ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 15

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ۫ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۵﴾
جس نے کوئی نیک عمل کیا تو وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ En
جو کوئی عمل نیک کرے گا تو اپنے لئے۔ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
En
جو نیکی کرے گا وه اپنے ذاتی بھلے کے لیے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے، پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ …:} اس آیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حم سجدہ کی آیت (۴۶) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی ہر گروہ اور فرد کا عمل، اچھا یا برا، اس کا فائدہ یا نقصان خود کرنے والے ہی کو پہنچے گا، کسی دوسرے کو نہیں اس میں نیکی کی ترغیب بھی ہے اور بدی سے ترہیب بھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ جس نے کوئی اچھا عمل کیا وہ اسی کے لئے [20] ہے اور اگر برا کرے گا تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے
[20] یعنی اگر کوئی شخص اچھا کام کرتا ہے تو اس سے اللہ کی نہ کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے اور نہ اسے کچھ فائدہ ہوتا ہے بلکہ اس کا فائدہ اچھا کام کرنے والے کی ذات ہی کو پہنچتا ہے اور وہ اس دنیا میں بھی پہنچتا ہے اور آخرت میں بھی پہنچے گا۔ یہ خطاب ربط مضمون کے لحاظ سے ان مسلمانوں سے ہے جو کفار مکہ کی سختیاں برداشت کر رہے تھے اور انہیں درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور برے کام کرنے والے یعنی اسلام کی راہ روکنے، مسلمانوں پر سختیاں کرنے اور مذاق اڑانے والے اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس کا وبال انہیں پر پڑے گا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور آخرت میں جب تم سب کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاں حاضر کرے گا تو تم سب لوگ ایک دوسرے کا انجام دیکھ لو گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔