تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا: ”كَرِهَ يَكْرَهُ كَرْهًا وَ كُرْهًا وَ كَرَاهَةً وَ كَرَاهِيَةً“} (ع) {” اَلشَّيْءَ“ } یہ {”أَحَبَّ الشَّيْءَ“} کی ضد ہے، ناپسند کرنا۔ {”اَلْكَرْهُ “} اور {”اَلْكُرْهُ “} کا معنی انکار اور مشقت بھی ہے۔ {” كُرْهًا “} حال ہے: {”أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ كُرْهٍ“} یعنی اس کی ماں نے اسے اس حالت میں اٹھائے رکھا کہ وہ ناگواری یا مشقت والی تھی۔ یا اس سے پہلے حرف جار باء محذوف ہے، جس کے حذف کرنے سے اس پر نصب آیا ہے: {”أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ بِكُرْهٍ“} یعنی اس کی ماں نے اسے ناگواری یا مشقت کے ساتھ اٹھایا، {” وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا “} اور اسے ناگواری اور مشقت کے ساتھ جنا۔
➌ آیت میں اگرچہ ماں اور باپ دونوں کے ساتھ احسان کی تاکید کی گئی ہے، مگر ماں کی تین قربانیوں کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ حمل کی پوری مدت اسے اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس دوران اس پر کئی ناگوار حالتیں گزرتی ہیں، مثلاً متلی، بے چینی، تھکاوٹ، بیماری کی سی حالت، دن بدن بڑھتی ہوئی کمزوری، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ» [لقمان: ۱۴] ”اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری کی حالت میں اٹھائے رکھا۔“ خصوصاً حمل کے آخری ایام میں تو یہ بوجھ اس کی جان کا روگ بنا ہوتا ہے۔ حقیقت ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی ماں کا حق ادا کرنے کے لیے اسے کمزوری کی حالت میں اٹھا کر لیے پھرے تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ کہاں پوری مدتِ حمل مسلسل اپنے شکم میں اٹھائے پھرنا اور کہاں کسی وقت کچھ دیر کے لیے اٹھا لینا۔ پھر ماں ان سب ناگوار کیفیتوں کو آنے والے فرزند کی امید پر خوشی سے برداشت کرتی ہے، جب کہ اولاد اسے بوجھ سمجھ کر یا صرف اللہ کا حکم سمجھ کر اٹھاتی ہے، دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ دوسری قربانی وضع حمل کا نہایت تکلیف دہ مرحلہ ہے جس میں اس کی جان داؤ پر لگی ہوتی ہے، کتنی مائیں اس مرحلے میں جان سے گزر جاتی ہیں، وہ اپنے فرزند کی امید پر اس ناگوار مرحلے کو بھی برداشت کرتی ہے۔ تیسری قربانی دو سال تک اس کی پرورش، اپنے آرام کی قربانی دے کر اس کے لیے ہر آسائش مہیا کرنا اور اپنا خون دودھ کی صورت میں دو سال تک پلاتے جانا ہے۔ ان تین قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ رکھا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ؟ قَالَ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أَبُوْكَ] [بخاري، الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ: ۵۹۷۱] ”یا رسول اللہ! لوگوں میں سے میرے حسن محبت کا زیادہ حق دار کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری ماں۔“ اس نے کہا: ”پھر کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمھاری ماں۔“ اس نے کہا: ” پھر کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمھاری ماں۔“ اس نے کہا: ”پھر کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (چوتھی مرتبہ) فرمایا: ” پھر تمھارا باپ۔“
➍ {وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا:} اس آیت کو اور سورۂ لقمان کی آیت (۱۴): «وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۲۳۳): «وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ» (اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے) ان تینوں آیتوں کو ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ تیس ماہ میں سے دودھ پلانے کی مدت دو سال نکالی جائے تو باقی چھ ماہ بچتے ہیں۔ ابن کثیر نے سورۂ زخرف کی آیت (۸۱): «قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» کی تفسیر میں ابن جریر طبری سے نقل فرمایا ہے: [عَنْ بَعْجَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً مِّنْهُمْ دَخَلَتْ عَلٰی زَوْجِهَا، وَ هُوَ رَجُلٌ مِّنْهُمْ أَيْضًا، فَوَلَدَتْ لَهُ فِيْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَذَكَرَ ذٰلِكَ زَوْجُهَا لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی يَقُوْلُ فِيْ كِتَابِهِ: «وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» وَ قَالَ: «وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» قَالَ فَوَاللّٰهِ! مَا عَبِدَ عُثْمَانُ أَنْ بَعَثَ إِلَيْهَا تُرَدَّ] [الطبري: ۲۰ /۶۵۷، ح: ۳۱۲۷۰] ”بعجہ بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کی ایک عورت اپنے خاوند کے پاس آئی، وہ آدمی بھی اسی قبیلے کا تھا، تو اس عورت نے چھ مہینے میں بچے کو جنم دیا۔ اس کے خاوند نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو انھوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ اس پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: «وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» (کہ اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے) اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے)۔“ بعجہ بن یزید کہتے ہیں: ”تو اللہ کی قسم! عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کا کوئی انکار نہیں کیا اور فوراً آدمی بھیجا کہ اسے واپس لایا جائے۔“
ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند صحیح ہے۔ یہ استدلال نہایت مضبوط ہے، علی اور عثمان رضی اللہ عنھما کے علاوہ صحابہ کی ایک جماعت نے ان کی موافقت کی ہے۔ (ابن کثیر) ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”عورت جب نو (۹) ماہ میں بچہ جنے تو اسے اکیس (۲۱) ماہ دودھ پلانا کافی ہے، جب سات (۷) ماہ میں جنے تو اسے تیئیس (۲۳) ماہ دودھ پلانا کافی ہے اور جب چھ (۶) ماہ میں جنے تو پورے دو سال دودھ پلائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ”اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ [ابن أبي حاتم: ۱۸۵۶۷۔ ابن کثیر وقال المحقق سندہ حسن]
➎ { حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً …:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے والدین کا حق پہچاننے کے اعتبار سے دو قسم کے آدمیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں اس آدمی کا ذکر ہے جو اپنی جوانی کو پہنچتا ہے تو اپنے والدین کا حق پہچانتا ہے اور یہ پہچان اسے اپنے اصل مالک اور مربی کی پہچان اور اس کا شکر ادا کرنے تک پہنچا دیتی ہے۔ {” بَلَغَ اَشُدَّهٗ “} کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۲۲) کی تفسیر۔ اس سلسلے میں چالیس سال کی عمر کا ذکر بلوغت کی آخری حد کے طور پر فرمایا ہے، کیونکہ اس عمر میں آدمی کی قوتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے بعد انحطاط کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس آیت میں ہر جوان کو عموماً اور چالیس برس والے آدمی کو خصوصاً خبردار کیا گیا ہے کہ اسے چاہیے کہ اپنی پرورش کرنے والے والدین کا اور اپنے اور اپنے والدین کے اصل مربی اور مالک کا حق پہچانے اور اپنے اور اپنے والدین پر اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے اس سے توفیق مانگتا رہے، کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کوئی نیکی نہیں ہو سکتی اور ساتھ ہی اپنی اولاد کی اصلاح کی دعا بھی کرتا رہے۔ اس طرح والدین کے حقوق کی پہچان اور ان کی ادائیگی اس کے لیے اپنے رب کے حقوق کی پہچان، اس کی توحید پر استقامت، اس کی عبادت میں اخلاص اور اس کی نعمتوں پر شکر کا ذریعہ بن جائے گی، جو انسان کی زندگی کا اصل مقصود ہے۔
➏ { وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ:} عمل اگرچہ وہی صالح ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو اور اخلاص کے ساتھ ہو، مگر اخلاصِ نیت اور ریا سے پاک ہونے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا۔ یعنی مجھے ایسے عمل کی توفیق دے جو ظاہر میں درست یعنی تیری کتاب اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو اور حقیقت میں بھی تیری رضا کے مطابق اور تیری جناب میں قبول ہونے کے لائق ہو، یعنی اخلاصِ نیت پر مبنی اور ریا سے پاک ہو۔
➐ { وَ اَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ:} اس دعا میں دو الفاظ قابل غور ہیں، ایک {” لِيْ “} اور دوسرا{ ” فِيْ “۔ ” اَصْلِحْ لِيْ “} (میرے لیے اصلاح فرما دے) کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ایسی اصلاح فرما جس کا فائدہ مجھے بھی حاصل ہو۔ {” فِيْ ذُرِّيَّتِيْ “} یہاں بظاہر {”أَصْلِحْ لِيْ ذُرِّيَّتِيْ“} (میرے لیے میری اولاد کی اصلاح فرما دے) کافی تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ» [الأنبیاء: ۹۰] ”اور ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کی اصلاح فرما دی۔“ مگر {” فِيْ “} لانے کا مطلب یہ ہے کہ میری اولاد میں اصلاح کا عمل جاری و ساری فرما دے جو آگے تک چلتا رہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ» [الزخرف: ۲۸] ”اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنا دیا۔“
➑ { اِنِّيْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَ اِنِّيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ:} یعنی میں اپنی جوانی کی سرکشی اور جہالت سے اور تیری ہر قسم کی نافرمانی سے باز آ یا اور میں تیرے مکمل فرماں برداروں سے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خصوصی اہتمام کے ساتھ چالیس (۴۰) برس کی عمر میں اور اس کے بعد توبہ کی تجدید کرتے رہنا چاہیے۔
➒ یہ دعا اولاد کی اصلاح کے لیے اکسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تعلیم دی ہے اور یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، کیونکہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے قبول ہونے کی بشارت دی ہے، فرمایا: «نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ» ”ہم ان سے قبول کرتے ہیں۔“ جیسا کہ سورۂ فاتحہ ہے اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات والی دعائیں ہیں۔ اس لیے کسی صاحبِ اولاد کو، خصوصاً جو چالیس سال یا اس سے اوپر ہو اسے اس دعا سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ مالک بن مغول نے طلحہ بن مصرف کے پاس اپنے بیٹے کی شکایت کی تو انھوں نے فرمایا: ”اس کے لیے اس دعا سے مدد حاصل کرو۔“ [قرطبي: ۱۶ /۱۹۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس میں کمی ہو سکتی ہے۔ زیادتی نہیں۔ لہٰذا اگر کسی نے دو سال سے زیادہ عمر میں کسی عورت کا دودھ پی لیا ہو تو اس پر احکام رضاعت کا اطلاق نہ ہو گا یعنی وہ احکام جن کا نکاح سے تعلق ہے۔
(2) حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ چھ ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے تو وہ موجودہ خاوند کا نہیں بلکہ کسی اور مرد کا بچہ ہو گا۔ زیادہ واضح الفاظ میں وہ لڑکا ولد الزنا ہو گا۔ اور اس کا وراثت سے بھی کچھ تعلق نہ ہو گا اور بچے کی ماں کو زنا کی حد پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ طبی تحقیقات کے مطابق حمل کی کم از کم مدت 28 ہفتے قرار دی گئی ہے۔ اگر یہ تحقیق صحیح ہو تو بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے اس مسئلہ کے ہر دو پہلوؤں سے نزاکت اور اہمیت کے پیش نظر اس مدت میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے چھ ماہ کی مدت قرار دی ہے۔ چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہو تو والد یا عورت کا خاوند اس کے نسب سے انکار کرنے کا مجاز نہ ہو گا۔
(3) رضاعت کی مدت کی بہتر صورت یہ ہے کہ اگر بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو تو رضاعت کی مدت پورے دو سال یا چوبیس ماہ قرار دی جائے۔ اگر سات ماہ بعد پیدا ہو تو 23 ماہ، آٹھ ماہ بعد بعد پیدا ہو تو 22 ماہ اور نو ماہ بعد پیدا ہو تو 21 ماہ قرار دی جائے۔
(4) مدت کا شمار قمری مہینوں کے حساب سے ہو گا شمسی مہینوں سے نہیں۔
[23] یہ انسان کی عقل کی پختگی کی دلیل ہے کہ اسے اپنے پروردگار کے اور اپنے والدین کے احسانات کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور شکر کے لیے اللہ سے توفیق بھی طلب کرتا ہے۔ اور عملی طور پر اللہ کا شکر یوں ادا کرتا ہے اور اس کی توفیق چاہتا ہے جو اللہ کو پسند ہو۔ واضح رہے اللہ تعالیٰ کو وہی اعمال پسند ہیں جو خالصتاً اس کی رضا مندی کے لیے کئے جائیں۔ شریعت کی پابندیوں یعنی اسوہ رسول کے مطابق ہوں۔ ان میں ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔ اور بعد میں کوئی ایسا فعل نہ کیا جائے جو اس عمل کو برباد کرنے کا سبب بن جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» [17-الإسراء:23] یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ‘۔
اور آیت میں ہے «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14] یعنی ’ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا» [29-العنكبوت:8] ’ ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ ‘۔
ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورۃ لقمان کی آیت «وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۔ [31-لقمان:14]
اور اللہ عزوجل کا فرمان «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔
جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہو گیا، جوانی کی عمر میں پہنچ گیا، مردوں کی گنتی میں آیا اور چالیس سال کا ہوا، عقل پوری آئی، فہم و کمال کو پہنچا، حلم اور بردباری آ گئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو حالت اس کی ہوتی ہے عموماً پھر باقی عمر وہی رہتی ہے۔
مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان کب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے؟ تو فرمایا: جب تو چالیس سال کا ہو جائے تو اپنا بچاؤ مہیا کر لے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے }۔ [مجمع الزوائد204/10ضعیف]
یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:217/3:ضعیف]
بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حکمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیاء سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیاء تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہو گیا ہو گیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔
پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پرورودگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہو جائے اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیئے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع و رغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیئے۔
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بروایت روح الامین علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔“ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے“ }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:286/11:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا من لطفه تعالى بعباده وشكره للوالدين أن وصَّى الأولاد وعهد إليهم أن يحسنوا إلى والديهم بالقول اللطيف والكلام الليِّن وبَذْل المال والنفقة وغير ذلك من وجوه الإحسان، ثم نبَّه على ذكر السبب الموجب لذلك، فذكر ما تحمَّلته الأمُّ من ولدها، وما قاستْه من المكاره وقت حَمْلِها، ثم مشقَّة ولادتها المشقَّة الكبيرة، ثم مشقَّة الرضاع وخدمة الحضانة، وليست المذكوراتُ مدة يسيرة ساعة أو ساعتين، وإنما ذلك مدة طويلة قدرها {ثلاثون شهراً}: للحمل تسعة أشهر ونحوها، والباقي للرضاع، هذا الغالب. ويستدلُّ بهذه الآية مع قوله: {والوالداتُ يرضِعْن أولادهنَّ حولينِ كاملينِ}: أنَّ أقلَّ مدَّة الحمل ستة أشهر؛ لأنَّ مدَّة الرضاع وهي سنتان إذا سقطت منها السنتان؛ بقي ستة أشهر مدة للحمل، {حتى إذا بلغ أشُدَّه}؛ أي: نهاية قوَّته وشبابه وكمال عقله، {وبَلَغَ أربعين سنةً قال ربِّ أوْزِعْني}؛ أي: ألهمني ووفقني، {أنْ أشكر نعمتَك التي أنعمتَ عليَّ وعلى والديَّ}؛ أي: نعم الدين ونعم الدنيا، وشكره بصرف النعم في طاعة مسديها وموليها ومقابلة منَّته بالاعتراف والعجز عن الشكر والاجتهاد في الثناء بها على الله، والنعم على الوالدين نعم على أولادهم وذُرِّيَّتهم لأنَّهم لا بدَّ أن ينالهم منها ومن أسبابها وآثارها، خصوصاً نعم الدين؛ فإنَّ صلاح الوالدين بالعلم والعمل من أعظم الأسباب لصلاح أولادهم، {وأنْ أعمل صالحاً ترضاه}: بأنْ يكونَ جامعاً لما يصلِحُه سالماً مما يفسِدُه؛ فهذا العمل الذي يرضاه الله ويقبله ويثيبُ عليه، {وأصلحْ لي في ذُرِّيَّتي}: لما دعا لنفسه بالصلاح؛ دعا لذرِّيَّته أن يصلح الله أحوالهم، وذكر أنَّ صلاحهم يعود نفعه على والديهم؛ لقوله: {وأصلِحْ لي}. {إني تبتُ إليك}: من الذَّنوب والمعاصي ورجعت إلى طاعتك، {وإنِّي من المسلمين}.