ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 18

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾
یہی وہ لوگ ہیں جن پر بات ثابت ہو گئی ان امتوں سمیت جو جن و انس میں سے ان سے پہلے گزر چکیں، یقینا وہ خسارہ پانے والے تھے۔ En
یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) اُمتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ متحقق ہوگیا۔ بےشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے
En
وه لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعده صادق آگیا، ان جنات اور انسانوں کے گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، یقیناً یہ نقصان پانے والے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ:} یعنی والدین کے گستاخ اور آخرت کے منکر ہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی بات ثابت ہو چکی، جو اس نے پہلے فرما دی تھی: «‏‏‏‏لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» ‏‏‏‏ [ھود:۱۱۹] کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸)۔
➋ { فِيْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ:} یعنی جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں میں شامل ہو کر جو اہلِ جہنم میں سے ان سے پہلے گزرے۔ ان بدترین لوگوں کا ساتھ خود بدترین سزا ہے۔
➌ { اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ: إِنَّ} تعلیل کے لیے ہے، یعنی ان کا یہ انجام اس لیے ہوا کہ انھیں جو سرمایۂ حیات دنیا میں آخرت کی تیاری کے لیے دیا گیا تھا انھوں نے اس سے نفع حاصل کرنے کے بجائے اصل راس المال بھی گنوا دیا اور یہی حقیقی خسارہ ہے جو انھوں نے اٹھایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 جو پہلے اللہ کے علم میں تھا، یا شیطان کے جواب میں جو اللہ نے فرمایا تھا (لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ) 38۔ ص:85)۔ 18۔ 2 یعنی یہ بھی ان کافروں میں شامل ہوگئے جو انسانوں اور جنوں میں سے قیامت والے دن نقصان اٹھانے والے ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ یہی لوگ ہیں جن پر جنوں اور انسانوں کی ان سے پہلے کی جماعتوں سمیت اللہ کا (عذاب کا) قول صادق [28] آتا ہے بلا شبہ یہی لوگ خسارہ [29] اٹھانے والے ہیں۔
[28] یعنی ایسے ضدی لوگ جو نہ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ عقلی دلائل کو تسلیم کرتے ہیں ان پر اللہ کا یہ قول فٹ آتا ہے کہ میں جنوں اور انسانوں کی ایک کثیر تعداد سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اور یہ قول بھی دراصل ابلیس کی اس بات کے جواب میں ہے۔ جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کہی تھی کہ میں تیری ساری مخلوق کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ کوئی چند تیرے مخلص بندے میرے داؤ سے بچ جائیں تو الگ بات ہے۔ یہ آخرت کا منکر بیٹا بھی انہی جہنم میں داخل ہونے والوں یا بالفاظ دیگر ابلیس کے ہتھے چڑھنے والوں میں سے ہے۔
[29] آخرت کے منکر دنیا اور آخرت دونوں جگہ خسارے میں :۔
آخرت کے منکر کو دنیا میں تو یہ خسارہ ہوتا ہے کہ وہ گناہوں پر دلیر ہو کر ایمان و سعادت کا وہ بیج بھی ضائع کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہر آدمی کے دل میں فطری طور پر ڈال رکھا تھا۔ پھر جب وہ گناہوں پر ملامت کرنے والے ضمیر کا ہی گلا گھونٹ دیتا ہے تو اسے راہ راست پر لانے والی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور آخرت میں اس کا خسارہ یہ ہے کہ اگر اس نے زندگی میں کوئی اچھے کام کئے بھی تھے تو ان کا اسے کوئی صلہ نہ ملے گا۔ اس لیے کہ اس نے آخرت میں اجر ملنے کی نیت سے وہ کام کئے ہی نہ تھے۔ اس طرح اس کے گناہ ہی گناہ باقی رہ جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے ٭٭
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہو رہا ہے جو اپنے ماں باپ کے نافرمان ہیں انہیں باتیں سناتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لیے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما تو مسلمان ہو گئے تھے اور بہت اچھے اسلام والوں میں سے تھے بلکہ اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے بعض اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { مروان نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین کو یزید کے بارے میں ایک اچھی رائے سمجھائی ہے اگر وہ انہیں اپنے بعد بطور خلیفہ کے نامزد کر جائیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بھی تو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا ہے اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما بول اٹھے کہ کیا ہرقل کے دستور پر اور نصرانیوں کے قانون پر عمل کرنا چاہتے ہو؟ قسم ہے اللہ کی نہ تو خلیفہ اول نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلافت کے لیے منتخب کیا، نہ اپنے کنبے قبیلے والوں سے کسی کو نامزد کیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو اسے کیا وہ صرف ان کی عزت افزائی اور ان کے بچوں پر رحم کھا کر کیا، یہ سن کر مروان کہنے لگا کہ تو وہی نہیں جس نے اپنے والدین کو اف کہا تھا؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو ایک ملعون شخص کی اولاد میں سے نہیں؟ تیرے باپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر مروان سے کہا تو نے عبدالرحمٰن سے جو کہا وہ بالکل جھوٹ ہے وہ آیت ان کے بارے میں نہیں بلکہ وہ فلاں بن فلاں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر مروان جلدی ہی منبر سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر آیا اور کچھ باتیں کر کے لوٹ گیا۔ } [تفسیر ابن ابی حاتم:18572:حسن]‏‏‏‏
بخاری میں یہ حدیث دوسری سند سے اور الفاظ کے ساتھ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی طرف سے مروان حجاز کا امیر بنایا گیا تھا، اس میں یہ بھی ہے کہ مروان نے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لینے کا حکم اپنے سپاہیوں کو دیا لیکن یہ دوڑ کر اپنی ہمشیرہ صاحبہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں چلے گئے اس وجہ سے انہیں کوئی پکڑ نہ سکا۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ کبریٰ رضی اللہ عنہا نے پردہ میں سے ہی فرمایا کہ ہمارے بارے میں بجز میری پاک دامنی کی آیتوں کے اور کوئی آیت نہیں اتری }۔ [صحیح بخاری:4827]‏‏‏‏
نسائی کی روایت میں ہے کہ اس خطبے سے مقصود یزید کی طرف سے بیعت حاصل کرنا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ مروان اپنے قول میں جھوٹا ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے مجھے بخوبی معلوم ہے لیکن میں اس وقت اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتی لیکن ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ کو ملعون کہا ہے اور مروان اس کی پشت میں تھا، پس یہ اس اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بقیہ ہے۔ یہ جہاں اپنے ماں باپ کی بےادبی کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی بےادبی سے بھی نہیں چوکتا، مرنے کے بعد کی زندگی کو جھٹلاتا ہے اور اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ تم مجھے اس دوسری زندگی سے کیا ڈراتے ہو، مجھ سے پہلے سینکڑوں زمانے گزر گئے، لاکھوں کروڑوں انسان مرے، میں تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک بھی تو لوٹ کر خبر دینے نہیں آیا۔ ماں باپ بیچارے اس سے تنگ آ کر جناب باری سے اس کی ہدایت چاہتے ہیں، اس بارگاہ میں اپنی فریاد پہنچاتے ہیں اور پھر اس سے کہتے ہیں کہ بدنصیب ابھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی مسلمان بن جا لیکن یہ مغرور پھر جواب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو، میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جیسے گزشتہ جنات اور انسانوں کے زمرے میں داخل ہو گئے جنہوں نے خود اپنا نقصان بھی کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہاں لفظ «اولئک» ہے حالانکہ اس سے پہلے لفظ «والذی» ہے اس سے بھی ہماری تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کہ مراد اس سے عام ہے جو بھی ایسا ہو یعنی ماں باپ کا بے ادب اور قیامت کا منکر اس کے لیے یہی حکم ہے چنانچہ حسن اور قتادہ رحمہا اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کافر فاجر، ماں باپ کا نافرمان اور مر کر جی اٹھنے کا منکر ہے۔ [ضعیف]‏‏‏‏
ابن عساکر کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ چار شخصوں پر اللہ عزوجل نے اپنے عرش پر سے لعنت کی ہے اور اس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے جو کسی مسکین کو بہکائے اور کہے کہ آؤ تجھے کچھ دوں گا اور جب وہ آئے تو کہہ دے کہ میرے پاس تو کچھ نہیں اور جو «ماعون» سے کہے سب حاضر ہے حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو کسی کو اس کے اس سوال کے جواب میں فلاں کا مکان کون سا ہے؟ کسی دوسرے کا مکان بتا دیں اور وہ جو اپنے ماں باپ کو مارے یہاں تک کہ تنگ آ جائیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں۔