تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ:} یہاں ایک لمبی بات کو مختصر فرما دیا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی آیات سن کر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ کے بعد کون سی ہستی ہے اور اس کی آیات کے بعد کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حدیث شریف میں ہے کہ { قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بے قدری کریں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2990]
پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے۔
پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لیے سخت اور المناک عذاب ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قسَّم تعالى الناسَ بالنسبة إلى الانتفاع بآياتِهِ وعدمِهِ إلى قسمين:
قسمٌ يستدلُّون بها، ويتفكَّرون بها، وينتفعون فيرتفعون، وهم المؤمنون باللهِ وملائكتِهِ وكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر إيماناً تامًّا، وصل بهم إلى درجة اليقين، فزكَّى منهم العقول، وازدادتْ به معارفُهم وألبابُهم وعلومُهم.
وقسمٌ يسمعُ آيات الله سماعاً تقومُ به الحجةُ عليه، ثم يعرِض عنها ويستكبرُ، كأنه ما سمعها؛ لأنها لم تزكِّ قلبه ولا طهَّرته، بل بسبب استكباره عنها؛ ازداد طغيانُهُ، وأنه إذا علم من آيات الله شيئاً؛ اتَّخذها هزواً، فتوعَّده الله تعالى بالويل، فقال: {ويلٌ لكلِّ أفَّاكٍ أثيم}؛ أي: كذابٍ في مقاله، أثيمٍ في فعاله، وأخبر أن له عذاباً أليماً، وأن {من ورائهم جهنَّم}: تكفي في عقوبتهم البليغة، وأنه {لا يُغني عنهم ما كَسَبوا}: من الأموال {شيئاً ولا ما اتَّخذوا من دون اللهِ أولياءَ}: يستنصرون بهم، فخذلوهم أحوجَ ما كانوا إليهم لو نفعوا.