ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 10

مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ جَہَنَّمُ ۚ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مَّا کَسَبُوۡا شَیۡئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ؕ۱۰﴾
ان کے آگے جہنم ہے اور نہ وہ ان کے کچھ بھی کام آئے گا جو انھوں نے کمایا اور نہ وہ جو انھوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنائے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ En
ان کے سامنے دوزخ ہے۔ اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے۔ اور نہ وہی (کام آئیں گے) جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے
En
ان کے پیچھے دوزخ ہے، جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا وه انہیں کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ وه (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ جَهَنَّمُ: وَرَاءٌ } کا معنی پیچھے بھی ہے اور آگے بھی۔ (دیکھیے کہف: ۷۹) کیونکہ یہ لفظ اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو نگاہ سے اوجھل ہو۔ یعنی جہنم ان کے تعاقب میں ہے، یا جہنم ان کے آگے تیار ہے۔ دونوں معنی درست ہیں۔
➋ { وَ لَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـًٔا:} یعنی نہ ان کا مال ان کے کام آئے گا، نہ ان کی آل اولاد (دیکھیے آل عمران: ۱۰) اور نہ ان کے اچھے اعمال، کیونکہ انھوں نے دنیا میں اگر کچھ اچھے اعمال کیے بھی ہوں گے تو صرف دنیا کی نیت سے کیے جانے کی وجہ سے آخرت میں کام نہیں آ سکیں گے، بلکہ برباد ہو جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان (۲۳) اور سورۂ کہف (۱۰۳ تا ۱۰۶)۔
➌ { وَ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَآءَ …:} یعنی ان کے وہ داتا و دستگیر جنھیں وہ قیامت کے دن عذاب سے بچانے کی امید پر پکارتے رہے اور ان کی پوجا کرتے رہے، وہ ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ظلم عظیم ہے، فرمایا: «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» ‏‏‏‏ [لقمان: ۱۳] بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ اسی مناسبت سے ان کے لیے عذابِ عظیم سنایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یعنی ایسے کردار کے لوگوں کے لئے قیامت میں جہنم ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ پھر اس کے بعد [11] ان کے لئے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا نہ تو وہ ان کے کچھ کام [12] آئے گا اور نہ وہ جنہیں انہوں نے اللہ کے سوا کارساز [13] بنا رکھا تھا، اور انہیں بڑا سخت عذاب ہو گا۔
[11] ﴿وراء﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿ورآء﴾ کا معنی آگے بھی اور پیچھے بھی، ادھر بھی اور ادھر بھی۔ اس لحاظ سے اس کے دو مطلب ہوئے۔ ایک یہ کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں ذلت کا عذاب ہو گا پھر اس کے بعد ان کے لیے عذاب جہنم بھی تیار ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اس ذلت کے عذاب کے بعد جہنم بھی ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔
[12] یعنی مال و دولت کام آئے گی اور نہ آل اولاد اور نہ ان کے اچھے اعمال۔ کیونکہ دنیا میں اگر انہوں نے کچھ اچھے عمل کئے بھی ہوں گے وہ برباد ہو جائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ کام اس نیت سے کئے ہی نہ تھے کہ وہ آخرت میں ان کے کام آئیں گے بلکہ ان کا آخرت پر یقین ہی نہیں تھا۔
[13] کارسازوں کی اقسام :۔
یہ اولیاء بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ ہستیاں جن کی سفارش پر اعتماد کر کے لوگ بے دھڑک گناہ کے کام کرتے رہتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم فلاں حضرت کی بیعت ہیں وہ ہمیں سفارش کر کے اللہ کی گرفت اور عذاب سے بچا لیں گے۔ دوسرے وہ چودھری قسم کے لوگ یا حکمران یا سیاسی لیڈر جن کی اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اس لیے اطاعت کی جاتی ہے کہ اطاعت کرنے والوں کے دنیوی مفادات ان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی کارساز وہاں کام نہ آئے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔