(آیت 20) ➊ {هٰذَابَصَآىِٕرُلِلنَّاسِ: ”بَصَآىِٕرُ“”بَصِيْرَةٌ“} کی جمع ہے، سمجھ میں آنے والی بات۔ {”لِلنَّاسِ“} کا لفظ عام ہے جس میں مسلم و کافر سب شامل ہیں۔ یعنی قرآن کریم کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں اور انھیں ان کے نفع و نقصان سے آگاہ کرنے والی ہیں، خواہ وہ انھیں مانیں یا نہ مانیں۔ ➋ {وَهُدًىوَّرَحْمَةٌلِّقَوْمٍيُّوْقِنُوْنَ:} یعنی اگرچہ قرآن کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو اس پر یقین رکھتے ہوں اور انھی کے لیے یہ ہدایت و رحمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَنُنَزِّلُمِنَالْقُرْاٰنِمَاهُوَشِفَآءٌوَّرَحْمَةٌلِّلْمُؤْمِنِيْنَوَلَايَزِيْدُالظّٰلِمِيْنَاِلَّاخَسَارًا» [بني إسرائیل: ۸۲]”اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 یعنی ان کے دلائل کا مجموعہ ہے جو احکام دین سے متعلق ہیں اور جن سے انسانی ضروریات و حاجات وابستہ ہیں۔ 20۔ 2 یعنی دنیا میں ہدایت کا راستہ بتلانے والا اور آخرت میں رحمت الٰہی کا موجب ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ یہ (قرآن) لوگوں کے لئے دلائل بصیرت کا مجموعہ ہے اور یقین رکھنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت [28] ہے۔
[28] قرآن سب لوگوں کے لئے رحمت کیسے ہے؟
یعنی اس قرآن میں بصیرت افروز دلائل تو سب لوگوں کے لیے موجود ہیں۔ لیکن ان دلائل سے فائدہ صرف وہ لوگ اٹھا سکتے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر جو لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں یہ کتاب دنیا میں زندگی گزارنے کے طریقہ کی مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ اس طریقہ زندگی پر عمل کرنے سے انسان کی آخرت بھی سنور جاتی ہے۔ یہ تو اللہ کی رحمت کا ایک پہلو ہوا کہ اس نے اس دنیا میں ہی اخروی زندگی کی فلاح و نجات کا طریقہ بتا دیا۔ اور اللہ کی رحمت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ قرآن زندگی گزارنے اور اس دنیا میں پرامن رہنے کے لیے سب انسانوں کے لیے ایسے متناسب اور متوازن اصول پیش کرتا ہے۔ جن سے سب لوگوں کے حقوق کی ٹھیک تعیین ہو جاتی ہے اور کسی کی حق تلفی نہیں ہوتی۔ انسان کی عقل اگر ہزاروں سال بھی تجربے کرتی اور ٹھوکریں کھاتی پھرتی تب بھی ایسے متوازن اور متناسب اصول دریافت نہ کر سکتی تھی۔ اللہ کی لوگوں پر خاص رحمت ہے کہ اس نے اس قرآن کے ذریعہ لوگوں کو ایسی ہدایات مفت میں دے دی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿هٰؔذَا ﴾ یعنی یہ قرآن کریم اور ذکر حکیم ﴿بَصَآىِٕرُلِلنَّاسِ ﴾”بصیرتیں ہیں لوگوں کے لیے۔“ یعنی اس کے ذریعے سے لوگوں کو تمام امور میں بصیرت حاصل ہوتی ہے اور اہل ایمان اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے﴿ لِّقَوْمٍیُّوْقِنُوْنَ ﴾”یقین رکھنے والوں کے لیے۔“ پس وہ اس کے ذریعے سے دین کے اصول و فروع میں صراط مستقیم کی طرف راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں بھلائی، مسرت اور سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور یہ رحمت ہے۔پس اس سے ان کے نفس پاک ہوتے ہیں، اس سے ان کی عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ان کا ایمان و ایقان بڑھتا ہے اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے، جو گمراہی پر اصرار کرتا اور عناد سے کام لیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {هذا} القرآن الكريم والذِّكْر الحكيم {بصائرُ للناس}؛ أي: يحصُلُ به التبصرةُ في جميع الأمور للناس، فيحصُلُ به الانتفاع للمؤمنين، {و} الهدى والرحمةُ {لقوم يوقنونَ}: فيهتدون به إلى الصراط المستقيم في أصول الدِّين وفروعه، ويحصُلُ به الخير والسرور والسعادة في الدُّنيا والآخرة، وهي الرحمة، فتزكو به نفوسُهم، وتزدادُ به عقولُهم، ويزيدُ به إيمانُهم ويقينُهم، وتقوم به الحجَّةُ على من أصرَّ وعاند.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔