ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 15

وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، اس کی ماں نے اسے ناگواری کی حالت میں اٹھائے رکھا اور اسے ناگواری کی حالت میں جنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دے، بے شک میں نے تیری طرف توبہ کی اور بے شک میں حکم ماننے والوں سے ہوں۔ En
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا۔ اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے۔ اور میرے لئے میری اولاد میں صلاح (وتقویٰ) دے۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
En
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ { وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسٰنًا:} سورت کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی نازل کردہ کتاب کے حق ہونے اور اس کی عبادت پر استقامت کا بیان فرمایا، اب ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کا بیان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حق توحید اور اخلاصِ عبادت کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۸۳)، بنی اسرائیل (۲۳، ۲۴)، عنکبوت (۸) اور سورۂ لقمان (۱۴، ۱۵)۔
➋ { حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا: كَرِهَ يَكْرَهُ كَرْهًا وَ كُرْهًا وَ كَرَاهَةً وَ كَرَاهِيَةً} (ع) { اَلشَّيْءَ } یہ {أَحَبَّ الشَّيْءَ} کی ضد ہے، ناپسند کرنا۔ {اَلْكَرْهُ } اور {اَلْكُرْهُ } کا معنی انکار اور مشقت بھی ہے۔ { كُرْهًا } حال ہے: {أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ كُرْهٍ} یعنی اس کی ماں نے اسے اس حالت میں اٹھائے رکھا کہ وہ ناگواری یا مشقت والی تھی۔ یا اس سے پہلے حرف جار باء محذوف ہے، جس کے حذف کرنے سے اس پر نصب آیا ہے: {أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ بِكُرْهٍ} یعنی اس کی ماں نے اسے ناگواری یا مشقت کے ساتھ اٹھایا، { وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا } اور اسے ناگواری اور مشقت کے ساتھ جنا۔
➌ آیت میں اگرچہ ماں اور باپ دونوں کے ساتھ احسان کی تاکید کی گئی ہے، مگر ماں کی تین قربانیوں کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ حمل کی پوری مدت اسے اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس دوران اس پر کئی ناگوار حالتیں گزرتی ہیں، مثلاً متلی، بے چینی، تھکاوٹ، بیماری کی سی حالت، دن بدن بڑھتی ہوئی کمزوری، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ» ‏‏‏‏ [لقمان: ۱۴] اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری کی حالت میں اٹھائے رکھا۔ خصوصاً حمل کے آخری ایام میں تو یہ بوجھ اس کی جان کا روگ بنا ہوتا ہے۔ حقیقت ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی ماں کا حق ادا کرنے کے لیے اسے کمزوری کی حالت میں اٹھا کر لیے پھرے تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ کہاں پوری مدتِ حمل مسلسل اپنے شکم میں اٹھائے پھرنا اور کہاں کسی وقت کچھ دیر کے لیے اٹھا لینا۔ پھر ماں ان سب ناگوار کیفیتوں کو آنے والے فرزند کی امید پر خوشی سے برداشت کرتی ہے، جب کہ اولاد اسے بوجھ سمجھ کر یا صرف اللہ کا حکم سمجھ کر اٹھاتی ہے، دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ دوسری قربانی وضع حمل کا نہایت تکلیف دہ مرحلہ ہے جس میں اس کی جان داؤ پر لگی ہوتی ہے، کتنی مائیں اس مرحلے میں جان سے گزر جاتی ہیں، وہ اپنے فرزند کی امید پر اس ناگوار مرحلے کو بھی برداشت کرتی ہے۔ تیسری قربانی دو سال تک اس کی پرورش، اپنے آرام کی قربانی دے کر اس کے لیے ہر آسائش مہیا کرنا اور اپنا خون دودھ کی صورت میں دو سال تک پلاتے جانا ہے۔ ان تین قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ رکھا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ؟ قَالَ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ ثُمَّ أَبُوْكَ] [بخاري، الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ: ۵۹۷۱] یا رسول اللہ! لوگوں میں سے میرے حسن محبت کا زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمھاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمھاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (چوتھی مرتبہ) فرمایا: پھر تمھارا باپ۔
➍ {وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا:} اس آیت کو اور سورۂ لقمان کی آیت (۱۴): «‏‏‏‏وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۲۳۳): «‏‏‏‏وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ‏‏‏‏ (اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے) ان تینوں آیتوں کو ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ تیس ماہ میں سے دودھ پلانے کی مدت دو سال نکالی جائے تو باقی چھ ماہ بچتے ہیں۔ ابن کثیر نے سورۂ زخرف کی آیت (۸۱): «‏‏‏‏قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» کی تفسیر میں ابن جریر طبری سے نقل فرمایا ہے: [عَنْ بَعْجَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً مِّنْهُمْ دَخَلَتْ عَلٰی زَوْجِهَا، وَ هُوَ رَجُلٌ مِّنْهُمْ أَيْضًا، فَوَلَدَتْ لَهُ فِيْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَذَكَرَ ذٰلِكَ زَوْجُهَا لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی يَقُوْلُ فِيْ كِتَابِهِ: «وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ‏‏‏‏ وَ قَالَ: «‏‏‏‏وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» ‏‏‏‏ قَالَ فَوَاللّٰهِ! مَا عَبِدَ عُثْمَانُ أَنْ بَعَثَ إِلَيْهَا تُرَدَّ] [الطبري: ۲۰ /۶۵۷، ح: ۳۱۲۷۰] بعجہ بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کی ایک عورت اپنے خاوند کے پاس آئی، وہ آدمی بھی اسی قبیلے کا تھا، تو اس عورت نے چھ مہینے میں بچے کو جنم دیا۔ اس کے خاوند نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو انھوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ اس پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: «‏‏‏‏وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ‏‏‏‏ (کہ اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے) اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «‏‏‏‏وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ» ‏‏‏‏ (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے)۔ بعجہ بن یزید کہتے ہیں: تو اللہ کی قسم! عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کا کوئی انکار نہیں کیا اور فوراً آدمی بھیجا کہ اسے واپس لایا جائے۔
ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند صحیح ہے۔ یہ استدلال نہایت مضبوط ہے، علی اور عثمان رضی اللہ عنھما کے علاوہ صحابہ کی ایک جماعت نے ان کی موافقت کی ہے۔ (ابن کثیر) ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: عورت جب نو (۹) ماہ میں بچہ جنے تو اسے اکیس (۲۱) ماہ دودھ پلانا کافی ہے، جب سات (۷) ماہ میں جنے تو اسے تیئیس (۲۳) ماہ دودھ پلانا کافی ہے اور جب چھ (۶) ماہ میں جنے تو پورے دو سال دودھ پلائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «‏‏‏‏وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ‏‏‏‏ اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔ [ابن أبي حاتم: ۱۸۵۶۷۔ ابن کثیر وقال المحقق سندہ حسن]
➎ { حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً …:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے والدین کا حق پہچاننے کے اعتبار سے دو قسم کے آدمیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں اس آدمی کا ذکر ہے جو اپنی جوانی کو پہنچتا ہے تو اپنے والدین کا حق پہچانتا ہے اور یہ پہچان اسے اپنے اصل مالک اور مربی کی پہچان اور اس کا شکر ادا کرنے تک پہنچا دیتی ہے۔ { بَلَغَ اَشُدَّهٗ } کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۲۲) کی تفسیر۔ اس سلسلے میں چالیس سال کی عمر کا ذکر بلوغت کی آخری حد کے طور پر فرمایا ہے، کیونکہ اس عمر میں آدمی کی قوتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے بعد انحطاط کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس آیت میں ہر جوان کو عموماً اور چالیس برس والے آدمی کو خصوصاً خبردار کیا گیا ہے کہ اسے چاہیے کہ اپنی پرورش کرنے والے والدین کا اور اپنے اور اپنے والدین کے اصل مربی اور مالک کا حق پہچانے اور اپنے اور اپنے والدین پر اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے اس سے توفیق مانگتا رہے، کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کوئی نیکی نہیں ہو سکتی اور ساتھ ہی اپنی اولاد کی اصلاح کی دعا بھی کرتا رہے۔ اس طرح والدین کے حقوق کی پہچان اور ان کی ادائیگی اس کے لیے اپنے رب کے حقوق کی پہچان، اس کی توحید پر استقامت، اس کی عبادت میں اخلاص اور اس کی نعمتوں پر شکر کا ذریعہ بن جائے گی، جو انسان کی زندگی کا اصل مقصود ہے۔
➏ { وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ:} عمل اگرچہ وہی صالح ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو اور اخلاص کے ساتھ ہو، مگر اخلاصِ نیت اور ریا سے پاک ہونے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا۔ یعنی مجھے ایسے عمل کی توفیق دے جو ظاہر میں درست یعنی تیری کتاب اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو اور حقیقت میں بھی تیری رضا کے مطابق اور تیری جناب میں قبول ہونے کے لائق ہو، یعنی اخلاصِ نیت پر مبنی اور ریا سے پاک ہو۔
➐ { وَ اَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ:} اس دعا میں دو الفاظ قابل غور ہیں، ایک { لِيْ } اور دوسرا{ فِيْ ۔ اَصْلِحْ لِيْ } (میرے لیے اصلاح فرما دے) کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ایسی اصلاح فرما جس کا فائدہ مجھے بھی حاصل ہو۔ { فِيْ ذُرِّيَّتِيْ } یہاں بظاہر {أَصْلِحْ لِيْ ذُرِّيَّتِيْ} (میرے لیے میری اولاد کی اصلاح فرما دے) کافی تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۹۰] اور ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کی اصلاح فرما دی۔ مگر { فِيْ } لانے کا مطلب یہ ہے کہ میری اولاد میں اصلاح کا عمل جاری و ساری فرما دے جو آگے تک چلتا رہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ» [الزخرف: ۲۸] اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنا دیا۔
➑ { اِنِّيْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَ اِنِّيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ:} یعنی میں اپنی جوانی کی سرکشی اور جہالت سے اور تیری ہر قسم کی نافرمانی سے باز آ یا اور میں تیرے مکمل فرماں برداروں سے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خصوصی اہتمام کے ساتھ چالیس (۴۰) برس کی عمر میں اور اس کے بعد توبہ کی تجدید کرتے رہنا چاہیے۔
➒ یہ دعا اولاد کی اصلاح کے لیے اکسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تعلیم دی ہے اور یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، کیونکہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے قبول ہونے کی بشارت دی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ» ‏‏‏‏ ہم ان سے قبول کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ فاتحہ ہے اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات والی دعائیں ہیں۔ اس لیے کسی صاحبِ اولاد کو، خصوصاً جو چالیس سال یا اس سے اوپر ہو اسے اس دعا سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ مالک بن مغول نے طلحہ بن مصرف کے پاس اپنے بیٹے کی شکایت کی تو انھوں نے فرمایا: اس کے لیے اس دعا سے مدد حاصل کرو۔ [قرطبي: ۱۶ /۱۹۵]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 اس مشقت و تکلیف کا ذکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں اس حکم احسان میں باپ سے مقدم ہے کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی کی تکلیف صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے باپ کی اس میں شرکت نہیں اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے ایک صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں اس نے پھر یہی پوچھا آپ نے یہی جواب دیا تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیاچھوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارا باپ۔ صحیح مسلم۔ 15۔ 2 فِصَا ل، ُ کے معنی، دودھ چھڑانا ہیں۔ اس سے بعض صحابہ نے استدلال کیا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ مہینے یعنی چھ مہینے کے بعد اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوجائے تو وہ بچہ حلال ہی ہوگا، حرام نہیں۔ اس لئے کہ قرآن نے مدت رضاعت دو سال (24) مہینے بتلائی ہے، اس حساب سے مدت حمل صرف چھ مہینے ہی باقی رہ جاتی ہے۔ 15۔ 3 کمال قدرت (اَشْدُّہُ) کے زمانے سے مراد جوانی ہے، بعض نے اسے 18 سال سے تعبیر کیا ہے، حتٰی کہ پھر بڑھتے بھڑتے چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا یہ عمر قوائے عقلی کے مکمل بلوغ کی عمر ہے اسی لیے مفسرین کی رائے ہے کہ ہر نبی کو چالیس سال کے بعد ہی نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ 15۔ 4 اَوْزِغنِیْ بمعنی اَلْھِمْنِیْ ہے، مجھے توفیق دے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے کہا کہ اس عمر کے بعد انسان کو یہ دعا کثرت سے پڑھتے رہنا چاہئے۔ یعنی ربی اَوْزغْنِیْ سے مِنَ الْمُسْلِمیْنَ تک۔ کو پہنچ گیا، یہ عمر قوائے عقلی کے مکمل بلوغ کی عمر ہے۔ اس لئے مفسرین کی رائے ہے کہ ہر نبی کو چالیس سال کے بعد ہی نبوت سے سرفراز کیا گیا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین سے اچھا [19] سلوک کرے۔ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی جنا [20]۔ اس کے حمل اور دودھ چھڑانے [21] میں تیس ماہ لگ گئے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچا اور چالیس سال [22] کا ہو گیا تو اس نے کہا: ”میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور یہ بھی کہ میں ایسے اچھے [23] عمل کروں جو تجھے پسند ہوں اور میری خاطر میری اولاد [24] کی اصلاح کر میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور بلا شبہ میں فرمانبردار ہوں۔
[19] والدین سے بہتر سلوک کے سلسلہ میں سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 اور 24 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
[20] والدہ حسن سلوک کی والد سے زیادہ حقدار ہے :۔
اس آیت میں پہلے ایک دفعہ ماں اور باپ دونوں سے بہتر سلوک کا حکم دیا۔ پھر تین بار صرف ماں کی خصوصی خدمات کا ذکر فرمایا۔ اور اس آیت کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے بہتر سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں، اس نے دوبارہ پوچھا، پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں“ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا۔ پھر چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”تیرا باپ“ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب من احق الناس بحسن الصحبۃ]
[21] رضاعت کی مدت شمار اور اس کے نتائج :۔
سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 233 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رضاعت کی پوری مدت دو سال ہے۔ البتہ اگر والدین کسی ضرورت کے تحت اس مدت میں کمی کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح سورۃ لقمان کی آیت نمبر 13 میں فرمایا کہ ماں کو دودھ چھڑانے میں دو سال لگ گئے۔ اور اس مقام پر فرمایا کہ حمل اور رضاعت کی مدت تیس ماہ ہے۔ ان سب آیات کو سامنے رکھنے سے درج ذیل مسائل کا پتا چلتا ہے۔
(1) رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس میں کمی ہو سکتی ہے۔ زیادتی نہیں۔ لہٰذا اگر کسی نے دو سال سے زیادہ عمر میں کسی عورت کا دودھ پی لیا ہو تو اس پر احکام رضاعت کا اطلاق نہ ہو گا یعنی وہ احکام جن کا نکاح سے تعلق ہے۔
(2) حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ چھ ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے تو وہ موجودہ خاوند کا نہیں بلکہ کسی اور مرد کا بچہ ہو گا۔ زیادہ واضح الفاظ میں وہ لڑکا ولد الزنا ہو گا۔ اور اس کا وراثت سے بھی کچھ تعلق نہ ہو گا اور بچے کی ماں کو زنا کی حد پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ طبی تحقیقات کے مطابق حمل کی کم از کم مدت 28 ہفتے قرار دی گئی ہے۔ اگر یہ تحقیق صحیح ہو تو بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے اس مسئلہ کے ہر دو پہلوؤں سے نزاکت اور اہمیت کے پیش نظر اس مدت میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے چھ ماہ کی مدت قرار دی ہے۔ چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہو تو والد یا عورت کا خاوند اس کے نسب سے انکار کرنے کا مجاز نہ ہو گا۔
(3) رضاعت کی مدت کی بہتر صورت یہ ہے کہ اگر بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو تو رضاعت کی مدت پورے دو سال یا چوبیس ماہ قرار دی جائے۔ اگر سات ماہ بعد پیدا ہو تو 23 ماہ، آٹھ ماہ بعد بعد پیدا ہو تو 22 ماہ اور نو ماہ بعد پیدا ہو تو 21 ماہ قرار دی جائے۔
(4) مدت کا شمار قمری مہینوں کے حساب سے ہو گا شمسی مہینوں سے نہیں۔
[22] پختگی کی عمر کتنی ہے؟
اگرچہ انسان کی جسمانی قوت اور طاقت چالیس سال سے پہلے ہی اپنے نقطہ عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ تاہم اس میں عقل کی پختگی چالیس سال تک ہی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کو نبوت چالیس سال کی عمر میں یا اس کے بعد عطا کی جاتی رہی۔ البتہ عیسیٰؑ اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں۔ جیسے آپ کی اور بھی کئی باتیں اعجازی حیثیت رکھتی ہیں۔ ویسے ہی نبوت بھی آپ کو تیس سال کی عمر میں عطا ہوئی اور 33 سال کی عمر میں آپ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔
[23] یہ انسان کی عقل کی پختگی کی دلیل ہے کہ اسے اپنے پروردگار کے اور اپنے والدین کے احسانات کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور شکر کے لیے اللہ سے توفیق بھی طلب کرتا ہے۔ اور عملی طور پر اللہ کا شکر یوں ادا کرتا ہے اور اس کی توفیق چاہتا ہے جو اللہ کو پسند ہو۔ واضح رہے اللہ تعالیٰ کو وہی اعمال پسند ہیں جو خالصتاً اس کی رضا مندی کے لیے کئے جائیں۔ شریعت کی پابندیوں یعنی اسوہ رسول کے مطابق ہوں۔ ان میں ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔ اور بعد میں کوئی ایسا فعل نہ کیا جائے جو اس عمل کو برباد کرنے کا سبب بن جائے۔
[24] سیدنا ابو بکر صدیقؓ پر خصوصی احسان :۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں صرف سیدنا ابو بکر صدیقؓ ہی ایسے خوش قسمت تھے جو خود بھی مسلمان، ان کے والدین بھی مسلمان اور اولاد بھی مسلمان تھی اور ان سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ صحابہ میں یہ خصوصیت اور کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

والدین سے بہترین سلوک کرو ٭٭
اس سے پہلے چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کے اخلاص کا اور اس پر استقامت کرنے کا حکم ہوا تھا اس لیے یہاں ماں باپ کے حقوق کی بجا آوری کا حکم ہو رہا ہے۔ اسی مضمون کی اور بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔
جیسے فرمایا «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا» [17-الإسراء:23]‏‏‏‏ یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ‘۔
اور آیت میں ہے «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان:14]‏‏‏‏ یعنی ’ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا» [29-العنكبوت:8]‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو حکم کیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ان سے تواضع سے پیش آؤ ‘۔
ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ { سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے آپ سے کہا کہ کیا ماں باپ کی اطاعت کا حکم اللہ نے نہیں دیا؟ سن میں نہ کھانا کھاؤں گی، نہ پانی پیوں گی، جب تک تو اللہ عزوجل کے ساتھ کفر نہ کرے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے انکار پر اس نے یہی کیا کہ کھانا پینا چھوڑ دیا یہاں تک کہ لکڑی سے اس کا منہ کھول کر جبراً پانی وغیرہ چھوا دیتے، اس پر یہ آیت اتری یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے }۔ [صحیح مسلم:1748]‏‏‏‏
ماں نے حالت حمل میں کیسی کچھ تکلیفیں برداشت کی ہیں؟ اسی طرح بچہ ہونے کے وقت کیسی کیسی مصیبتوں کا وہ شکار بنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے اور اس کے ساتھ سورۃ لقمان کی آیت «وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۔ [31-لقمان:14]‏‏‏‏
اور اللہ عزوجل کا فرمان «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233]‏‏‏‏ یعنی مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں ان کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں ملا کر استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یہ استدلال بہت قوی اور بالکل صحیح ہے۔
سیدنا عثمان اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے بھی اس کی تائید کی ہے { معمر بن عبداللہ جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ تولد ہوا اس کے خاوند نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا آپ نے اس عورت کے پاس آدمی بھیجا وہ تیار ہو کر آنے لگی تو ان کی بہن نے گریہ و زاری شروع کر دی اس بیوی صاحبہ نے اپنی بہن کو تسکین دی اور فرمایا: کیوں روتی ہو، اللہ کی قسم! اس کی مخلوق میں سے کسی سے میں نہیں ملی میں نے کبھی کوئی برا فعل نہیں کیا، تو دیکھو کہ اللہ کا فیصلہ میرے بارے میں کیا ہوتا ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آئیں تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خلیفۃ المسلمین سے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس عورت کو نکاح کے چھ مہینے کے بعد بچہ ہوا ہے جو ناممکن ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ فرمایا: ہاں پڑھا ہے فرمایا: کیا یہ آیت نہیں پڑھی «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15]‏‏‏‏ اور ساتھ ہی یہ آیت بھی «حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ» [2-البقرة:233]‏‏‏‏ پس مدت حمل اور مدت دودھ پلائی دونوں کے مل کر تیس مہینے اور اس میں سے جب دودھ پلائی کی کل مدت دو سال کے چوبیس وضع کر دئیے جائیں تو باقی چھ مہینے رہ جاتے ہیں، تو قرآن کریم سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے اور اس بیوی صاحبہ کو بھی اتنی ہی مدت میں بچہ ہوا، پھر اس پر زنا کا الزام کیسے قائم کر رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! یہ بات بہت ٹھیک ہے، افسوس میرا خیال ہے میں اس طرف نہیں گیا، جاؤ اس عورت کو لے آؤ پس لوگوں نے اس عورت کو اس حال پر پایا کہ اسے فراغت ہو چکی تھی۔ معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، واللہ! ایک کوا دوسرے کوے سے اور ایک انڈا دوسرے انڈے سے بھی اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا یہ بچہ اپنے باپ سے مشابہ تھا، خود اس کے والد نے بھی اسے دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! اس بچے کے بارے میں مجھے اب کوئی شک نہیں رہا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناسور کے ساتھ مبتلا کیا جو اس کے چہرے پر تھا وہ ہی اسے گھلاتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا }۔ ابن ابی حاتم [الدالمنثورللسیوطی9/6]‏‏‏‏
یہ روایت دوسری سند سے «فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81]‏‏‏‏ کی تفسیر میں ہم نے وارد کی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کسی عورت کو نو مہینے میں بچہ ہو تو اس کی دودھ پلائی کی مدت اکیس ماہ کافی ہیں اور جب سات مہینے میں ہو تو مدت رضاعت تئیس ماہ اور جب چھ ماہ میں بچہ ہو جائے تو مدت رضاعت دو سال کامل اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔
جب وہ اپنی پوری قوت کے زمانے کو پہنچا یعنی قوی ہو گیا، جوانی کی عمر میں پہنچ گیا، مردوں کی گنتی میں آیا اور چالیس سال کا ہوا، عقل پوری آئی، فہم و کمال کو پہنچا، حلم اور بردباری آ گئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں جو حالت اس کی ہوتی ہے عموماً پھر باقی عمر وہی رہتی ہے۔
مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان کب اپنے گناہوں پر پکڑا جاتا ہے؟ تو فرمایا: جب تو چالیس سال کا ہو جائے تو اپنا بچاؤ مہیا کر لے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب مسلمان بندہ چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف جھکنا نصیب فرماتا ہے اور جب ستر سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ثابت رکھتا ہے اور اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے گھرانے کے آدمیوں کے بارے میں اسے شفاعت کرنے والا بناتا ہے اور آسمانوں میں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی زمین میں اس کا قیدی ہے }۔ [مجمع الزوائد204/10ضعیف]‏‏‏‏
یہ حدیث دوسری سند سے مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:217/3:ضعیف]‏‏‏‏
بنو امیہ کے دمشقی گورنر حجاج بن عبداللہ حکمی فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں تو میں نے نافرمانیوں اور گناہوں کو لوگوں کی شرم و حیاء سے چھوڑا تھا اس کے بعد گناہوں کے چھوڑنے کا باعث خود ذات اللہ سے حیاء تھی۔ عرب شاعر کہتا ہے بچپنے میں ناسمجھی کی حالت میں تو جو کچھ ہو گیا ہو گیا لیکن جس وقت بڑھاپے نے منہ دکھایا تو سر کی سفیدی نے خود ہی برائیوں سے کہہ دیا کہ اب تم کوچ کر جاؤ۔
پھر اس کی دعا کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا میرے پرورودگار میرے دل میں ڈال کہ تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور میں وہ اعمال کروں جن سے تو مستقبل میں خوش ہو جائے اور میری اولاد میں میرے لیے اصلاح کر دے یعنی میری نسل اور میرے پیچھے والوں میں، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میرا اقرار ہے کہ میں فرنبرداروں میں ہوں۔ اس میں ارشاد ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر انسان کو پختہ دل سے اللہ کی طرف توبہ کرنی چاہیئے اور نئے سرے سے اللہ کی طرف رجوع و رغبت کر کے اس پر جم جانا چاہیئے۔
ابوداؤد میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات میں پڑھنے کے لیے اس دعا کی تعلیم کیا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمِكَ مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمِمْهَا عَلَيْنَا» یعنی، اے اللہ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال اور ہمارے آپس میں اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہیں دکھا اور ہمیں اندھیروں سے بچا کر نور کی طرف نجات دے اور ہمیں ہر برائی سے بچا لے، خواہ وہ ظاہر ہو، خواہ چھپی ہوئی ہو اور ہمیں ہمارے کانوں میں اور آنکھوں میں اور دلوں میں اور بیوی بچوں میں برکت دے اور ہم پر رجوع فرما، یقیناً تو رجوع فرمانے والا مہربان ہے اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور ان کے باعث اپنا ثنا خواں اور نعمتوں کا اقراری بنا اور اپنی بھرپور نعمتیں ہمیں عطا فرما }۔[سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے یہ جن کا بیان گزرا جو اللہ کی طرف توبہ کرنے والے اس کی جانب میں جھکنے والے اور جو نیکیاں چھوٹ جائیں انہیں کثرت استغفار سے پا لینے والے ہی وہ ہیں جن کی اکثر لغزشیں ہم معاف فرما دیتے ہیں اور ان کے تھوڑے نیک اعمال کے بدلے ہم انہیں جنتی بنا دیتے ہیں ان کا یہی حکم ہے جیسے کہ وعدہ کیا اور فرمایا یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بروایت روح الامین علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: انسان کی نیکیاں اور بدیاں لائی جائیں گی اور ایک کو ایک کے بدلے میں کیا جائے گا پس اگر ایک نیکی بھی بچ رہی تو اللہ تعالیٰ اسی کے عوض اسے جنت میں پہنچا دے گا۔‏‏‏‏ راوی حدیث نے اپنے استاد سے پوچھا اگر تمام نیکیاں ہی برائیوں کے بدلے میں چلی جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ان کی برائیوں سے اللہ رب العزت تجاوز فرما لیتا ہے[تفسیر ابن جریر الطبری:286/11:ضعیف]‏‏‏‏
دوسری سند میں یہ بفرمان اللہ عزوجل مروی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند بہت پختہ ہے، یوسف بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ پر غالب آئے اس وقت میرے ہاں مجمد بن حاطب رحمہ اللہ آئے۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس وقت سیدنا عمار، صعصعہ، اشتر، محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بعض لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نکالا اور کچھ گستاخی کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، ہاتھ میں چھڑی تھی۔ حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے تو آپ کی اس بحث کا صحیح محاکمہ کرنے والے موجود ہی ہیں، چنانچہ سب لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: عثمان ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [46-الأحقاف:16]‏‏‏‏ قسم اللہ کی یہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے ساتھی، تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی یوسف کہتے ہیں میں نے محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے پوچھا: سچ کہو، تمہیں اللہ کی قسم تم نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، قسم اللہ کی میں نے خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے }۔