ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 1

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حم۔ En
حٰم
En
حٰم En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 1){ حٰمٓ: } حروف مقطعات کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

حم

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ ح۔ م

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں، پھر ان کا شکر بجا لائیں، دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے، جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے، فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بےشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔
دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے، رات کا اندھیرا، دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے، رزق سے مراد بارش ہے، اس لیے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہو جاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔
شمالی جنوبی پروا پچھوا تر و خشک، کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی والا کر دیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لیے چلتی ہیں۔
پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، پھر یقین والوں کے لیے فرمایا، پھر عقل والوں کے لیے فرمایا، یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورۃ البقرہ کی آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:164]‏‏‏‏ ہے۔ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنْزِیْلُ نازل کی گئی ہے۔﴿مِنَ اللّٰهِ اللہ کی طرف سے۔ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبرُ تعالى خبراً يتضمَّن الأمرَ بتعظيم القرآن والاعتناء به؛ أنَّه {تنْزيلٌ من اللهِ}: المألوه المعبود؛ لما اتَّصف به من صفاتِ الكمال، وانفردَ به من النعم، الذي له العزَّة الكاملة والحكمة التَّامَّة.