وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں گے۔
En
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے
En
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل بڑے نقصان میں پڑیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 27) ➊ { وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} پچھلی آیت میں پہلی دفعہ زندگی بخشنے اور موت دینے کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا، اس آیت میں آسمان و زمین یعنی ساری کائنات کے اکیلے مالک ہونے کو قیامت کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ملکیت میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ ساری کائنات بنا سکتا ہے، اسے فنا بھی کر سکتا ہے اور پھر دوبارہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس کے بعد قیامت کے کچھ احوال ذکر فرمائے۔
➋ { وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ:} جس طرح کوئی تاجر اپنے سرمائے کے ذریعے سے نفع حاصل کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو زندگی، صحت اور عقل کا سرمایہ عطا فرما کر آخرت کی کامیابی کا نفع حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے کا حکم دیا۔ اہل باطل یعنی کفار نے اپنے اس عزیز سرمائے کے ذریعے سے نفع حاصل کرنے کے بجائے اسے اللہ کے ساتھ شرک، اس کی نافرمانی اور قیامت کا انکار کرنے میں صرف کر دیا اور صریح خسارے میں رہے۔ اس خسارے کا پوری طرح اظہار اس وقت ہو گا جب قیامت قائم ہو گی، کیونکہ دنیا میں تو اس خسارے کی تلافی کا پھر بھی موقع موجود ہے مگر اس وقت بازارِ عمل میں واپس جانے کی اجازت ہی نہیں ہو گی کہ وہ اپنے خسارے کی تلافی کر سکیں۔ خسارے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عصر کی تفسیر۔
➋ { وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ:} جس طرح کوئی تاجر اپنے سرمائے کے ذریعے سے نفع حاصل کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو زندگی، صحت اور عقل کا سرمایہ عطا فرما کر آخرت کی کامیابی کا نفع حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے کا حکم دیا۔ اہل باطل یعنی کفار نے اپنے اس عزیز سرمائے کے ذریعے سے نفع حاصل کرنے کے بجائے اسے اللہ کے ساتھ شرک، اس کی نافرمانی اور قیامت کا انکار کرنے میں صرف کر دیا اور صریح خسارے میں رہے۔ اس خسارے کا پوری طرح اظہار اس وقت ہو گا جب قیامت قائم ہو گی، کیونکہ دنیا میں تو اس خسارے کی تلافی کا پھر بھی موقع موجود ہے مگر اس وقت بازارِ عمل میں واپس جانے کی اجازت ہی نہیں ہو گی کہ وہ اپنے خسارے کی تلافی کر سکیں۔ خسارے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عصر کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن باطل پرست خسارہ میں پڑ [40] جائیں گے
[40] باطل پرستوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو آخرت کے منکر ہوں۔ خواہ وہ دہریے ہوں، نیچری یا صرف آخرت کے منکر ہوں۔ ان لوگوں کو چونکہ اپنے اعمال کی بازپرس کا خیال تک نہ ہو گا۔ لہٰذا ایسے لوگوں نے اس خیال سے کوئی بھی نیک عمل نہ کیا ہو گا۔ اس دن انہیں پتا چلے گا کہ وہ کس قدر دھوکے میں پڑے ہوئے تھے اور اپنا کس قدر نقصان کر چکے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا ٭٭
اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں، لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں، تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا: ”کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔“ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور معافری رحمہ اللہ مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے۔ [ابن ابی حاتم]
فرمایا وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہو گا کہ ہر شخص گھٹنوں پر گر جائے گا۔ یہاں تک کہ خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اور روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام بھی۔ ان کی زبان سے بھی اس وقت «نفسی نفسی نفسی» نکلے گا۔ صاف کہہ دیں گے کہ ”اللہ آج ہم تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف اپنی سلامتی چاہتے ہیں۔“
عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ ”آج میں اپنی والدہ کے لیے بھی تجھ سے کچھ عرض نہیں کرتا بس مجھے بچا لے۔“
گو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر گروہ جداگانہ الگ الگ ہو گا لیکن اس سے اولیٰ اور بہتر وہی تفسیر ہے جو ہم نے کی یعنی ہر ایک اپنے زانو پر گرا ہوا ہو گا۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں، لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں، تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا: ”کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔“ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور معافری رحمہ اللہ مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے۔ [ابن ابی حاتم]
فرمایا وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہو گا کہ ہر شخص گھٹنوں پر گر جائے گا۔ یہاں تک کہ خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اور روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام بھی۔ ان کی زبان سے بھی اس وقت «نفسی نفسی نفسی» نکلے گا۔ صاف کہہ دیں گے کہ ”اللہ آج ہم تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف اپنی سلامتی چاہتے ہیں۔“
عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ ”آج میں اپنی والدہ کے لیے بھی تجھ سے کچھ عرض نہیں کرتا بس مجھے بچا لے۔“
گو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر گروہ جداگانہ الگ الگ ہو گا لیکن اس سے اولیٰ اور بہتر وہی تفسیر ہے جو ہم نے کی یعنی ہر ایک اپنے زانو پر گرا ہوا ہو گا۔
ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گویا کہ میں تمہیں جہنم کے پاس زانو پر جھکے ہوئے دیکھ رہا ہوں }۔
اور مرفوع حدیث میں جس میں صور وغیرہ کا بیان ہے یہ بھی ہے کہ { پھر لوگ جدا جدا کر دئیے جائیں گے اور تمام امتیں زانو پر جھکیں پڑیں گی }۔
یہی اللہ کا فرمان ہے «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [45-الجاثية:28]، اس میں دونوں حالتیں جمع کر دی ہیں، پس دراصل دونوں تفسیروں میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جیسے ارشاد ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [39-الزمر:69]، ’ نامہ اعمال رکھا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا ‘، آج تمہیں تمہارے ہر ہر عمل کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا۔
جیسے فرمان ہے «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» ۱؎ [75-القيامة:15-13] ’ انسان کو ہر اس چیز سے باخبر کر دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجی اور پیچھے چھوڑی اس کے اگلے پچھلے تمام اعمال ہوں گے بلکہ خود انسان اپنے حال پر خوب مطلع ہو جائے گا گو اپنے تمام تر حیلے سامنے لا ڈالے ‘۔
یہ اعمال نامہ جو ہمارے حکم سے ہمارے امین اور سچے فرشتوں نے لکھا ہے وہ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پیش کر دینے کے لیے کافی و وافی ہیں جیسے ارشاد ہے «وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا» ۱؎ [18-الكهف:49]، یعنی ’ نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا کہ گنہگار اس سے خوفزدہ ہو جائیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اور عمل نامے کی تو یہ صفت ہے کہ کسی چھوٹے بڑے عمل کو قلم بند کئے بغیر چھوڑا ہی نہیں ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب سامنے حاضر پا لیں گے، تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ہم نے محافظ فرشتوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ تمہارے اعمال لکھتے رہا کریں۔ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں، پھر انہیں لے کر آسمان پر چڑھتے ہیں، آسمان کے دیوان عمل کے رشتے اس نامہ اعمال کو لوح محفوظ میں لکھے ہوئے اعمال سے ملاتے ہیں جو ہر رات اس کی مقدار کے مطابق ان پر ظاہر ہوتا ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا ہے تو ایک حرف کی کمی زیادتی نہیں پاتے پھر آپ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی“ }۔
اور مرفوع حدیث میں جس میں صور وغیرہ کا بیان ہے یہ بھی ہے کہ { پھر لوگ جدا جدا کر دئیے جائیں گے اور تمام امتیں زانو پر جھکیں پڑیں گی }۔
یہی اللہ کا فرمان ہے «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [45-الجاثية:28]، اس میں دونوں حالتیں جمع کر دی ہیں، پس دراصل دونوں تفسیروں میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جیسے ارشاد ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [39-الزمر:69]، ’ نامہ اعمال رکھا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا ‘، آج تمہیں تمہارے ہر ہر عمل کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا۔
جیسے فرمان ہے «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» ۱؎ [75-القيامة:15-13] ’ انسان کو ہر اس چیز سے باخبر کر دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجی اور پیچھے چھوڑی اس کے اگلے پچھلے تمام اعمال ہوں گے بلکہ خود انسان اپنے حال پر خوب مطلع ہو جائے گا گو اپنے تمام تر حیلے سامنے لا ڈالے ‘۔
یہ اعمال نامہ جو ہمارے حکم سے ہمارے امین اور سچے فرشتوں نے لکھا ہے وہ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پیش کر دینے کے لیے کافی و وافی ہیں جیسے ارشاد ہے «وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا» ۱؎ [18-الكهف:49]، یعنی ’ نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا کہ گنہگار اس سے خوفزدہ ہو جائیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اور عمل نامے کی تو یہ صفت ہے کہ کسی چھوٹے بڑے عمل کو قلم بند کئے بغیر چھوڑا ہی نہیں ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب سامنے حاضر پا لیں گے، تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ہم نے محافظ فرشتوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ تمہارے اعمال لکھتے رہا کریں۔ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں، پھر انہیں لے کر آسمان پر چڑھتے ہیں، آسمان کے دیوان عمل کے رشتے اس نامہ اعمال کو لوح محفوظ میں لکھے ہوئے اعمال سے ملاتے ہیں جو ہر رات اس کی مقدار کے مطابق ان پر ظاہر ہوتا ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا ہے تو ایک حرف کی کمی زیادتی نہیں پاتے پھر آپ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی“ }۔