس طرح پختہ ارادے والوں نے کیا، جو رسول تھے، جیسا کہ فرمایا: «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ» [الحج: ۳۰] ”پس گندگی سے بچو، جو بت ہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے پیغمبر اپنی قوم کی بے رخی، مخالفت اور ایذا رسانیوں کا جس طرح عزم و ہمت اور صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے اسی طرح آپ بھی کریں۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اولوا العزم سے تمام رسول مراد لینا درست نہیں، کیونکہ بعض رسولوں کے متعلق عزم کی نفی آئی ہے، جیسا کہ آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۵] ”پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ» [القلم: ۴۸] ”اور تو مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اس لیے اولوا العزم سے اونچے درجے کے صاحبِ عزم رسول مراد ہیں، اگرچہ ان کی تعیین مشکل ہے۔ مگر ان مفسرین کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ اگرچہ آدم علیہ السلام سے یہ فعل سر زد ہو گیا مگر بعد میں ان کا درجہ پہلے سے بھی اونچا ہو گیا، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى» [طٰہٰ: ۱۲۲] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ» [القلم: ۵۰] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کر دیا۔“ اس لیے توبہ کے بعد ان دونوں پیغمبروں کے بھی اولوا العزم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
➋ { وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ:} صبر کے حکم کے ساتھ ہی جلد بازی سے منع فرمایا، یعنی ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کریں کہ یہ لوگ جلدی ایمان کیوں نہیں لاتے، یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان پر جلدی عذاب کیوں نہیں آ جاتا۔
➌ { كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ …:} یعنی جب وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو انھیں ایسا معلوم ہو گا کہ وہ دنیا میں ایک ساعت سے زیادہ نہیں رہے، کیونکہ عذاب کی شدت انھیں سال و ماہ کی وہ مدت فراموش کروا دے گی جو انھوں نے دنیا میں بسر کی، جیسا کہ فرمایا: «قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ (112) قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ (113) قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» [المؤمنون: ۱۱۲ تا ۱۱۴] ”فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔ فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔“ کبھی انھیں وہ مدت ایک پہر معلوم ہو گی (دیکھیے نازعات: ۴۶) اور کبھی وہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ روم (۵۵)۔
➍ { بَلٰغٌ:} یہ {”هٰذَا“} کی خبر ہے، یعنی یہ قرآن تو پیغام کا پہنچا دینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ» [إبراھیم: ۵۲] ”یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے۔“
➎ { فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہو گئی، اب بھی اگر کوئی فسق اور نافرمانی میں پڑا رہتا ہے تو وہ اپنی شامت کو خود دعوت دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بے قصور نہیں پکڑا جاتا، وہاں وہی لوگ ہلاک کیے جاتے ہیں جو فاسق اور نافرمان ہوں۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اولوا العزم سے تمام رسول مراد لینا درست نہیں، کیونکہ بعض رسولوں کے متعلق عزم کی نفی آئی ہے، جیسا کہ آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۵] ”پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ» [القلم: ۴۸] ”اور تو مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اس لیے اولوا العزم سے اونچے درجے کے صاحبِ عزم رسول مراد ہیں، اگرچہ ان کی تعیین مشکل ہے۔ مگر ان مفسرین کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ اگرچہ آدم علیہ السلام سے یہ فعل سر زد ہو گیا مگر بعد میں ان کا درجہ پہلے سے بھی اونچا ہو گیا، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى» [طٰہٰ: ۱۲۲] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔“ اور یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ» [القلم: ۵۰] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کر دیا۔“ اس لیے توبہ کے بعد ان دونوں پیغمبروں کے بھی اولوا العزم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
➋ { وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ:} صبر کے حکم کے ساتھ ہی جلد بازی سے منع فرمایا، یعنی ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کریں کہ یہ لوگ جلدی ایمان کیوں نہیں لاتے، یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان پر جلدی عذاب کیوں نہیں آ جاتا۔
➌ { كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ …:} یعنی جب وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو انھیں ایسا معلوم ہو گا کہ وہ دنیا میں ایک ساعت سے زیادہ نہیں رہے، کیونکہ عذاب کی شدت انھیں سال و ماہ کی وہ مدت فراموش کروا دے گی جو انھوں نے دنیا میں بسر کی، جیسا کہ فرمایا: «قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ (112) قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ (113) قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» [المؤمنون: ۱۱۲ تا ۱۱۴] ”فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔ فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔“ کبھی انھیں وہ مدت ایک پہر معلوم ہو گی (دیکھیے نازعات: ۴۶) اور کبھی وہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ روم (۵۵)۔
➍ { بَلٰغٌ:} یہ {”هٰذَا“} کی خبر ہے، یعنی یہ قرآن تو پیغام کا پہنچا دینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ» [إبراھیم: ۵۲] ”یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے۔“
➎ { فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہو گئی، اب بھی اگر کوئی فسق اور نافرمانی میں پڑا رہتا ہے تو وہ اپنی شامت کو خود دعوت دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بے قصور نہیں پکڑا جاتا، وہاں وہی لوگ ہلاک کیے جاتے ہیں جو فاسق اور نافرمان ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35۔ 1 یہ کفار مکہ کے رویے کے مقابلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے اور صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ 35۔ 2 قیامت کا ہولناک عذاب دیکھنے کے بعد انہیں دنیا کی زندگی ایسے ہی معلوم ہوگی جیسے دن کی صرف ایک گھڑی یہاں گزار کر گئے ہیں۔ 35۔ 3 یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ہذا الذی وعظتھم بہ بلاغ یہ وہ نصحیت یا پیغام ہے جس کا پہچانا تیرا کام ہے۔ 35۔ 4 اس آیت میں بھی اہل ایمان کے لیے خوشخبری اور حوصلہ افزائی ہے کہ ہلاکت اخروی صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو اللہ کے نافرمان اور اس کی حدود پامال کرنے والے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ پس آپ صبر کیجئے جیسے اولو العزم [48] پیغمبر صبر کرتے رہے اور ان کے بارے میں جلدی نہ کیجئے۔ جس دن یہ لوگ وہ چیز دیکھ لیں گے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تو وہ یوں سمجھیں گے جیسے (دنیا میں) بس دن کی ایک ساعت [49] ہی ٹھہرے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ہے۔ تو اب کیا نافرمان لوگوں کے علاوہ کوئی [50] اور ہلاک ہو گا۔
[48] اولو العزم انبیاء کون کون سے ہیں :۔
ویسے تو سب انبیاء ہی اولوالعزم ہوتے ہیں تاہم عرف عام میں پانچ ہیں، سیدنا نوح، سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ، سیدنا عیسیٰ علیہم السلام اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آپ یہ چاہتے تھے کہ یا تو کفار مکہ ایمان لے آئیں یا پھر اللہ ان پر عذاب نازل کر دے۔ جس کا یہ ہر وقت مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ دیکھ لو اولوالعزم انبیاء نے کتنی مدت اپنے مخالفوں کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس معاملہ میں جلدی نہ کرنا چاہئے اور صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے۔
[49] یعنی آج تو عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں کہ آتا کیوں نہیں، جب قیامت کو عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو کہیں گے اتنی جلدی عذاب کیوں آگیا۔ ہم تو دنیا میں بس ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے کہ عذاب آ گیا ہے۔ ویسے بھی انسان کی فطرت ہے کہ اسے مصیبت کی گھڑیاں تو بڑی طویل محسوس ہوتی ہیں لیکن عیش و آرام میں گزرے ہوئے سال ہا سال بھی چند گھڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ قیامت کا دن کس قدر سخت ہو گا۔ اس کا اندازہ کچھ ان کے جواب سے بھی ہو جاتا ہے۔
[50] یعنی اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ کے عذاب سے تباہ صرف اس کے نافرمان ہی کئے جاتے ہیں۔ جو اللہ کے عذاب کی تنبیہ کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔
[49] یعنی آج تو عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں کہ آتا کیوں نہیں، جب قیامت کو عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو کہیں گے اتنی جلدی عذاب کیوں آگیا۔ ہم تو دنیا میں بس ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے کہ عذاب آ گیا ہے۔ ویسے بھی انسان کی فطرت ہے کہ اسے مصیبت کی گھڑیاں تو بڑی طویل محسوس ہوتی ہیں لیکن عیش و آرام میں گزرے ہوئے سال ہا سال بھی چند گھڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ قیامت کا دن کس قدر سخت ہو گا۔ اس کا اندازہ کچھ ان کے جواب سے بھی ہو جاتا ہے۔
[50] یعنی اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ کے عذاب سے تباہ صرف اس کے نافرمان ہی کئے جاتے ہیں۔ جو اللہ کے عذاب کی تنبیہ کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ کی قوم نے اگر آپ کو جھٹلایا، آپ کی قدر نہ کی، آپ کی مخالفت کی، ایذاء رسانی کے درپے ہوئے تو یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہی ہے؟ اگلے اولوالعزم پیغمبروں کو یاد کرو کہ کیسی کیسی ایذائیں، مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں اور کن کن زبردست مخالفوں کی مخالفت کو صبر سے برداشت کیا ان رسولوں کے نام یہ ہیں نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور خاتم الانبیاء اللھم صلی علیہم اجمعین۔
انبیاء علیہ السلام کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورۃ الاحزاب اور سورۃ شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر علیہ السلام ہوں تو «من الرسل» کا «من» بیان جنس کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد اور آل محمد کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ [شرح السنة للبغوی4046ضعیف]
پھر فرمایا: اے نبی! یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا» ۔ [73-المزمل:11]
اور «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17]، یعنی کافروں کو مہلت دو، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو۔
پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کر لیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گزارا ہے۔
اور آیت میں ہے «أَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» [79-النازعات:46] یعنی ’ جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گزاری تھی ‘۔
«وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ» [10-یونس:45] یعنی ’ جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے ‘۔
پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لیے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے۔
پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے، عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لیے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«الحمدللہ» سورۃ الاحقاف کی تفسیر اختتام پذیر ہوئی۔
انبیاء علیہ السلام کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورۃ الاحزاب اور سورۃ شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر علیہ السلام ہوں تو «من الرسل» کا «من» بیان جنس کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد اور آل محمد کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ [شرح السنة للبغوی4046ضعیف]
پھر فرمایا: اے نبی! یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا» ۔ [73-المزمل:11]
اور «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17]، یعنی کافروں کو مہلت دو، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو۔
پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کر لیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گزارا ہے۔
اور آیت میں ہے «أَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا» [79-النازعات:46] یعنی ’ جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گزاری تھی ‘۔
«وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ» [10-یونس:45] یعنی ’ جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے ‘۔
پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لیے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے۔
پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے، عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لیے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«الحمدللہ» سورۃ الاحقاف کی تفسیر اختتام پذیر ہوئی۔