اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ ایک تصدیق کرنے والی کتاب عربی زبان میں ہے، تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے ظلم کیا اور نیکی کرنے والوں کے لیے بشارت ہو۔
En
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت۔ اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے
(آیت 12) ➊ {وَمِنْقَبْلِهٖكِتٰبُمُوْسٰۤىاِمَامًاوَّرَحْمَةً: ”كِتٰبُمُوْسٰۤى“} کا عطف {”شَاهِدٌ“} پر ہے اور {”قَبْلِهٖ“} کی ضمیر اس {”شَاهِدٌ“} کی طرف جا رہی ہے: {”أَيْشَهِدَشَاهِدٌمِنْبَنِيْإِسْرَائِيْلَعَلٰيمِثْلِهِوَشَهِدَمِنْقَبْلِهِكِتَابُمُوْسٰيعَلٰيمِثْلِهِ“} یعنی بنی اسرائیل کے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی اور اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نے بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دی جو لوگوں کی پیشوائی کرنے والی تھی۔ لوگ اس کی پیروی اور اس کے احکام پر عمل کرتے تھے (دیکھیے مائدہ: ۴۴) اور وہ لوگوں کے لیے سراسر رحمت تھی۔ ➋ اکثر مفسرین نے {”قَبْلِهٖ“} کی ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے، یعنی اس قرآن سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی، لیکن مجھے وہ ترکیب بہتر معلوم ہوتی ہے جو اوپر ذکر ہوئی۔ ➌ { وَهٰذَاكِتٰبٌمُّصَدِّقٌلِّسَانًاعَرَبِيًّا:} اور یہ کتاب یعنی قرآن موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے، یعنی یہ عین ان پیش گوئیوں کے مطابق ہے جو تورات میں کی گئی تھیں، جس سے اس کی تصدیق ہوتی ہے اور دونوں کی بنیادی تعلیم بھی ایک ہے۔ حالانکہ وہ عبرانی زبان میں تھی اور یہ عربی زبان میں ہے اور ایسے شخص پر نازل ہوئی جو عبرانی جانتا ہی نہیں بلکہ اُمی ہے، عربی بھی نہیں پڑھ سکتا۔ یہ دلیل ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں جو تمام زبانیں پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ➍ {لِّيُنْذِرَالَّذِيْنَظَلَمُوْا …:} تاکہ یہ ان لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائے جنھوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے عظیم خوش خبری ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (تورات) جو رہنما اور رحمت تھی، موجود تھی۔ اور یہ کتاب (قرآن) اس کی تصدیق کرنے والی ہے۔ جو عربی [17] زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کرے اور نیک عمل کرنے والوں کو بشارت دے۔
[17] نبی آخر الزمان کی بعثت سے ہزاروں برس پہلے تورات نے جو اصولی تعلیم دی تھی۔ انبیاء و اولیاء کی ایک کثیر تعداد اسی تعلیم سے رہنمائی حاصل کرتی رہی۔ اس کتاب نے بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے راستی اور ہدایت کی راہ ڈال دی اور یہ لوگوں پر اللہ کی بہت بڑی رحمت تھی۔ اور یہ موجودہ کتاب قرآن بھی تورات کو سچا ثابت کرتا ہے۔ گویا یہ دونوں کتابیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اور ان دونوں کتابوں میں مجرموں کے لیے وعید اور نیک لوگوں کے لیے جنت کی بشارت موجود ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُاَعْلَمُ»
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔