ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 29

ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّا کُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾
یہ ہماری کتاب ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے، بے شک ہم لکھواتے جاتے تھے ، جو تم عمل کرتے تھے۔ En
یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں
En
یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ { هٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ:} اس میں { يَنْطِقُ } کا لفظ قابلِ توجہ ہے، کیونکہ کتاب تو پڑھی جاتی ہے مگر وہ کتاب بول کر سب کچھ ٹھیک ٹھیک بتائے گی۔ عموماً مفسرین لکھتے آئے ہیں کہ یہ استعارہ ہے، مگر اب ثابت ہو رہا ہے کہ یہ استعارہ نہیں بلکہ حقیقت ہے اور وہ کتاب فی الواقع بولے گی۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو بہت ہی بلند ہے اور قیامت کا معاملہ دنیا سے بہت مختلف ہے، مگر اب انسان نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل سے ایسی ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جو وہ سب کچھ دکھا اور سنا دیتی ہیں جو انسان کرتا ہے یا بولتا ہے۔ البتہ وہ کسی کی نیت کو سامنے نہیں لا سکتیں، مگر اللہ تعالیٰ کی تیار کروائی ہوئی وہ کتاب لوگوں کے افعال، اقوال، احوال اور نیتیں سب کچھ سامنے لے آئے گی۔
➋ {اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اس دن وہ کتاب اتنی مدت بعد کیسے بول کر بتائے گی؟ انھوں نے تو وہ اعمال دنیا میں کیے تھے جو دنیا کے ساتھ ہی ختم ہو گئے۔ فرمایا اس لیے کہ تم جو کچھ کیا کرتے تھے ہم فرشتوں کے ذریعے سے لکھوا لیا کرتے تھے، تاکہ وہ سند رہیں اور قیامت کے دن تم پر حجت قائم ہو سکے، ورنہ ہمیں تو ہر چیز کا پہلے ہی سے علم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی ہمارے علم کے علاوہ، فرشتے بھی ہمارے حکم سے تمہاری ہر چیز نوٹ کرتے اور محفوظ رکھتے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ یہ ہمارا (لکھوایا ہوا) اعمال نامہ ہے جو تمہارے متعلق ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گا جو کچھ تم عمل کیا کرتے تھے۔ بلا شبہ ہم (ساتھ ساتھ انہیں) لکھواتے [42] جاتے تھے۔
[42] انفرادی اور اجتماعی اعمال نامے، اعمال ناموں کی حقیقت :۔
لکھنے اور لکھوانے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کسی کاغذ پر قلم اور روشنائی کے ساتھ کچھ تحریر کیا جائے۔ انسان خود ایسی ایجادات کر چکا ہے جس سے کسی کے اعمال، حرکات و سکنات، گفتگو اور لب و لہجہ سب کچھ دوسروں کے سامنے آجاتا ہے اور دوسرے اسے دیکھ اور سن سکتے ہیں اور ابھی جو کچھ مزید انسان ایجادات کرے گا وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ لکھوایا ہوا ریکارڈ صرف حرکات و سکنات اور اقوال ہی پیش نہیں کرے گا، بلکہ دلوں میں پیدا شدہ خیالات اور وساوس تک کو سامنے لا رکھے گا۔ پھر یہ ریکارڈ ہر شخص کا انفرادی بھی موجود ہو گا اور ایک ہی قسم کے لوگوں کا اجتماعی بھی اور ان کی اجتماعی کوششوں کا بھی۔ اور یہ اعمال نامے انفرادی طور پر بھی ہر ایک کے حوالہ کئے جائیں اور اجتماعی بھی۔ ایسے ہی الگ الگ فرقوں کے گروہوں کو اپنے اپنے اعمال نامے دیکھنے کے لیے بلایا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔